
تاکہ انہیں قابو میں رکھا جا سکے!
بہت طویل خدمات کے حامل ایک پیشہ ورانہ فوجی ہونے کے ناطے،
آپ کی پیشہ ورانہ رائے کیا ہے کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟
میری پیشہ ورانہ رائے یہ ہے کہ یہ سائٹیں جس طریقے سے بنائی گئی ہیں
میں اسے ”اناڑی” قرار دوں گا!
نا تجربہ کار اور غیر تربیت یافتہ لوگ
کہ جنہیں اس بڑے پیمانے پر (امدادی) آپریشن انجام دینے کا کچھ پتہ ہی نہیں
یہ میری مثبت ترین تحلیل تھی
جبکہ میں اپنی واضح رائے میں یہ کہوں گا کہ
یہ لوگ ”مجرم” ہیں
میں نے اپنے پورے کیریئر میں، ایک غیر فوجی آبادی کے خلاف اس حد تک بربریت اور طاقت کے اس اندھے و غیر ضروری استعمال کا کبھی مشاہدہ نہیں کیا
ایک غیر مسلح اور بھوک سے مرتی آبادی
ان تمام مقامات پر کہ جہاں مجھے جنگ پر تعینات کیا گیا
میں نے کبھی ایسی کسی چیز کا مشاہدہ نہیں کیا
یہانتک کہ میں غزہ پہنچا جہاں میں نے
اسرائیلی فوجیوں اور امریکی ٹھیکیدار کے ہاتھوں اس چیز کا مشاہدہ کیا!
آپ کے اس علم کی بناء پر،
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح آپ جنگی جرائم کے ”گواہ” بن گئے ہیں؟
میرا خیال ہے کہ آپ یہ بات انتہائی یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں!
بیشک! میں نے جنگی جرائم کا مشاہدہ کیا ہے!
میں نے دیکھا ہے کہ جنگی جرائم، اسرائیلی فوج کی جانب سے انجام پا رہے ہیں
بلا شک و شبہ…
بلاشک ایک غیر مسلح غیر فوجی ہجوم پر آرٹلری کے گولے، مارٹر گولے
اور ٹینک کے گولے فائر کرنا جنگی جرم ہے!
لوگ بھوک کے خلاف ایک لمبے عرصے تک مزاحمت کر سکتے ہیں لیکن ان کی قوت کم ہوتی چلی جاتی ہے اور آخر میں اموات کی تعداد انتہائی تیزی کے ساتھ بڑھنے لگتی ہے!
اور یہی وہ چیز ہے کہ جو اب غزہ میں رونما ہوتی نظر آ رہی ہے
اسرائیل کا اصرار تھا کہ اس کے فوجی، غزہ میں غیر فوجی لوگوں کو نشانہ نہیں بناتے
لیکن اس بات پر کہ
انہوں (اسرائیلیوں) نے یہ (جنگی جرائم) روزمرہ عادت کی طرح سے انجام دیئے ہیں، اب ہمارے پاس ایک قابل غور ثبوت کے طور پر عینی شاہد کی ”گواہی” موجود ہے!