وائٹ ہاؤس ریسٹورنٹ اور باتھ روم جیسا لگنے لگا ہے، سابق امریکی صدور کا ٹرمپ پر طنز
اوباما نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ مہنگائی اور معاشی مشکلات جیسے سنجیدہ مسائل حل کرنے کے بجائے غیر ضروری تنازعات میں الجھی ہوئی ہے
امریکا کے سابق صدور باراک اوباما اور بل کلنٹن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی زرق برق تزئین و آرائش کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بھڑکیلے ریسٹورنٹ اور باتھ روم سے تشبیہ دے دی۔
باراک اوباما نے جارجیا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کو ایسا بنا دیا ہے جیسے صدام حسین نے ’چیزکیک فیکٹری‘ ریسٹورنٹ کھول لیا ہو۔
اوباما نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ مہنگائی اور معاشی مشکلات جیسے سنجیدہ مسائل حل کرنے کے بجائے غیر ضروری تنازعات میں الجھی ہوئی ہے۔ حکومت مصنوعی غصے اور بیانات کے ذریعے عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا رہی ہے۔
دوسری جانب سابق صدر بل کلنٹن نے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن کی آرائش کو معروف موسیقار لیبراچی کے چمکیلے باتھ روم سے تشبیہ دی۔
ہیلری کلنٹن بھی اوول آفس میں سونے کے بے تحاشا استعمال کو ٹرمپ کی خودنمائی قرار دے چکی ہیں۔
🚨BILLL CLINTON HUMILIATES TRUMP
CLINTON: "I think Congress made a mistake not protesting turning the Rose Garden into what looks like the entrance to Liberace’s bathroom”#BlueWaveIn10Days pic.twitter.com/UbNXW8heSn—CALL TO ACTIVISM (@CalltoActivism) October 24, 2026



