پھیپھڑوں کا طاعون (نیومونک پلیگ pneumonic plague-) کیا ہے اور یہ مرض ایک انسان سے دوسرے انسان میں کیسے منتقل ہوتا ہے؟ ایس اے شہزاد
عالمی ادارہ صحت نے روس سے حال ہی میں ہونے والی مبینہ نمونیائی طاعون سے ہونے والی موت پر تفصیلات طلب کرلیں۔
نمونیائی طاعون (پھیپھڑوں کا طاعون) ایک نہایت ہی مہلک اور تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے، جو علاج نہ ملنے کی صورت میں ہر حال میں موت کا سبب بنتا ہے۔یہ بیکٹیریا کے جسم میں داخل ہونے کے ایک سے تین دن کے اندر ہی اپنی علامات ظاہر کرنا شروع کردیتاہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے روس سے سائبیریا کی ایک طاعون ریسرچ لیبارٹری میں ملازم کی ہلاکت کے حوالے سے مزید تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ اگرچہ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مذکورہ ملازم کس وجہ سے اس مہلک بیماری کا شکار ہوا، تاہم میڈیا رپورٹس نے قیاس آرائیوں کا ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ روسی حکام ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے تاحال تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ متوفی محقق کے زیرِ رابطہ آنے والے تمام افراد کے نیومونک طاعون (Pneumonic Plague) کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیومونک طاعون آخر ہے کیا، اور یہ کتنا خطرناک ہے؟
نیومونک طاعون کیا ہے؟
نیومونک طاعون پھیپھڑوں کا ایک انتہائی شدید انفیکشن ہے، جسے عام طور پر طاعون کی سب سے مہلک اور خونخوار شکل قرار دیا جاتا ہے۔ طاعون کی دو دیگر اقسام بھی ہیں: ایک ’ببلونک‘ (Bubonic) جو غدود (lymph nodes) کو متاثر کرتی ہے، اور دوسری ’سیپٹیسمک‘ (Septicaemic) جو خون پر اثر انداز ہوتی ہے۔ نیومونک طاعون ان دونوں میں سے کسی بھی قسم کے ابتدائی انفیکشن کے بعد بھی جنم لے سکتا ہے۔ اس کی علامات میں سانس کا اکھڑنا، سینے میں درد اور اکثر کھانسی کے ساتھ خون آنا شامل ہے۔ اسے ببلونک طاعون کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک لیکن کم پائے جانے والی قسم سمجھا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں طاعون کی ان تینوں اقسام کے سالانہ کیسز کی تعداد بدلتی رہتی ہے، جو غالباً 1,000 سے 3,000 کے درمیان ہوتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کیسز ببلونک طاعون کے ہوتے ہیں، جن کی بڑی تعداد وسطی افریقہ میں سامنے آتی ہے، تاہم روس، بھارت، چین اور امریکہ سمیت دیگر خطوں میں بھی اس کے کیسز رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں غربت سے جڑے متعدی امراض کے پروفیسر، پیرو اولیارو کا کہنا ہے:
"طاعون خود اب تک ختم نہیں ہوا؛ اس کا سبب بننے والا بیکٹیریا ‘یرسینیا پیسٹس’ (Yersinia pestis) دنیا کے کئی حصوں میں جانوروں کے اندر موجود ہے۔ کترنے والے چھوٹے جانوروں (Rodents) کی تقریباً 200 اقسام اس بیکٹیریا کی آماجگاہ ہیں، اور ان کے یہ ذخائر براعظم امریکہ، یوریشیا اور افریقہ میں پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں میں اس کے اکا دکا کیسز سامنے آتے رہتے ہیں، لیکن منظم نگرانی، انفیکشن کنٹرول کے اقدامات اور اینٹی بائیوٹکس کا مؤثر استعمال اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اہم ہتھیار ہیں۔”
یہ کیسے پھیلتا ہے؟
طاعون ایک متعدی بیماری ہے جو عام طور پر چھوٹے دودھ پلانے والے جانوروں اور ان کے جسم پر پائے جانے والے پسوؤں (Fleas) میں موجود بیکٹیریا کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ کسی متاثرہ پسو کے کاٹنے یا متاثرہ جانور کو چھونے سے آپ اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تاہم، نیومونک طاعون کا ایک انسان سے دوسرے انسان میں پھیلاؤ بھی ممکن ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی مریض ہوا میں کھانستا ہے اور اس کے منہ سے نکلنے والے باریک قطرے دوسرا شخص سانس کے ذریعے اندر لے جاتا ہے، اگرچہ اس کے لیے مریض کے انتہائی قریب ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، اگر آپ پہلے سے سیپٹیسمک طاعون کا شکار ہوں اور یہ انفیکشن پھیپھڑوں تک پھیل جائے، تب بھی نیومونک طاعون لاحق ہو سکتا ہے۔
کچھ نظریات یہ بھی بتاتے ہیں کہ چودہویں صدی میں یورپ کے کروڑوں انسانوں کو نگل جانے والی ہولناک وباء، جسے ‘بلیک ڈیتھ’ (Black Death) کہا جاتا ہے، کے پیچھے اصل محرک یہی نیومونک طاعون تھا۔
جامعہ برمنگھم میں وائرل ایمیونولوجی (وائرس کے خلاف مدافعتی نظام) کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر زینیہ اسٹاماٹاکی کا کہنا ہے کہ محققین کے لیے طاعون جیسی بیماریوں پر تحقیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، "میں اس بات کو بخوبی سمجھتی ہوں کہ لیبارٹری میں طاعون کی موجودگی کا تصور لوگوں کے لیے کیوں خوف کا باعث بنتا ہے، اس لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ تحقیق کیوں کی جا رہی ہے۔ طاعون کوئی ماضی کا قصہ نہیں ہے۔ یہ آج بھی افریقہ، ایشیا اور امریکی براعظموں میں چوہوں اور دیگر کترنے والے جانوروں کی آبادی میں مستقل طور پر موجود ہے، اور ہر سال اس کے انسانی کیسز سامنے آتے ہیں، جن میں پھیپھڑوں کے طاعون (نیومونک پلیگ) کی وبائیں بھی شامل ہیں۔” وہ مزید کہتی ہیں، "تشخیص، ویکسین کی تیاری اور اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف بیماری کی مزاحمت پر نظر رکھنے کے لیے ایسی لیبارٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں اس زندہ جرثومے کو رکھ کر اس پر تحقیق کی جا سکے۔ یہ کام کسی بھی ممکنہ وبا سے نمٹنے کی تیاری کے لیے ناگزیر ہے۔”
کیا اس کا علاج ممکن ہے؟
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، پھیپھڑوں کے طاعون کا انکیوبیشن پیریڈ (جسم میں جرثومہ داخل ہونے سے علامات ظاہر ہونے تک کا وقت) بہت کم ہوتا ہے—بعض اوقات صرف 24 گھنٹے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بروقت اس کی تشخیص اور علاج نہ کیا جائے، تو یہ مرض تقریباً ہمیشہ ہی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ تاہم، خوش آئند بات یہ ہے کہ اگر علاج جلد شروع کر دیا جائے تو طاعون اینٹی بائیوٹک ادویات کے اثر کو تیزی سے قبول کرتا ہے۔
امپیریل کالج لندن میں بیکٹیریل ویکسینولوجی کے کلینیکل ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ملک گبانی کہتے ہیں کہ اس انفیکشن کو عوامی صحت کے لیے ایک سنگین خطرے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ، "پھیپھڑوں کا طاعون اس بیماری کی ایک انتہائی شدید اور خطرناک شکل ہے۔ بعض درسی کتب کے مطابق اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو شرحِ اموات 100 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، اور موجودہ دور میں اس کے بالکل درست اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل کام ہے۔ اینٹی بائیوٹک ادویات سے اس کا علاج ممکن ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب دوا جلد شروع کر دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کو، جس کے اس مرض سے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہو، احتیاطی طور پر پیشگی اینٹی بائیوٹک ادویات (پوسٹ ایکسپورژر پروٹیکٹِک میڈیسن) اور/یا قرنطینہ کی پیشکش کی جا سکتی ہے۔”
روس کے حالیہ واقعے میں ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص پھیپھڑوں کے طاعون ہی سے متاثر تھا یا نہیں۔ روسی حکام نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیسٹوں سے مریض کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے وابستہ کسی بھی جرثومے کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا—چنانچہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اس معاملے پر "بڑی گہری” نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (CDC) کا کہنا تھا کہ "امریکہ کے لیے کسی وسیع تر خطرے کے کوئی آثار نہیں ہیں”۔ برطانیہ کی ہیلتھ اینڈ سیفٹی اتھارٹی نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں، تاہم برطانوی عوام کے لیے اس کا خطرہ "نہ ہونے کے برابر” ہے۔



