محمد اکبر زادہ
سیاسی و عسکری تجزیہ کار
دنیا بھر کے ممتاز ماہرین اور بین الاقوامی علمی مراکزکا کہنا ہے کہ امریکی زوال کا شکار ہیں
زوال کا مطلب بھی سرے سے ختم ہو جانا نہیں ہے
اس کی مثال انسانی جسم کے جیسی ہے کہ ایک وقت میں وہ جوان ہوتا ہے لیکن جب اس کی عمر بڑھتی ہے
اور وہ بڑھاپے کی جانب جاتا ہے تو اس میں وہ پہلے والی طاقت نہیں رہتی لیکن وہ زندہ ضرور ہوتا ہے
لیکن اب وہ اپنی اتحاد سازی اور تسلط پسندی والی طاقت نہیں رکھتا!
امریکی زوال کا شکار ہیں اور یہ اقدامات، میرے خیال میں، ان کی جانب سے ہاتھ پیر مارنے کے مترادف ہیں
کیونکہ زوال کا ایک حصہ ”سلسلہ جاتی” ہے اور دوسرا ”منصوبہ جاتی”
سلسلہ جاتی اس اعتبار سے کہ امریکیوں کا، فطری طور پر 2030ء تک، کام تمام ہے
(اس زوال کا) دوسرا حصہ منصوبہ جاتی ہے، یعنی اگر وہ انسانی عوامل و فوجی اعتبار سے حالات کو کسی ایسی جانب لے جانا چاہیں کہ جہاں وہ اپنے خیال میں نجات پیدا کر سکیں
پھر اس طرح سے دنيا بھر میں ان کی جانب سے غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی کوئی خبر نہ ہو گی!
لیکن یہ.. یہ..
۔ دنیا میں یکطرفہ (Monopolar) نظام تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہے اور
جی، طاقت کے نظام میں تبدیلی، مغرب سے مشرق کی جانب ہے.. جی بالکل
۔ اور وہ اتحاد کہ جو اس (کثیر الجہتی – Multipolar کی) جانب بن رہے ہیں،
۔ شنگھائی، برکس وغیرہ.. یکطرفہ نظام کا خاتمہ کر رہے ہیں
۔ جبکہ امریکیوں کی سرتوڑ کوشش ہے کہ کسی بھی طرح، اس پہلے کی صورتحال پر واپس پلٹیں اور اسے باقی رکھ سکیں!
جی، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اب ایک مرتبہ پھر وہ حساب کتاب کی غلطی کا مرتکب ہو رہے ہیں
کیونکہ اگر وہ خطے میں کوئی اقدام اٹھانا چاہیں تو ”منصوبہ جاتی زوال” وقوع پذیر ہو جائے گا!
یعنی انہیں پھر یقینی طور پر یہاں سے.. بقول رھبر انقلاب اسلامی، کہ ”سخت انتقام” ان (امریکیوں) کا مغربی ایشیا اور اس خطے سے انخلاء ہے، وقوع پذیر ہو جائے گا.. وہ بھی غیور ایرانی عوام اور عزیز ایرانی قوم کے ہاتھوں!
لہذا اب وہ (امریکی، ایران پر حملے کے) اس کھیل میں کودنے کو تیار ہو رہے ہیں
کیونکہ صیہونی ریجیم اس حوالے سے امریکہ کو بلیک میل کر رہی ہے اور اس پر دباؤ ڈال رہی ہے
اس لئے کہ نیتن یاہو اس کے ذریعے آئندہ سال کریڈٹ حاصل کرنا چاہتا ہے
کیونکہ اس کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ وہ مزید حکومت میں نہ رہے اور اس کی پارٹی بھی ووٹ حاصل نہ کر سکے
اس حوالے سے وہ اس معاملے کو منصوبہ جاتی انداز میں آگے بڑھانا چاہتا ہے
البتہ اسلامی جمہوریہ ایران ان کے سامنے ایک دیوار ہے کہ جس نے ابراہم معاہدے نہیں ہونے دیئے،
گریٹر مڈل ایسٹ نہیں بننے دیا اور نہ ہی نیل تا فرات (تک اسرائیل) کو شرمندہ تعبیر ہونے دیا ہے!
لہذا یہ تمام (امریکی اقدامات) زیادہ تر نفسیاتی میدان میں
اور ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں کہ جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا
اور اس (اسلامی جمہوریہ) نظام حکومت نیز عوام و حکام، عوام و مسلح افواج
اور بالآخر عوام کے اپنے درمیان بھی شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے
اور یہ بات مکمل طور پر واضح ہے جبکہ آزمائے ہوئے کو آزمانا.. میرے خیال میں ”خطا” ہے