ہائے دوستو.. اس وقت ہمارے ساتھ ایک اور انتہائی مشہور اور پہلی مرتبہ آنے والے مہمان موجود ہیں،
پروفیسر جینگ ھی، جنہوں نے معروف یوٹیوب چینل بنایا
جس میں وہ "پیش گوئی” پر مبنی تاریخ پر بحث اور گیم پر مبنی ماضی و حال کے تجزیئے کے ذریعے مستقبل کے جغرافیائی-سیاسی حوادث کی پیش گوئی کرتے ہیں
اس وقت وہ ہمارے ساتھ ہیں، پروفیسر خوش آمدید..
– خوش آمدید جناب!
– میرے لئے بھی باعث مسرت ہے!
جی بالکل! وہ لوگ جو آپ کے کام سے واقف ہیں، میں اُنہیں سال 2024ء کا کلپ دکھانا چاہتی ہوں..
جس میں آپ نے 3 بڑی پیش گوئیاں کی تھیں:
پہلی: کہ ٹرمپ (الیکشن) جیت جائے گا
دوسری: کہ وہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑے گا
اور تیسری: کہ امریکہ ایران کے خلاف یہ جنگ "ہار” جائے گا..
آئیے دیکھتے ہیں
اس کلاس میں، اس سمسٹر میں۔ مَیں 3 بڑی پیش گوئیاں کرنے جا رہا ہوں، صحیح..
پہلی: یہ کہ ٹرمپ، نومبر میں (انتخابات) جیت جائے گا
دوسری: یہ کہ امریکہ، ایران کے خلاف جنگ چھیڑے گا
اور تیسری بڑی پیش گوئی یہ ہے کہ امریکہ یہ جنگ "ہار” جائے گا
جس کے باعث دنیا کا نظام ہمیشہ کے لئے بدل جائے گا!
ظاہرا یہ آخری پیش گوئی ہی تاحال واقع نہیں ہوئی
تو کیا آپ اب بھی اس پر قائم ہیں اور آپ نتیجے کے طور پر کیا دیکھ رہے ہیں؟
جی، دنیا کی پیشرفت کے بارے میرے تجزیئے کے مطابق
میرا خیال ہے کہ ایران کو، امریکہ پر متعدد لحاظ سے برتری حاصل ہے
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت، یہ جنگ، ایران اور امریکہ کے درمیان "ثقافت کی جنگ” ہے
اور ایرانی، اس لڑائی کے لئے 20 سال سے تیاری کرتے آ رہے ہیں
اُن کی نفسیات، ان کے مذہب میں.. یہ جنگ، بڑے شیطان (شیطان بزرگ) کے خلاف جنگ ہے
جیسا کہ گذشتہ جون میں، 12 روزہ جنگ کے دوران
ایرانیوں نے اسرائیل اور اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جنگی صلاحیت کا بھی اندازہ لگایا
جس کے بعد، اس نئے حملے سے مقابلے کے لئے مکمل تیاری کی خاطر
اُن کے پاس بطور کافی، 8 ماہ کا وقت تھا
پس وہ اپنی پراکسیوں؛ حوثی، حزب اللہ، حماس اور شیعہ ملیشیاؤں.. کے ذریعے
امریکی حوصلے کو حقیقی طور پر پست کر دینے کے قابل ہو گئے
اور اب.. وہ امریکی سلطنت کو کمزور بنانے اور بالآخر اُسے ختم کر ڈالنے سے متعلق
انتہائی اچھی حکمت عملی پر کار بند ہیں
لہذا، اب ایرانی کیا کر رہے ہیں..
وہ پوری عالمی معیشت کے خلاف جنگ چھیڑ رہے ہیں
لہذا وہ جی سی سی (خلیجی) ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں
اور وہ صرف ان ممالک کو اور ان میں موجود امریکی اڈوں کو ہی نشانہ نہیں بنا رہے
بلکہ وہ ان اڈوں میں موجود انتہائی اہم توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں
اور انہوں نے آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا ہے
اور بالآخر وہ "پانی کی صفائی کے کارخانوں” کو بھی نشانہ بنائیں گے
جبکہ یہ کارخانے ان ممالک کی رگِ حیات ہے کیونکہ ان کے پاس تازہ پانی کا کوئی ذریعہ نہیں
درحقیقت، پانی کی صفائی کے یہ کارخانے جی سی سی ممالک کی ضرورت کا 60 فیصد فراہم کرتے ہیں
لہذا اگر کوئی ڈرون.. ان ڈرونز کی قیمت 50 ہزار ڈالر ہے
اگر وہ ریاض، سعودی عرب میں پانی کی صفائی کے کارخانے کو تباہ کر دیں،
جو 1 کروڑ لوگوں کی ضرورت کو پورا کرتا ہے.. صحیح؟
تو وہ صرف 2 ہفتوں میں ہی پانی سے محروم ہو جائیں گے..
دو ہفتوں میں..!
اور اس وقت ایرانی، آبنائے ہرمز کو بند کر دینے کے درپے ہیں
جبکہ جی سی سی ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنی 90 فیصد خوراک حاصل کرتے ہیں
البتہ میں جانتا ہوں کہ ہم عالمی معیشت کو لاحق تعطل کے بارے بات کر رہے ہیں، لیکن اس وقت ایرانی؛ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کی حقیقی موجودگی کو خطرہ لاحق کر رہے ہیں
اور جو چیز اہم ہے، یہ ہے کہ خلیجی ممالک، امریکی معیشت کا حقیقی ستون ہیں!
وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ (تیل کو) پیٹرو ڈالر میں بیچتے ہیں جبکہ یہی پیٹرو ڈالر،
واپس امریکی معیشت میں، خوراک کی سرمایہ کاری اور اسٹاک مارکیٹ میں لگایا جاتا ہے
اور ہم جانتے ہیں کہ پوری امریکی معیشت اس وقت AI انویسٹمنٹ اور ڈیٹا سنٹرز سے بھر چکی ہے
جس کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے
لہذا اگر خلیجی ممالک مزید تیل نہ بیچ پائیں.. اور مزید رقوم اکٹھی نہ کر سکیں..
تو AI (مصنوعی ذہانت) کے منصوبے ممکنہ طور پر تباہ ہو جائیں گے
جس کے ساتھ ہی پوری امریکی معیشت بھی تباہ ہو جائے گی
جو مالی اعتبار سے حقیقی طور پر داؤ پر لگی ہے
لہذا یہ وہ تاریک صورتحال ہے کہ جس کا اس وقت امریکہ کو سامنا ہے