
آج اسرائیلی فوج کی اصلی پریشانی کیا ہے؟
یہ کہ آج ھم ایک ایسے معاہدے سے روبرو ہیں کہ جس کا نتیجہ، تھران میں مزید سخت، مزید انتقام لینے والی اور انتہائی دولتمند حکومت ہے!
ایک ایسی حکومت کہ جو ممکنہ طور پر 200 سے 240 ارب ڈالر وصول کرے گی جس کا نتیجہ جوہری و میزائل پروگرام کی پیشرفت ہو گا
ایرانی اب مزید لانچر بنائیں گے، مزید بیلسٹک میزائل بنائیں گے اور اپنی جوہری تنصیبات زمین کی مزید گہرائیوں تک لے جائیں گے..
اس طرح سے کہ پھر امریکی بمبار طیارے
اور ہمارے لڑاکا ہوائی جہاز انہیں نشانہ نہ بنا سکیں
اسرائیل حتی (ایرانی) سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جانب بھی نہ پلٹ پائے گا کہ جس پر وہ جنگ سے قبل عمل پیرا تھا
یعنی ”کھلی لڑائی کی سطح” سے نیچے رہتے ہوئے ایک جنگ
ایک ایسی سطح پر کہ جس کا انکار ممکن ہو
اب دیکھتے ہیں کہ اس حقیقت کا، اسرائیل کے اردگرد موجود ”فائر رنگ” کہلوانے والے محاذ پر کیا اثر ہو گا
سب سے پہلے لبنان ہے کہ جس کے بارے ایک چیز واضح ہے:
محاذوں کو علیحدہ اور ٹرمپ کو اس بات پر قائل کرنے کی اسرائیلی کوشش کہ لبنان صرف اسرائیل کی علیحدہ جنگ ہے، شکست کھا چکی ہے
ایرانی، لبنان میں جنگ کے مکمل خاتمے کے خواہاں ہیں
اور زیادہ احتمال بھی یہی ہے کہ وہ اس خواہش تک پہنچ جائیں گے
اسی طرح توقع ہے کہ وہ ”یلو لائن” کہلوانے والی حدود سے بھی اسرائیل کی عقب نشینی کا مطالبہ کریں گے
وہی ”2026” ماڈل کی سکیورٹی لائن کہ جو اسرائیل نے
ماہ فروری سے لبنان میں بنا رکھی ہے
بنابرایں؛ ہم ایران کے خلاف دو جنگوں میں ابھی تک کوئی تزویراتی کامیابی حاصل نہیں کر پائے، نہ ایران میں اور نہ ہی لبنان میں!
دوسری جانب یہ ایران ہی ہے
کہ جو اسرائیل کے سامنے ضوابط اور جنگی مساوات متعین کر رہا ہے
۔ جی جی.. لگتا ایسا ہے کہ نہ صرف؛ اسرائیل اس حوالے سے شکست سے دوچار ہے
بلکہ ماجرا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس کارزار میں ایران فتحیاب ہوا ہے