◷

حضرت امام حسین علیہ السلام کے بارے سعودی عالم دین کا روح افزاء بیان

29 ستمبر 2026

.

شیخ صالح المغامسی

امت میں تفرقہ اندازی کسی کے لئے بھی جائز نہیں
بالخصوص اس شخص کے لئے کہ جو تاریخ سے بھی واقف ہو

ہمیں پتہ ہونا چاہئے کہ یزید بن معاویہ نے حسین(ع) اور اہل مدینہ
کے حق میں کیا کچھ کیا.. اس نے اہل مدینہ کی حرمت مباح قرار دیدی تھی

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہے کہ اللہ تعالی اس شخص کو کہ جو اہل مدینہ کو ضرر پہنچانا چاہتا ہو، ایسے برباد کرتا ہے جیسے پانی میں نمک

اور اسی طرح آپ(ص) نے فرمایا کہ جو شخص اہل مدینہ کو ڈرائے
گویا اس نے مجھے ڈرایا!

لیکن یہ مجرم يزيد بن معاویہ آتا ہے اور اہالی مدینہ کے حق میں ایسے جرائم کے ارتکاب کے لئے اپنے جیسے ایک دوسرے مجرم کو مسلط کر دیتا ہے

اب ہم حسین رضوان اللہ تعالی علیہ کے بارے بات کی جانب واپس پلٹتے ہیں

شیعہ برادران ان کو "امام شہید” کے نام سے پکارتے ہیں

اس بارے کہ وہ امام ہیں..
ان کی امامت میں کوئی عقلمند شخص جھگڑا نہیں کرتا

خدا کی قسم وہ ہر خیر میں امام ہیں؛ وہ تقوی میں امام ہیں، علم میں امام ہیں، ورع میں امام ہیں.. ہر میدان میں امام ہیں.. اس میں کوئی تنازعہ نہیں!

اور اس بات میں بھی کوئی جھگڑا نہیں کہ وہ شہید ہیں؛
خدا کی قسم وہ دشمنی اور عداوت کے ذریعے مظلومانہ انداز میں شہید کئے گئے

اس شخص پر الله کی لعنت کہ جس نے انہیں شہید کیا؛ اور
اس شخص پر اللہ کی لعنت کہ جس نے اُنہیں شہید کرنیکا حکم دیا؛ اور
اس شخص پر اللہ کی لعنت کہ جو ان کے قتل پر راضی ہوا

اگر کوئی جو خود کو اہل سنت کہلواتا ہے، ان (حضرت امام حسین علیہ السلام) کی شہادت کے بارے غلطی کرے تو اس کا جواب دیا جانا چاہئے

ابوبکر بن عربی کا کتاب "العواصم من القواصم” میں لکھنا ہے کہ
حسین(ع) بن علی(ع) اپنے جد کی تلوار سے قتل ہوئے

اس طرح کے بیان انتہائی گھٹیا و شنیع ہیں
جو جہالت محض محسوب ہوتے ہیں

ہمیں اس طرح کے بیانات کا جواب دینا چاہیئے
اور اس بارے ہمیں  کسی قسم کی سستی و تسامح سے کام نہیں لینا چاہئے

ایسے نہیں کہنا چاہیئے
کہ حسین(ع) بن علی(ع) اپنے جد کی تلوار سے قتل ہوئے

کیونکہ اگر ہم حسین(ع) کو خارجی (باغی) قرار دیں تو پھر رسول خدا(ص) کے اس قول کا کیا کریں: سیدا شباب اھل الجنہ (وہ جنتی جوانوں کے سردار ہیں)

یہ دعوی سرے سے معقول ہی نہیں
۔ اس میں تناقض ہے..
۔ اس میں تناقض ہے.. جی اس میں بہت بڑا تناقض ہے

اور آپ(ص) نے ان کے بارے حضرت فاطمہ(ع) سے فرمایا:
آپ کا یہ بیٹا قیامت کے روز میرے ساتھ ہو گا، ایک ہی مقام و مرتبے پر

کیسے تم کہتے ہو کہ خوارج اہل جہنم کے کتے ہیں، پھر تم کہتے ہو کہ حسین(ع)  خارجی ہیں اور پھر کہتے ہو کہ حسین(ع) جنتی جوانوں کے سردار ہیں!

یہ باتیں قابل قبول نہیں

یہ ہستیاں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہلبیت ہیں
اور ہم ان سے محبت کو دین کا لازمی جزو سمجھتے ہیں

اس بارے شاعر فرزدق کا کہنا ہے:

ان کی محبت، سچائی کی دلیل
اور ان سے بغض، کفر و نفاق کو ظاہر کرتا ہے

ان کا قرب بلندی اور جلال کی بنیاد
اور ان سے دوری ضلالت کی موجب ہے

وہ فاطمه(س) کے فرزند ہیں اور اگر تم اب بھی انہیں نہیں پہچانتے
تو جان لو کہ ان کے جد، خاتم الانبیاء(ص) ہیں

اور اگر قریش انہیں دیکھیں تو کہتے ہیں کہ
انہی کا مکارم اخلاق ہے کہ جہاں کرم کی انتہاء ہوتی ہے

ان باتوں کا مقصد، اس مصیبت کا ذکر ہے کہ جو
حضرت ابا عبد الله حسین بن علی(ع)  پر گزری

لہذا اس بات میں کوئی شک و شبھہ نہیں کہ امام حسین(ع) کی شہادت
امت مسلمہ کے گلے میں کانٹا ہے کہ جو روز قیامت تک باقی رہے گا!


You may also like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے