امریکی و اسرائیلی ماہرین کے زبانی ایران کیخلاف اسرائیل کی نئی جنگ

اگر وہ کل تک اس مطالبے پر راضی تھے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا..

پال رابرٹس، سابق عہدیدار،
امریکی وزارت خزانہ

تو آج وہ کہتے ہیں کہ ایران کے پاس بیلسٹک میزائل بھی نہیں ہونے چاہئیں.. ہا ہا..

البتہ انہیں یونہی کہنا بھی چاہیئے.. کیونکہ وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان لگنے والی اس مختصر، بہت مختصر جنگ میں جان گئے ہیں کہ ایران عملی طور پر اسرائیل کو تباہ کر سکتا ہے!

اور میری نظر میں..
ایران نے اسرائیل کو تباہ نہ کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے!!

ایران کو اپنے مسلسل تحمل اور تحمل.. اور بردباری سے کچھ حاصل نہیں ہوا

اب وہ اپنے مطالبات دو برابر کر رہے ہیں
اب وہ کہتے ہیں کہ آپ نہ صرف جوہری توانائی، بلکہ میزائل بھی نہیں رکھ سکتے

اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ (ایرانی) جوہری ہتھیار بنا رہے ہیں!
البتہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ دعوی درست ہے یا نہیں!!

انہوں نے معاہدہ کر رکھا تھا جس میں ایرانیوں نے قول دیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور انسپکٹر تنصیبات کے معائنے کیا کرتے تھے

اور پھر اچانک ہی وہ (امریکی) کہنا شروع ہو گئے کہ ہمیں اس معاہدے سے جان چھڑا لینی چاہیئے.. کیونکہ یہ ہمارے پراپیگنڈے کے ساتھ میل نہیں کھاتا

لہذا؛ کسی نہ کسی طرح ہم نے اس معاہدے کو سبوتاژ کر ہی دیا..

میرے خیال میں وہ کام جو ہم نے کیا یہ ہے کہ
ہم نے اسرائیل کو اہداف کی اطلاعات پہنچانے کے لئے انسپکٹرز کو  استعمال کرنا شروع کیا!!

اور اس طرح سے ہم نے ایرانی حکومت کے ساتھ دستخط شدہ اس معاہدے کو توڑ ڈالا
کہ جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے اور

انسپکٹرز کی جانچ پڑتال کو قبول کرنے کا پابند تھا
تاکہ اس بارے اطمینان حاصل کیا جا سکے کہ اس کا جوہری پروگرام اسلحہ جاتی نوعیت کا نہیں!

اور مجھے ”ایرانی دہشتگردی” کا بھی معلوم نہیں!

میں ”ایران مخالف ہر قسم کی دہشتگردی” کو تو جانتا ہوں
اسرائیل کے ہاتھوں ہر قسم کے ایرانی رہنماؤں اور عہدیداروں کی ٹارگٹ کلنگ..

لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کون سے دہشتگردانہ اقدامات ہیں کہ
جن کا الزام مارکو روبیو ایران پر عائد کرتا ہے..

وہ کون سے دہشتگردانہ اقدامات ہیں؟ ؟

یہ درست ہے کہ ایران نے شام میں اسدکی مدد سے اور اس سے قبل صدام حسین کے زیر تسلط عراق کے ذریعے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کو ہتھیار پہنچائے ہیں

تاکہ جنوبی لبنان پر اسرائیل کے قبضے کے دوران حزب اللہ ملیشیا مزاحمت کر سکے!

لیکن اس (ایران) نے حزب اللہ کو جارحیت يا اسرائیل پر حملے کی کبھی ترغیب نہیں دی.. یہ صرف ایک دفاعی پروگرام تھا..

میں نہیں جانتا کہ یہ ”ایرانی دہشتگردی” کیا ہے..
لیکن لگتا ایسا ہے کہ اس کو تازہ برانڈ کیا جا رہا ہے!!

کیونکہ اس بات کو اتنی بار کہا گیا ہے کہ اگر آپ کسی عام آدمی سے بھی بات کریں..
مثلا اگر کسی دکان پر بھی چلے جائیں تو وہ کہیں گے کہ جی ہاں! یہ (ایرانی) دہشتگرد ہیں

لیکن کیوں؟  مگر ایسا انہوں نے کیا کیا ہے؟

میرے خیال میں وہ (نیتن یاہو) ایران کے ساتھ اپنی مختصر جنگ میں جان گیا ہے کہ اسرائیل کو نقصان پہنچے گا اور ایران اپنے میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کو تباہ کر سکتا ہے

لہذا اب وہ دوبارہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتے
اور ہمیں کہتے ہیں کہ ہم یہ کام کریں!

اور واشنگٹن میں ملاقات کی کہانی بھی یہی ہے!
مگر اس کے علاوہ ہو بھی کیا سکتی ہے؟ غزہ میں امن و امان..؟ ہاہاہا.. غزہ میں جنگبندی..؟

آج جنگبندی کا کتواں دن ہے..
اور آج تک کتنے فلسطینی مارے جا چکے ہیں..؟؟  ہاہاہا.. ہاہا..

آج ہم ایک جھوٹی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں!

او.. غزہ میں جنگبندی ہے.. میں امن قائم کرنے والا ہوں.. ٹرمپ کہتا ہے..
میں نے غزہ میں امن و امان برقرار کر دیا ہے.. ہاہا..

خوب.. اور کوئی اس سے یہ تک نہیں پوچھتا کہ تم کہہ کیا رہے ہو!!

اسرائیلی چینل 14

ہم اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے کہ ایران کسی موثر حیثیت تک پہنچ جائے!

فی الحال جوہری مسئلے کو ایک طرف رکھ دیں..
جوہری مسئلے کی اپنی علیحدہ بحث ہے کہ جس پر اپنے وقت میں بات کریں گے

لیکن ہمیں ایران کو کسی ایسے مقام پر نہیں پہنچنے دینا چاہیئے کہ جہاں وہ اسرائیل کے لئے خطرہ ہو
اور 500 یا 600 بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ہم پر حملہ کرنے کا سوچے!

ہم نے دیکھ لیا ہے کہ یہ میزائل کیا کرتے ہیں اور کس قدر خطرناک ہیں.. حتی اگر ان کی کم تعداد بھی آ لگے.. مثلا 10 فیصد،
تب بھی اسرائیل کے لئے بڑی مشکل پیش آئےگی!

1views

You may also like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے