ڈاکٹر سید مصطفی خوش چشم
ایرانی ماہر تزویراتی امور
خوب، میرا سوال یہ ہے، کہ یہ کونسا تزویراتی ہدف ہے..
دیکھیں، یہ دو اور دو چار کے جیسی سادہ سی بات ہے!
یہ کونسا ایسا تزویراتی ہدف ہے کہ جس کے لئے آپ آئیں، پہلے سے کہیں زیادہ نقصان اٹھائیں، اور پھر اس ہدف کو حاصل کریں!
کیا آپ یہ کہیں گے کہ وہ (اسرائیل) سپریم لیڈر اور اعلی حکام کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا چاہتا ہے؟
پچھلی مرتبہ بھی اس نے اپنا پورا زور لگا کر دیکھ لیا،
چوتھے روز ہی سپریم قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں 20 سے زائد اعلی ملکی حکام شریک تھے
فوجی، سیاسی، سبھی رہنما موجود تھے، ابھی تک الحمدللہ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا!
اب سوال یہ ہے کہ اس مرتبہ تمہارے پاس ”اچانک حملے” کا موقع تھا، لیکن اب وہ بھی نہیں!
تم جوہری تنصیبات پر حملہ کرنا چاہتے ہو؟!
ابھی میں نے واضح کیا کہ تمہارا سب سے بڑا اسلحہ GBU-57 ہے!
ٹرمپ کی شخصیت میں ”سبق لسانی” زیادہ ہے..
سبق لسانی کا مطلب یہ کہ اس کی زبان، اس کے ذہن سے آگے نکل جاتی ہے،
اس کے ذہن پر سبقت لے جاتی ہے..
ٹرمپ ایسے کام اکثر کرتا ہے.. ظاہرا یہ بات دنیا بھر میں ہر جگہ مرسوم ہے..
ٹرمپ کیمرے کے سامنے آیا، جہاز میں تھا، اور کہنے لگا کہ
ایک ایسا جی بی یو 57 بنائیں جو 60 میٹر سے زیادہ گہرائی میں جائے.. ہاہا..
اس بات کا ایک خاص مطلب ہے..کیونکہ GBU-57 جب سے سروس میں آیا ہے، 2011 سے، صرف ہمارے خلاف ہی استعمال ہوا ہے!
یہ جو 60 میٹر کہہ رہا ہے.. یعنی اسے خود بھی معلوم ہے کہ کتنے پانی میں ہے!
خوب! اب تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ GBU-57 سے زیادہ طاقتور تو تمہارے پاس کچھ بھی نہیں!
اور وہ بھی تم نے آزما لیا ہے..
اگر وہ تم نے آزما لیا ہے تو اب کیا کرنے آؤ گے؟
اور اگر تم نے ابھی تک نہیں آزمایا، تو اس سے طاقتور چیز تمہارے پاس نہیں!
اور اگر تم میزائل اور اسی جیسی تنصیبات پر حملہ کرنا چاہتے ہو.. تو بعض جگہوں پر تو تم نے حملہ کر کے دیکھ لیا.. لیکن بعض جگہوں تک تمہاری پہنچ ہی نہیں.. اب بھی نہیں!
ان سب تنصیبات کی گہرائی 60 میٹر سے زیادہ ہے..
تم فردو کو تباہ نہیں کر سکے ہو.. وہاں تو دور کی بات ہے!
خوب! تم ہنگامے برپا کروانا چاہتے ہو؟
تم نے اپنا پورا زور لگا لیا، لیکن کچھ بھی نہ کر پائے!
دباؤ، سائبر حملے، ٹارگٹ کلنگ، تخریبکاری، سیاسی سفارتی دباؤ اور ٹرگر میکانزم کے ذریعے ہائبرڈ وار میں..
تم نے اپنا پورا زور لگا کر دیکھ لیا..
تم ہمارے زخموں کو خراب کرنے کے لئے ان پر آ بیٹھے.. لیکن پھر بھی کچھ نہ کر پائے..
جنگ میں بھی تم کچھ نہ کر پائے!
کہاں ہے وہ تزویراتی ہدف
کہ جس کے لئے تم ایک مرتبہ پھر حملہ کرو اور پہلے سے کئی گنا زیادہ نقصان اٹھاؤ؟
مجھے یاد ہے کہ میں نے آپ کے پروگرام میں کہا تھا کہ
یہاں فسادات پھوٹیں تو پھر وہ حملہ کرے.. وہ بھی سردیوں سے پہلے!
اس مدت کے بعد.. میں آپ کو مطمئن کر دوں.. موسم سرد ہے..
جو ہمارے لئے کہ جنہوں نے میزائل فائر کرنے ہیں.. شاید تھوڑا.. انتہائی کم، سخت ہو..
لیکن اس کے لئے کہ جس کا تمام کام ہی ڈرون اور ہوائی جہاز یا حتی سمندر کے ساتھ ہو..
(موسم سرما میں) ہوا اور سمندر کی صورتحال، حملے کے لئے سرے سے مناسب ہی نہیں!
البتہ ہمارے عسکری ماہرین کے پاس، اپنے خاص فارمولے ہیں..
یعنی انہیں ان باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہیئے!
وہ فوجی ہیں، ٹیکٹیکل انیلیسز کرتے ہیں..
وہ کہتے ہیں کہ خطے میں امریکی اسلحہ پہلے سے لیکر اب تک موجود ہے
لہذا ہم بھی قریب سے جائزہ لے رہے ہیں.. ہماری پوری توجہ ہے!
یہ سب صحیح!
میں.. اپنا تجزیہ پیش کر رہا ہوں.. کہ کیا؟
نہ کوئی تزویراتی ہدف، نہ صورتحال مناسب، نہ اندرونی صورتحال (ہنگامے) سازگار..
اس (اسرائیل و امریکہ) کے لئے کچھ بھی موجود نہیں کہ جس سے وہ کوئی فائدہ اٹھا سکے..!!۔ آپ نے گذشتہ پروگرام میں کئی بار کہا تھا کہ یہ لڑائیاں
درحقیقت آئندہ 3 یا 4 سالوں میں پیش آنے والی ایک سنجیدہ جنگ کا پیش خیمہ ہیں..
۔ کیا آپ اب بھی اس بات کے قائل ہیں؟
سو فیصد.. سو فیصد..
۔ چونکہ اب آپ نے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ وہ اس کو لٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں
تاکہ یہ مسئلہ (جنگ) 3 یا 4 سال آئندہ پر چلا جائے، شاید مثلا ٹرمپ کے دور کے آخر تک!
دیکھیں..! جی.. جی.. جی..
ہم علوم انسانی کی بارے بات کر رہے ہیں، جو انسان سے متعلق ہیں
جبکہ انسان میں، ما شاء اللہ، متغيرات زیادہ ہیں
ممکن ہے کہ ایک دو سال دیر سویر ہو جائے.. لیکن یہ حتمی ہے.. دیر سویر ہو سکتی ہے
میرا تجزیہ یہ ہے کہ ٹرمپ کے دور کے خاتمے تک..
دیکھیں.. وہ اپنے ذخائر پر کر رہے ہیں.. اس (12 روزہ) جنگ سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے..
موساد کے ایک اعلی افسر کہ جو اب ریٹائر ہو چکا ہے، کا اپنے انٹرویو میں کہنا ہے کہ
ہم نے اس جنگ سے دو چیزیں سیکھی ہیں؛
پہلا میزائل.. یہ ان کی بات ہےہاں! ہم نہیں کہتے اور ہمارے میڈیا نے بھی نہیں کہا..
وہ کہتا ہے کہ اولا ایرانی میزائل اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں کہ جو ہم سوچ رہے تھے
ثانیا ہم یہ بھی جان گئے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ (ایران) کا سقوط، خواب و خیال ہے اور اتنا آسان نہیں!
وہ جان گئے ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ (ایران) کے خلاف Shock and Awe اسٹریٹجی
یعنی دھچکا پہنچاؤ اور بے عمل کر دو، کو استعمال نہیں کر سکتے!
امریکہ تھا، نیٹو تھی.. ان کا اتحاد فعال ہے ہاں..
اسرائیل تھا.. خود امریکہ.. کہ اصلا ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم تھے..
يعنى اس نے کہا کہ یہ ہماری جنگ ہے..
اس نے فوری طور پر فردو کو نشانہ بنایا اور اسرائیل کو جنگ سے باہر نکال لیا..
بات اصلی یہ ہے کہ.. انہوں نے اپنی شکست کی وجوہات جان لی ہیں..
تاکہ اپنی کمزوریاں دور کریں..
دور کر لی ہیں اتفاقا..! اور اتفاقا ایک وجہ کہ وہ ہمیں اس بات میں مشغول رکھ رہے ہیں کہ
آج حملہ کریں گے اور کل حملہ کریں گے.. یہ ہے کہ
وہ جنگ بند ہونے کے اگلے روز سے ہی اس اصلی منصوبے پر کام کر رہے ہیں
کہ جو 3 یا 4 سال آئندہ ہے..
لیکن ہمیں وہ مشغول رکھنا چاہتے ہیں
کہ ہم آج اور کل کے چکر میں پڑے رہیں، تیاری نہ کریں!
میں آپ کو دو تین نمونے بتاؤں.. تھاڈ اب نہیں ہے..
میں نے بتایا کہ یہ امریکی سسٹم ختم ہو گیا .. اس نے 150 دیئے اور اب تمام!
اب وہ ایرو-4 کے پیچھے ہیں، ایرو-4 زمینی فضا سے باہر مار کرتا ہے.. جس نے تھاڈ کی جگہ لینی ہے
اس کا بنانا اتنا آسان تو نہیں.. لمبا کام ہے..
اس میں وقت لگے گا.. اسے چند سال کا وقت چاہیئے!
علاوہ ازیں، اس مرتبہ وہ (اسرائیل) دہشتگرد پراکسی گروپس کے ذریعے کام کرنا چاہتا ہے
دراصل، اب وہ ہمارے ساتھ ٹکراؤ کی حکمت عملی کو بدل رہا ہے..
یعنی خود ہماری ہی ایک نقل ہے..
ہم کیسے اسرائیل کے ساتھ نپٹنا چاہتے تھے.. وہ بھی عین اسی کو کاپی کر رہا ہے..
اب وہ اپنی حکمت عملی بدل رہا ہے.. وہیں شام سے اپنے دہشتگرد گروہوں کے کرداروں کو متعین کر رہا ہے..
اس میں وقت لگے گا.. البتہ یہ منصوبہ ایک حد تک آگے بڑھ چکا ہے!