معروف امریکی یوٹیوبر کا دورہ ایران

 

 

 

جیکسن ھنکل

 

 

 

 

ایرانی عوام کو سلام

 

اور میں آپ کو صیہونی ریجیم پر آپکی فتح کی مبارکباد پیش کرتا ہوں

 

اور جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں..

 

یہ جنگ بآسانی تیسری عالمی جنگ میں بدل سکتی تھی درحالیکہ اس وقت یہ لڑائی رک چکی ہے جبکہ اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے!

 

(ایران میں) ریجیم چینج نہیں ہوئی اور ایرانی جوہری پروگرام بھی برقرار ہے جبکہ نہ صرف اسرائیل ہی کی ناک مکمل رگڑی جا چکی ہے بلکہ آئرن ڈوم  کابھی سرے سے خاتمہ ہو گیا ہے

 

لہذا میں کہوں گا کہ آپ سب کو مبارک ہو!

 

      نیز یہ کہ میں بہت جلد اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کرنا چاہتا ہوں

 

 

.. ۔۔۔۔

 

 

میں اسوقت ایران میں ہوں اور وہ واحد چیز جو میں نے اپنے مختصر دورے میں یہاں دیکھی ہے یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کےعوام نے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا ہے

 

  جبکہ ٹرمپ یہ بات سمجھتا نظر نہیں آتا

 

کسی وجہ سے اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ بمباری کے ذریعے انہیں (ایرانیوں کو) گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے!

 

  لیکن ٹام ہاک میزائلوں یا ڈرون حملوں کی کوئی تعداد، ایرانی رہنماؤں، عوام يا انقلاب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتا!

 

اور یہ بات کہ امریکی رہنما ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان مذاکرات اور سیاسی چکر بازی کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کو دھوکہ دے اور         اس طریقے سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول          سنبھال سکتے ہیں.. ایک انتہائی مضحکہ خیز سوچ ہے!

 

سیدھی سادی حقیقت یہ ہے کہ ایران کے خلاف یہ جنگ سرے سے چھڑنی ہی نہیں چاہیئے تھی!

 

 

 

۔۔۔۔

 

 

 

ہم اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران میں ہیں جبکہ یہ میٹرو کی دیواروں پر عہد جدید کا ایک اقتباس نصب ہے جو عیسی مسیح ع اور مادر مریم ع کی عصمت کے بارے بات کرتا ہے!

 

یعنی، یہ حیرت انگیز ہے!

 

یہاں عیسی مسیح ع کے بارے  امام خمینی کا ایک قول درج ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک انتہائی انتہائی اہم پیغمبر تھے جنہیں خدا کی جانب سے  مستکبرین کیخلاف لڑنے کے لئے بھیجا گیا تھا

 

میرے پیچھے.. اگر آپ یقین کریں.. میں جانتا ہوں کہ مغرب میں آپ کو اس بارے کوئی نہ بتائے گا..

 

لیکن.. قرآن کریم میں مريم ع کے بارے ایک سورہ ہے جو گہوارے میں عیسی مسیح ع کے بارے بات کرتی ہے

 

میرے لئے عجیب ہے

 

گو کہ میں نے بہت سی عظیم مسلم اقوام کا دورہ کیا ہے، تاہم اب بھی میں ہر دورے میں نئی چیزیں سیکھتا ہوں!

 

میرے ساتھ دیوار پر اس قوم کے  عیسائی شہداء کی تصاویر آویزاں ہیں

 

درحقیقت یہاں سڑک کی دوسری جانب ایک بڑا چرچ، آرمینیائی چرچ واقع ہے مجھے نہیں پتہ کہ

 

کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ یہاں ایران میں یہودی بھی رہتے ہیں اور یہاں ایران میں عیسائی بھی ہیں

 

شاید آپ کو ایران کے بارے ٹرمپ کے بیانات سے ہی نہیں جاننا چاہئے!!

 

اور یہ (ایرانی) میٹرو کے بارے انتہائی دلچسپ نکتہ ہے.. دیکھئے..

 

  یہ مفت ہے..

 

جنگ شروع ہونے کے بعد سے مکمل مفت!

 

جبکہ جنگ سے قبل بھی یہاں سوار ہونے کے صرف چند ایک سکے ہی تھے یہاں، لوگوں کو دروازے کے اوپر سے کودنے سے روکنے کے لئے کوئی دیوہیکل رکاوٹ نہیں کیونکہ یہاں ایران میں وہ ٹھگوں والا کلچر ہی نہیں کہ جو نیویارک جیسے شہروں کو ایسے بندوبست کرنے پر مجبور کرتا ہے

 

یہ بھی قابل غور ہے کہ  یہ بہت صاف ستھری ہے

 

امریکہ میں موجود میٹروؤں سے کہیں زیادہ صاف ستھری اور محفوظ..

 

یعنی آپ جب تہران میٹرو میں سوار ہو رہے ہوں تو آپ کو گردن میں ضرب کھانے کے بارے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں!

 

 

 

….

 

 

 

ہم تہران میں سید علی خامنہ ای  کے دفتر کے قریب ترین مقام پر کھڑے ہیں جس پر، امریکہ و اسرائیل نے، جنگی جرائم کے ایک اقدام کے دوران بمباری کی تھی

 

جیسا کہ آپ میرے اردگرد دیکھ سکتے ہیں یہ ایک رہائشی علاقہ ہے یہ کوئی پوش یا اعلی اشرافیہ  کے علاقے جیسا کوئی علاقہ نہیں

 

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بموں نے.. جو نہ صرف پہلے روز بلکہ دوسرے اور تیسرے روز بھی گرتے رہے جب امریکہ اس جگہ پر حملے کرتا رہا..  یہاں کھڑکیاں توڑ ڈالیں اور اس علاقے میں شہری زندگی کو شدید نقصان پہنچایا

 

اور جیسا کہ ہم اس وقت دیکھ سکتے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اسے غیر مستحکم بنانے کے امریکی منصوبے بری طرح الٹ چکے ہیں

 

میرے ہر طرف ایرانی ہیں، ہر طبقے سے..

 

جوان اور بوڑھے، مرد اور خواتین سب یہاں جمع ہیں،

 

سید علی خامنہ ای کے نماز جنازہ کے لئے اور وہ اپنے سپریم لیڈر کے لئے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور ریلیاں نکال رہے ہیں

 

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہاں ماحول جذباتی ہو رہا ہے

 

جبکہ یہ بتانے کیلئے کہ میں امریکی اقدامات سے کس قدر متنفر ہوں، میرے پاس الفاظ نہیں!

 

بالآخر سید علی خامنہ نے کیا خطرہ لاحق کر رکھا تھا؟

 

وہ ایک معمر شخص تھے،  ذہین شخص تھے اور امن چاہتے تھے!

یہ امریکہ اور اسرائیل ہی ہیں
کہ جو مجرم ہیں

ان جرائم کے باعث کہ جن کا انہوں نے یہاں ارتکاب کیا ہے، انہیں کبھی جنت میں داخل نہ ہونے دیا جائے گا!

اور ہم جانتے ہیں کہ یہ،
خصوصا ٹرمپ اور خصوصا نیتن یاہو
ہی وہ اولین لوگ ہوں گے جن کا جنت کے دروازے میں داخلہ ممنوع ہو گا

سید علی خامنہ ای
ان کے خاندان اور 14 ماہ کی معصوم نواسی
کا قتل

نیز پورے ملک میں
بہت سے دوسرے ایرانیوں کا قتل!

 

 

….

ایرانی عوام کسی بھی پہلے وقت سے بڑھکر متحد ہو چکے ہیں

ذرا دیکھئے!

امریکہ میں جو بھی یہ سوچتا ہے کہ
ایرانی عوام کا قتل عام

اور ہردلعزیز سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای
کی ان کے خاندان اور 14 ماہ کی نواسی سمیت
ٹارگٹ کلنگ ایک اچھا خیال ہے..

اس سے کہیں زیادہ بیوقوف ہے
کہ جتنا کبھی میں نے سوچا ہو گا!

اے امریکہ! تجھے کیا حاصل ہوا؟

اے ٹرمپ! تجھے
سپریم لیڈر کے اس قتل سے کیا حاصل ہوا؟

تمہیں صرف اورینج کاؤنٹی، کیلیفورنیا میں مقیم 5 ایرانی ہی حاصل ہوئے ہیں کہ جو
ٹک ٹاک پر اس کا جشن منا رہے ہیں!

لیکن ایران میں، ملین ھا لوگ اب متحد ہو چکے ہیں اور ”انتقام” چاہتے ہیں
اور وہ انتقام لے کر رہیں گے!!

….

ایلن ماسک نے میرے خلاف ایک حملے کو ری ٹویٹ کیا ہے..
کیونکہ میں نے تہران میں علی خامنہ ای کے نماز جنازہ کے مقام کا دورہ کیا تھا

اس پوسٹ کا کہنا ہے کہ 4 امریکیوں نے
خامنہ ای کے نماز جنازہ میں شرکت ہے

اور یہ کہ یہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں
اور انہوں نے اپنی زندگیاں فلسطین کیلئے وقف کر رکھی ہیں!

بہت خوفناک!
ایلن ماسک نے بھی جواب میں لکھا؛
واؤ! یہ عجیب ہے!

میرا اپنا خیال بھی یہی ہے کہ
یہ کسی حد تک عجیب ہے!

یعنی 43 ملین لوگوں نے اس جنازے میں شرکت کی اور تم مجھے کہہ رہے ہو کہ اس میں صرف 4 امریکی شریک ہوئے؟

یعنی یہ نہ صرف سب سے بڑا جنازہ
بلکہ ممکنہ طور پر پوری تاریخ کا
سب سے بڑا اجتماع بھی تھا!
اور اس میں صرف 4 ہی امریکی شریک ہوئے؟!

اور یہی بات میرے لئے عجیب ہے!!

ویسے، لنڈسے گراھم کے جنازے میں
کتنے لوگ شریک ہونے جا رہے ہیں؟!

میں ان حقیقی انسانوں کی بات کر رہا ہوں
کہ جن میں روح، دل اور مغز ہوتا ہے

شاید صفر!
شاید کچھ مگرمچھ صفت لوگ ہی شریک ہوں!

البتہ میں سمجھ گیا ہوں
میں جانتا ہوں کہ ایلن (ماسک) نیتن یاہو کا قریبی دوست ہے!

جبکہ وہ لوگ جن کا پیغام وہ ری ٹویٹ کرتا ہے، سب کے سب اسرائیل اور امریکی حکومت کے تنخواہ دار ملازم ہیں!

لیکن کیا یہ اتنا عجیب ہے کہ
پوری انسانی تاریخ کے سب سے بڑے اجتماع میں صرف چند ایک امریکیوں نے ہی شرکت کی؟

یا کیا یہ عجیب ہے کہ لوگ اس شخص کو احترام دینا چاہتے ہیں کہ جو اسی امریکی سلطنت کیخلاف جدوجہد کر رہا تھا کہ جو یہاں ملک کے اندر میرے سبھی وطن پرست دوستوں کو کچل رہی ہے؟!

میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی تعجب کی بات ہے لیکن وہ چیز جو عجیب ہے،
سب سے پہلے، یہ ہے کہ
اس اجتماع میں زیادہ امریکی موجود نہ تھے!

….

اسرائیل سے 1 ملین ڈالر سے زائد کی رشوت لینے والے، صیہونی اراکین کانگریس نے ایک خط تحریر کیا ہے

جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ
مجھے امریکی میں بین کیا جانا چاہیئے..

اور یہ کہ مجھے گرفتار کر کے میرا امریکی پاسپورٹ ضبط کیا جائے
اور مجھے سزائے موت دی جائے!!

اور یہ اس بات سے پریشان ہیں کہ میں نے پوری انسانی تاریخ کے سب سے بڑے اجتماع میں شرکت کیوں کی؟

دنیا بھر کی تاریخ کے سب سے جنازے میں!

تہران، ایران میں،
سید علی خامنہ ای کے جنازے میں!

البتہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی جرم تھا!

درحقیقت یہ جرم نہیں تھا،

یہ اقدام
اس واحد انتہائی طاقتور شخص کا احترام بجا لانا تھا کہ جو سلطنت طلب ورلڈ آرڈر
اور نسل کشی کرنے والی اسرائیلی ریجیم
کیخلاف جدوجہد کو لیڈ کر رہا تھا

اور اس حکومت کیخلاف کہ جو نہ صرف جنگی جرائم کے ارتکاب کیلئے ہمارے ٹیکس دہندگان کے ڈالر لوٹ رہی ہے

بلکہ ہمارے بچوں کو بھی دنیا کے دوسرے کونے پر نیتن یاہو کی خاطر جنگ میں مر مٹنے کے لئے بھی بھیج رہی ہے

درحقیقت، کسی غیر ملکی حکومت سے
1 ملین ڈالر لینا، مجھے کسی بھی جرم سے
کہیں زیادہ بڑھکر لگتا ہے!
وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب آپ اسوقت رکن کانگریس کےعہدے پر ہیں!

مجھے یہ بھی بتا دینا چاہیئے کہ
اس لیٹر کے جاری ہونے سے 12 گھنٹے پہلے اسرائیلی میڈیا نے اعلان کر دیا تھا کہ یہ لیٹر جلد یی جاری ہونے جا رہا ہے

جس کے بارے میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ نیتن یاہو اور اسرائیلی کنیسٹ کے براہ راست حکم پر ہوا ہے.. اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے مجھے سرپرائزز ملا ہے!

اس خط کو ”محترم مارکو روبیو” اور
امریکی محکمہ انصاف کے اٹارنی جنرل
ٹاڈ بلینچ کے نام تحریر کیا گیا ہے

بہرحال ان کا لکھنا ہے کہ مجھے امریکہ میں دوبارہ داخل نہ ہونے دیا جائے

اور یہ کہ مجھ پر غیر ملکی دہشتگرد تنظیم کی مادی امداد کا مقدمہ چلایا جائے

اور یہ کہ مجھے 1996ء کے فعال سزائے موت ایکٹ کے تحت پھانسی پر لٹکایا جائے!

اور اب انتہائی لاچارگی!

کیونکہ اب میں ان اراکین کانگریس کے بارے
آپ کو کچھ معلومات دینا چاتا ہوں

پہلا میکس ایل ملر،
اس خط کا مشترکہ مصنف

اس نے اسرائیلی لابی سے 2 لاکھ 78 ہزار 560 ڈالر وصول کئے ہیں

اس نے ایسے بل بھی پیش کئے کہ جو
امریکی ٹیکس دہندگان کی مراعات، ان امریکی شہریوں کو دیں گے کہ جو نسل کشی کرنے والی اسرائیلی فوج (IDF) میں کام کر رہے ہیں!

فلوریڈا سے بدنام زمانہ رکن کانگریس، رینڈی فائن نے بھی اس خط کی تحریر میں حصہ لیا ہے

اس نے اسرائیلی لابی سے 5 لاکھ 46 ہزار 860 ڈالر لئے ہیں

جبکہ یہ شخص ہر دوسرے روز، امریکی حکومت سے، غزہ اور ایران پر ایٹمی حملے کا مطالبہ کرتا ہے

یہاں رکن کانگریس رینڈی ویبر
کا آٹوگراف بھی موجود ہے

رینڈی نے اسرائیلی لابی سے
1 لاکھ 7 ہزار 70 ڈالر لے رکھے ہیں!

اس نے ہاؤس آف یہودا اور ہاؤس آف سامریہ کاکس کے نام سے مراکز بھی کھول رکھے ہیں
جس کا مطلب ہے کہ وہ غزہ اور مغربی کنارے کو (فلسطینی سرزمین) تسلیم نہیں کرتا
اور سوچتا ہے کہ اسرائیل کو اس پورے علاقے پر بھی قبضہ کر لینا چاہیئے!

خاتون رکن کانگریس کلاڈیا ٹینی نے بھی
اس خط پر دستخط کئےہیں

اسنےاسرائیلی لابی سے رشوت میں1لاکھ82ہزار700ڈالر وصول کئےہیں

اسنےایک مرتبہ ایسےبل کی حمایت بھی کی تھی کہ جسکےمطابق اگر کوئی اسرائیلی حکومت کیخلاف بائیکاٹ میں حصہ لے تو اس کو 20 سال قیداور10لاکھ ڈالرجرمانےکی سزاسنائی جاناچاہیئے!

ریپ کیتھ سیلف،کانگریس کانیارکن
کہ جسنے اسرائیلی لابی سے 49 ہزار ڈالر وصول کئے ہیں

جسکےبعد رکن کانگریس ڈیرک وین اورڈن ہےکہ جسنےاسرائیلی لابی سے1لاکھ46ہزار150 ڈالر لئےہیں

اور ریپ ایڈیسن میکڈاول، کہ جسنےاسرائیلی لابی سے34 ہزار 250ڈالر وصول کئے ہیں

اب میں میدان میں ہوں اور آپ سب کےسامنے اعلان کرتا ہوں کہ میں نے کسی بھی غیرملکی حکومت سے حتی 1 پینی بھی نہیں لی،خصوصا ایرانی حکومت سے!

اور اگر میں نے لی ہوتی
تو میرا خیال ہے کہ یہ لوگ مجھے اسوقت تک جیل میں ڈال چکے ہوتے!

لہذا میں اس بات پر خاتمہ کروں گا کہ
میں اس خط کو اپنے لئے تمغہ سمجھتا ہوں!
جسے فریم کرکے محفوظ کرلیناچاہیئے!

نیز اس ویڈیو کو بھی، ”محترم مارکوروبیو” اور ”محترم ٹاڈبلینچ” کے نام،
میرا، خاص قسم کا خط تصور کیا جائے

کانگریس کے ان 7 اور دوسرے متعدد اراکین کی جانب سے؛ اسرائیلی لابی سے دسیوں لاکھ ڈالر وصول کئے جانے اور غیرملکی دہشتگرد تنظیم کہ جو اسرائیل ہے، کے مفاد کو تحفظ پہنچائے جانے
کے نتیجے میں:

میں آپ، ٹرمپ کابینہ کے 2 افسران، سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ ان اراکین کانگریس کے خلاف، 18USC2339-A اور 18USC2339-B کے تحت ان جرائم کامقدمہ چلائیں کہ جن کا انہوں نے امریکی ریاست، امریکی آئین اور امریکی عوام کے خلاف ارکاب کیا ہے!

۔۔


You may also like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے