◷

وہ نئی دفاعی مساوات کہ جسنے وائٹ ہاؤس کو عقب نشینی پر مجبور کر دیا

11 ستمبر 2026

 ممتاز عرب تجزیہ کار؛ عبدالباري عطوان

 

 

اس مسخرے کہ جس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے، نے ہم سبھی کو چونکا کر رکھ دیا ہے

یعنی پہلے جنگ، دھمکیوں، تباہی اور ایران پر بمباری کی باتیں کرتا رہا اور اب اچانک کہتا ہے کہ "میں پچھتا گیا ہوں اور اب میں کوئی حملہ نہیں کر سکتا”

اور اس نے یہ بہانا بنایا ہے کہ اسے ایران کی جانب سے معاہدہ قبول کرنے کی خبریں ملی ہیں

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ شخص اس نتیجے ہے پہنچا ہے کہ وہ نہ صرف اس جنگ سے کامیابی کے ساتھ نکل نہیں سکتا بلکہ وہ یہ جنگ ہار چکا ہے

اس کو دھمکیاں دیتے اور دباؤ ڈالتے نیز شکست کھاتے 100 روز گزر چکے ہیں لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی!

اب میں اس (ٹرمپ) کی عقب نشینی کی چند ایک وجوہات بیان کرتا ہوں

پہلی یہ کہ امریکہ کی ہر ایک جارحیت کا ایران کی جانب سے فوری جواب، بشمول امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کی سرنگونی یعنی جب بھی جارحیت ہوئی، اس کا جواب فوری طور پر دیا گیا چاہے وہ امریکی جنگی کشتیوں پر حملہ ہو یا ان تجارتی بحری جہازوں پر کہ جو امریکی حمایت کے ساتھ اس آبی گزرگاہ (آبنائے ہرمز) میں آ گھسنا چاہتے تھے

یہ سبھی مؤثر تھے اور (امریکی عقب نشینی کی) پہلی وجہ بنے

دوسری اور بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ جان گیا ہے کہ ایرانی؛ تناؤ بڑھانے، تصادم اور فوجی ٹکراؤ کے لئے تیار ہیں اور گھٹنے ٹیکنا نہیں چاہتے لہذا یہ دھمکیاں کسی طور مؤثر نہیں

تیسری وجہ یہ ہے کہ ایرانی، اپنی پوری شرائط کو مکمل طور پر منوانے میں کامیاب ہو گئے ہیں

بشمول ملکی بندرگاہوں کے محاصرے اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے نیز قطری و امریکی بینکوں میں منجمد اپنے اثاثوں کے جاری کرنے کے

یہی چیزیں، ٹرمپ کے فرار اور عقب نشینی کا باعث بنی ہیں

درحالیکہ وہ امریکی رائے عامہ میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کی دھمکیاں ایران کی عقب نشینی کا باعث بنی ہیں جبکہ یہ بات مطلقا غلط ہے

اور جو چیز وقوع پذیر ہوئی ہے، مفاہمت ہے، کوئی حتمی معاہدہ نہیں

یہ مفاہمت 14 نکات پر مشتمل ہے اور یہ تمام شقیں درحقیقت ایرانی قوم کے مفاد میں جاتی ہیں

نیز محاصرے کا مکمل خاتمہ بھی اس میں شامل ہے

اس میں جنگ کا رکنا بھی شامل ہے جبکہ جنگ کا رکنا، امریکہ کے لئے شکست ہے

ایران اس ٹکراؤ سے، کامیابی کے ساتھ باہر نکلا ہے

جبکہ اس حقیقت کا راز، قطری وفد کا دورہ تہران ہے

یہ يعنی؛ ایرانی معیشت کی رونق.. جبکہ یہ وفد امریکی سبز جھنڈی پر ہی گیا تھا ورنہ کیوں جاتا؟

اور کیا یہ وفد جوہری مسائل پر گفتگو کے لئے گیا تھا؟

سارا ماجرا یہی تھا کہ بھائی ذرا سی نرمی دکھاؤ اور اس مفاہمت پر دستخط کر دو!

جبکہ یہ مفاہمت 14 شقوں پر مشتمل ہے

اور آخری شق میں، 60 روز کے لئے جوہری مذاکرات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے

درحالیکہ اگر وہ 60 سال یا 60 صدیوں تک بھی مذاکرات کرتے رہیں، تب بھی ایران نہ صرف افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہ ہو گا بلکہ اپنی صلاحیتوں سے عقب نشینی بھی نہ کریگا

جیسا کہ میں نے کہا ہے (یہ سب سیاسی چکر بازیاں ہیں)

کیونکہ وہ کہ جس نے عقب نشینی کی ہے، ٹرمپ ہے

وہ کہ جس نے اپنی قوم کو دھوکا دیا ہے، ٹرمپ ہے

وہ کہ جس نے اپنی قوم کو ذلیل و خوار کیا ہے، ٹرمپ ہے

وہ کہ جس نے ایک سپر پاور ہونے سے متعلق امریکہ کی ساکھ کو تباہ کیا ہے، ٹرمپ ہے

اور امریکی کیسے اسے قبول کرتے ہیں؛ مجھے تعجب ہے، واللہ تعجب ہے!

میرے خیال میں اس کی حمایت کا تسلسل اور اس کا اقتدار میں باقی رہنا اس قوم کی سادہ لوحی اور کوتاہ فکری کو ظاہر کرتا ہے کہ جو تاحال اس کی حمایت میں جتے ہوئے ہیں!

ایران درحقیقت فتحیاب ہوا ہے اور
اپنی تمام شرایط کو امریکہ کی گردن پر مسلط کرنے میں کامیاب رہا ہے

جس کی بنیاد ”فتح یا شہادت” کے عقیدے پر تھی.. تمام!


You may also like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے