◷

محمد بن سلمان کو درپیش اصل خطرہ

22 اکتوبر 2026

IMG_20261022_130344_882.jpg

 

سعودی عرب پر حکمفرما آل سعود رژیم نے گزشتہ 12 برس سے یمن کے مظلوم اور صابر عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رکھے ہیں جس کے باعث ایک تاریخی اور قدیم تہذیب کی حامل قوم میں اس کے خلاف شدید غم و غصہ پیدا ہو چکا ہے۔ یہ غم و غصہ ایک ابلتے ہوئے لاوے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس آتش فشان کے پھٹنے سے آل سعود رژیم کی نسل ختم ہو جانے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ ایک طرف یمن کی بہادر اور باغیرت قوم اپنے جائز حقوق اور وطن کے دفاع کی خاطر سعودی نواز مسلح جتھوں کے خلاف صف آرا ہے تو دوسری طرف آل سعود رژیم یمن کے نہتے عوام کے خلاف جنگی جرائم انجام دینے میں مصروف ہے۔ کئی سیاسی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر یمن کے خلاف سعودی جارحیت جاری رہتی ہے تو شہزادہ محمد بن سلمان کی آمرانہ رژیم کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ برطانیہ کا سابق جاسوس اور سفارت کار ایلسٹر کروک جو طویل مدت تک مغربی ایشیا خطے میں فعالیت انجام دیتا رہا ہے نے حال ہی میں ویب سائٹ Forum Geopolitica پر ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں آل سعودی رژیم اور یمن کے خلاف جاری جنگ کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وہ اپنے مقالے میں لکھتا ہے:

ناراض قبیلے، نظرانداز کر دیے گئے علماء، جان بوجھ کر تقسیم کی گئی فوج جبکہ حوثیوں کے میزائل ریاض کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سعودی ولی عہد کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ ممکن ہے اس کی اپنی تباہی پر ختم ہو جائے۔ انصاراللہ یمن نے ایک خاص حکمت عملی کے تحت "محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ” اور "ایئرپورٹ کے مقابلے میں ایئرپورٹ” کے فارمولے پر عملدرآمد شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ہفتے کے دن ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تیسرا حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق اور 300 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ ایسے وقت انجام پایا ہے جب آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے اس کے مقرر کردہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر تیل بردار جہازوں پر حملوں کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لہذا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جوابی اقدامات انجام دینے کے لیے دباو بڑھ چکا ہے جبکہ امریکہ کے مڈٹرم الیکشن بھی قریب آتے جا رہے ہیں۔ یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ جاری ہے اور سعودی رژیم نے یمن میں سویلین مراکز پر حملے شروع کر رکھے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025ء تک یمن میں 15 ہزار عام شہری سعودی اتحاد کے براہ راست حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف یمن نے ایران کے خلاف جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں اس حقیقت کو بھانپ لیا ہے کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی کمزوری اس کی تیل کی تنصیبات ہیں۔

اگر یمن نے سعودی عرب کے اہم اقتصادی مراکز اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا جاری رکھا تو ریاض کو اس کے بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑیں گے۔ میدان جنگ تیزی سے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال وسیع پیمانے پر سرمائے کی تباہی، قرضہ جات کا بحران جنم لینے اور ریاض کی جانب سے وژن 2030ء جیسے پراجیکٹس ترک کر دینے پر مجبور ہو جانے کا باعث بن سکتی ہے۔ سعودی عرب اس خام خیالی کا شکار ہے کہ وہ ماضی کی طرح اب بھی فرقہ وارانہ اختلافات، ایران کے خلاف پراپیگنڈے اور شیعہ دشمنی جیسے ہتھکنڈے بروئے کار لا کر مطلوبہ اہداف حاصل کر سکتا ہے جبکہ آج یہ ہتھکنڈے بے فائدہ ہو چکے ہیں اور حتی خطے کی اہلسنت عوام بھی اب ان پر اعتماد نہیں کرتی۔ آج کی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ انصاراللہ یمن شیعہ اثنا عشریہ کی نمائندگی نہیں کرتی جسے سعودی عرب اپنے پروپیگنڈے کے ذریعے ایران کی کٹھ پتلی ثابت کر سکتا ہو۔ انصاراللہ یمن کی حکومت کے تحت یمن ایک خاص نظریے، سیاسی تاریخ اور حکومتی نظام کا حامل ہے۔ لہذا نہ تو یمن اور نہ ہی یمن کے حامیوں کو کسی ایک خاص فرقے یا سماجی گروہ تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انصاراللہ یمن میں شامل افراد کا تعلق حنفی اہلسنت، زیدی، جارودی، اسماعیلی اور دیگر اسلامی فرقوں سے ہے اور حتی سلفی طرز فکر کے افراد بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ انصاراللہ یمن کے جائز مطالبات کو مان لینے پر مبنی ہے۔ لیکن یوں دکھائی دیتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ لہذا مستقبل قریب میں سعودی عرب کی معیشت تباہ ہو جانے کا امکان بہت زیادہ ہے کیونکہ انصاراللہ یمن کے بڑھتے حملوں کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کار وہاں سے بھاگ جانے کو ہی ترجیح دیں گے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کو درپیش اصل خطرہ انصاراللہ یمن نہیں بلکہ اس کی جانب سے آمرانہ رویے اور اقتدار مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش ہے۔ اس بارے میں ایڈورڈ لاٹویک، جن کے مغربی انٹیلی جنس اور سیکورٹی ایجنسیوں سے بہت قریبی تعلقات ہیں، لکھتے ہیں: "حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ حکمفرما سعودی خاندان کو گزشتہ کئی عشروں سے درپیش سب سے بڑا خطرہ فوجی بغاوت کا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے 14 جولائی 1945ء کے دن عراق میں انجام پائی اور اس نے شاہی خاندان کو نیست و نابود کر ڈالا۔” وہ مزید لکھتے ہیں: "اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف سعودی فرانرواوں نے سب سے زیادہ موثر راستہ اختیار کیا جو اختلاف ڈالو اور حکومت کرو کے فارمولے پر مبنی تھا۔ انہوں نے یہ فارمولہ اپنی ہی مسلح افواج پر لاگو کیا جس کے نتیجے میں فوج کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور ہر حصے کی سربراہی ایک سعودی شہزادے کو سونپ دی گئی ہے۔ یہ سعودی شہزادے وزارت دفاع کے مختلف حصوں کے سربراہ بھی ہیں اور وہ سب شہزادہ محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی شہزادہ خالد بن سلمان کے ماتحت ہیں۔”

سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے روایتی قبائلی نظام ختم کر دیا ہے کیونکہ ان قبائل کے سربراہان اس سے تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے اپنا حصہ مانگتے تھے۔ اسی طرح اس نے تمام قبیلوں کی زمینوں پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔ یوں اس نے ملک کو ایک اہم سیاسی پلیٹ فارم سے محروم کر دیا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ روایتی ڈھانچہ ختم کر کے ایک ریاست قوم پر مبنی نظام کی جانب قدم نہیں بڑھایا بلکہ ملک کی تمام دولت اور ذخائر کو اپنی خاندانی ملکیت بنا کر بہت سے دشمن تراش لیے ہیں۔ اس نے اپنے خاندان کے گرد پوری سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی طاقت جمع کر رکھی ہے اور ایک مطلق العنان حکمران کے طور پر عمل کرتا ہے۔ عنیزہ جیسے روایتی قبیلوں کی نظر میں یہ صورتحال کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اس میں قبیلوں کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ یوں سعودی عرب پر حکمفرما نظام اس وقت ایک بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے جسے کسی بھی لمحے چھوٹی سی چنگاری کے نتیجے میں دھماکہ خیز آگ لگ سکتی ہے۔ دوسری طرف سعودی حکمران کے خلاف بغاوت کوئی محال چیز نہیں ہے اور ماضی میں ایسا انجام پا چکا ہے۔ جب 1964ء میں ملک سعود نے ایسے ہی رویے اختیار کیے تھے تو شہزادوں اور مذہبی رہنماوں نے مل کر اس کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس وقت سعودی عرب پر جو نظام حکمفرما ہے وہ گذشتہ ایک صدی سے عالمی سامراج کی علامت بنا ہوا ہے۔ یہ نظام اب ختم ہونے والا ہے اور کوئی بھی طاقت اسے بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے