کیمپ بیورنگ، کویت
امریکی فوجی خلیج (فارس) میں موجود سب سے بڑی ملٹری لاجسٹک بیس میں "میوزک نائٹ” منا رہے ہیں
تب وہ ایسی تھی..
اور اب ایسی ہے!
صحراء کے بیچوں بیچ چہچہانے والا امریکہ کا یہ "مائیکرو سٹی”
ہفتوں پر محیط ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی بوچھاڑ کے بعد
اس وقت تقریبا خالی اور بری طرح سے تباہ ہو چکا ہے
تیل سے مالا مال جزیرہ نما عرب سرزمین پر موجود کئی ایک میں سے ایک امریکی فوجی اڈہ؛
حتی اسلامی جمہوریہ (ایران) کے وسیع زرادخانوں پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے باوجود بھی ایران کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا
لہذا مشرق وسطی میں امریکی موجودگی پر
ایرانی حملوں کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
سی این این (CNN) کی تحقیقات میں بے مثال تباہی سے پردہ اٹھایا گیا ہے
بنابرایں، ہم ان حملوں سے 8 ممالک میں موجود
کم از کم 16 امریکی فوجی اڈوں میں شدید نقصانات کا انکشاف کر سکتے ہیں
ہمارے تجزیئے اور منابع کے مطابق، یہ تعداد، خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی "اکثریت” ہے
مزیدبرآں یہ کہ ان میں سے "کچھ” اب قابل استعمال بھی نہیں رہے!!
ایک آگاہ امریکی ذریعے نے ہمیں بتایا کہ
"میں نے ایسی صورتحال کا کبھی مشاہدہ نہیں کیا” نیز یہ کہ
"یہ پیشرفتہ ٹیکنالوجی کے ذریعے لگائی گئی برق آسا اور انتہائی درست ضربیں تھیں!”
ایران کے بڑے اہداف؛ کئی ملین ڈالر قیمت کے حامل (جنگی) ہوائی جہاز؛
جیسا کہ یہ بوئنگ E-3 Sentry (جاسوس) طیارہ ہے کہ
جو امریکہ کو خلیج (فارس) میں وسیع رصد فراہم کرتا تھا!
یہ ہوائی جہاز اب مزید نہیں بنایا جاتا جبکہ
آج کے حساب میں اس کی قیمت؛ نصف بلین ڈالر ہے!
انتہائی اہم مواصلاتی تنصیبات؛
ان عظیم گیندوں کو دیکھئے، ان کو ریڈوم کہا جاتا ہے
اور یہ، ڈیٹا ٹرانسمشن کے لئے ضروری سیٹلائٹ ڈش کی حفاظت کرتے ہیں
صرف اس ایک ہی فوجی اڈے میں، ایران نے ایک ماہ سے بھی کم کی جنگ میں
1 کے علاوہ تمام کے تمام ریڈوم تباہ کر دیئے ہیں
اور سب سے اہم، ریڈار سسٹم؛
انتہائی پیشرفتہ، گراں قیمت، تبدیل کرنے میں انتہائی مشکل
اور ہوائی دفاع کے لئے انتہائی ضروری!
امریکی کانگریس میں موجود، نقصانات کے تجزیئے سے آگاہ ایک دوسرے ذریعے نے
ان اہداف کو ایران کے لئے "انتہائی کم لاگت کا حامل” قرار دیا ہے
اس کا کہنا تھا:
"ہمارے ریڈار سسٹم، خطے میں موجود ہمارے انتہائی مہنگے اور انتہائی محدود اثاثے ہیں!”
خطے میں "امریکی اتحادیوں” کے لئے
یہ صورتحال ایک "المیہ” ہے!
ایک لحاظ سے، ایران کیجانب سے طاقت کا اظہار، خلیج (فارس) کی حفاظت کیلئے خطے میں امریکی موجودگی کی ضرورت کو مزید بڑھا دیتا ہے؛ لیکن یہاں ایک نئی حقیقت بھی موجود ہے:
اور وہ یہ کہ امریکی اڈے کہ جنہیں قبل ازیں "ناقابل تسخیر قلعے” تصور کیا جاتا تھا
اب "لاچار اہداف” میں بدل چکے ہیں!
جیسا کہ ایک سعودی ذریعے نے مجھے بتایا: "اس جنگ نے سعودی عرب کہ جو خطے میں امریکہ کا قدیمی ترین عرب اتحادی ہے، پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ واشنگٹن کیساتھ اتحاد واحد آپشن نہیں” اور یہ کہ، ان کے الفاظ میں "یہ اتحاد ناقابل شکست بھی نہیں”!
اس بات کااندازہ لگانےکیلئےکہ کیسی اعلی درجےکی عسکری تنصیبات "ملبےکا ڈھیر” بن گئی ہیں،
اس تصویر کو دیکھئے، یہ قطر میں العدید ایئربیس کا "وار روم” ہے!
یہ اڈہ، 21 ممالک میں امریکہ کی ہوائی کارروائیوں کے لئے "کمانڈ اینڈ کنٹرول ہب” تھا، کہ جسے 1 مرتبہ بھی نہیں بلکہ 2 مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے
ایک امریکی ذریعے کے مطابق؛ ان حملوں سے "شدید نقصان” پہنچا ہے!
البتہ اس وقت اُس فوجی اڈے کو بڑے پیمانے پر خالی کر دیا گیا تھا اور یہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی
اہداف سے متعلق ایران کی رصد کبھی بھی واضح نہ تھی
سال 2024 میں، فنانشل ٹائمز کے مطابق، تہران نے خفیہ طور پر ایک چینی سیٹلائٹ TEE-01B حاصل کر لیا کہ جو اس کے اپنے سیٹلائٹس میں ایک "بڑی پیشرفت” تھی!
اس کا مطلب یہ ہے کہ تہران، اس کوالٹی کی تصاویر کے مشاہدے سے
اس تک جا پہنچا
یہ پہلا موقع ہے کہ جب امریکہ کسی ایسے دشمن کے ساتھ جنگ میں کودا ہے کہ جو ایسی اعلی کیفیت کی سیٹلائٹس رکھتا ہے کہ جو اتنی ہی زیادہ اطلاعات کی تصاویر دکھاتی ہیں کہ جتنی اس (امریکہ) کی اپنی سیٹلائٹس دکھاتی ہیں!
جیسے جیسے تباہی کا میزان واضح ہو رہا ہے، بہت سے لوگ اس حیرت میں ڈوبتے جا رہے ہیں کہ امریکی موجودگی جو کبھی "مشرق وسطی میں دفاعی ڈھال” سمجھی جاتی تھی،
اب "موت کا پھندا” بن چکی ہے!
.