ایران کیخلاف جنگ میں متحدہ عرب امارات کی ذلت آمیز شکست کی وجہ برطانوی پروفیسر کے زبانی

ڈاکٹر اینڈریاس کریگ

ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈیفنس اسٹڈیز،

کنگز کالج، لندن

متحدہ عرب امارات نے گذشتہ دو دہائیاں؛ چھوٹی ریاستوں کے معمولی انجام سے

"ہائپر کنیکٹیویٹی کی نیٹورک پاور” کے ذریعے "فرار” پر مبنی کوششوں میں گزاری ہیں

اُس نے بندرگاہیں بنائیں، اثرورسوخ خریدا، مسلح گروہ تشکیل دیئے اور

واشنگٹن کی توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ماسکو و بیجنگ کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھے

اور یوں اُس نے اپنی ملکی تصویر "جغرافیا کی قید میں پھنسی ریاست” کے بجائے

کہیں تیز، کہیں امیر اور کہیں مفید ملک کے طور پر بنا کر پیش کی

لٹل اسپارٹا برانڈ (Little Sparta) (کہ جس کے ذریعے متحدہ عرب امارات کو پکارا جاتا ہے)

کسی بھی لقب سے بڑھکر کوئی ڈاکٹرائن معلوم ہوتا ہے..

(یہ درحقیقت) ایک چھوٹی فیڈریشن، کہ جس کی خواہشات درمیانے درجے کی طاقت کے جیسی ہیں؛ نسبی فوجی برتری اور اپنا مطلوبہ تزویراتی ماحول تشکیل دینے کے لئے بطور کافی نیٹورک پاور (عالمی نیٹورکس کو منظم اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت) کی حامل ہے

لیکن گذشتہ 3 ماہ نے ابوظہبی کے عزائم اور جیوپولیٹیکل حقیقت کے درمیان تصاد کو آشکار کر دیا ہے

خلیج (فارس) کے انفراسٹرکچر پر ایران کے حملوں نے ابوظہبی کو "درمیانے درجے کی طاقت پر مبنی اپنے تصور”

اور ایک چھوٹی ریاست ہونے کے ناطے اس کے "انفراسٹرکچر کو لاحق خطرات” کے درمیان گہرے تضاد سے روبرو کر دیا ہے

اماراتی صدر کے مشیر انور قرقاش نے حال ہی میں اپنے ہمسایوں اور شراکتداروں پر برستے ہوئے ایکس پر جاری ہونے والے اپنے بیان میں لکھا ہے:

"دوست، بجائے اولین متحد و حامی ہونے کے، ثالث میں بدل گئے ہیں”

یہ بیان، ایران کے خلاف اپنے ہمسایوں اور شراکتداروں کو مزید جارحانہ موقف اختیار کرنے

پر مجبور کرنے سے متعلق اس ریاست (امارات) کی ناتوانی کا پتہ دیتا ہے

گذشتہ ماہ، اماراتی تجزیہ کار طارق العتیبہ نے اپنے مقالے میں، "ایران کی جارحیت کے خلاف ڈیٹرنس بنانے میں ناکامی” پر

عرب یک جہتی اور کثیر الجہتی کی شدید مذمت کی

اور ایک ماہ قبل ہی اس کے بڑے بھائی یوسف العتیبہ کہ جو امریکہ میں اماراتی سفیر بھی ہے، نے اپنی ایک یادداشت میں نہ صرف یہ اعلان کیا کہ ابوظہبی، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر مبنی عالمی انیشی ایٹو کا حصہ بننے کو تیار ہے بلکہ یہ بھی کہا کہ امارات، اس حوالے سے آپریشنل ذمہ داریاں لینے کو بھی تیار ہے

اُٹھ کھڑے ہونے پر مبنی یہ پیغامات درحقیقت، ایک تلخ حقیقت کو چھپانے کے مقصد سے جاری کئے گئے ہیں کہ جو یہ ہے:

"یو اے ای کا ڈھیروں ڈھیر اثر و رسوخ، ایران کی قابو میں نہ آنے والی زبردست طاقت کے ساتھ مقابلے میں ‘تزویراتی خودمختاری’ تک نہیں پہنچ پایا”

یہ مفروضہ کہ نیٹورک پاور، تزویراتی جغرافیائی گہرائی کا نعم البدل بن سکتی ہے، اب اپنی محدودیتوں کو آشکار کر رہا ہے

محمد بن زائد کے صدارتی دور میں ابوظہبی نے حکمرانی کی ایک ایسی صورت کو کمال تک پہنچایا کہ جو

"دوسری طاقت پر انحصار” کو "اسلحہ جاتی شکل” دینے پر مبنی تھی

متعدد کوریڈور، لاجسٹک مراکز، قومی فنڈز، انفارمیشن و میڈیا چینلز، گڈ ٹریڈرز، پرائیویٹ فوجی و سکیورٹی کمپنیوں اور

یمن سے لے کر سوڈان تک کے "پراکسی روابط” نے متحدہ عرب امارات کو اس کے اپنے (وجود کے) سائز سے کہیں بڑھکر (اثر و رسوخ و) دسترسی عطا کی

یہ ماڈل نہ صرف موثر بلکہ ایک وقت میں "بے رحم” بھی تھا

اس ماڈل نے نہ صرف ابوظہبی کو تنازعات، بازاروں اور سفارتی گفتگو میں مداخلت کے قابل بنایا

بلکہ اُس نے ان حوادث کا شکار ہو جانے کے بجائے ابوظہبی کو اس دوران اپنی ریاستی شکل برقرار رکھنے کے قابل بھی بنایا

لیکن نیٹورک کے ذریعے حاصل ہونے والی طاقت

خلیج (فارس) کے خطے میں "نتائج کے حصول کی طاقت” میں کبھی نہیں بدلتی

جب آئی آر جی سی کے نام سے پہچانی جانے والی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی کور نے تناؤ میں اضافے کا فیصلہ کیا

تو یو اے ای کے "متاثر کن” اثاثہ جات نے "حقیر سی جبری قدر” ہی ظاہر کی!

(یعنی متحدہ عرب امارات کے پاس موجود وہ اثاثے کہ جنہیں "متاثر کن” سمجھا جاتا تھا، درحقیقت ایران کے سامنے بہت کمزور اور بے اثر ثابت ہوئے)

باوجود اس کے کہ امارات نے روس کا سرمایہ اور اس کے متعدد اولیگارش (عظیم سرمایہ دار) بھی اپنی قانونی قلمرو میں لا رکھے تھے،

ماسکو بھی ابوظہبی کے دفاع میں نہ اٹھا

اور بیجنگ نے بھی وہی اظہار تشویش اور استحکام کی جانب دعوت پر مبنی جانی پہچانی زبان استعمال کی

واشنگٹن نے گو کہ اطمینان دلوایا.. لیکن ڈیٹرنس بنانے کے حوالے سے انتہائی کم مدد کی

عین اسی ڈھانچے نے کہ جو امارات کو "ناقابل تبدیل” بنا کر ظاہر کر رہا تھا.. نے بھی اب اپنی محدودیتوں کو آشکار کر دیا

عالمی سرمایہ کاری کے مرکز میں بدل جانا، عالمی تجارت میں لاجسٹک کا مرکز بن جانا اور ہر ایک اہم طاقت کا شراکتدار بن جانا ہی وہ چیز تھا کہ جس نے

یو اے ای کو آئی آر جی سی (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران) کے اولین ہدف میں بدل کر رکھ دیا

امارات کے مالی اداروں اور لاجسٹک کمپنیوں کے ساتھ سپاہ پاسداران (IRGC) کے بُنے ہوئے مالی نیٹورکس بھی

اُس ہمسائے (ایران) کو تحمل پر مجبور کرنے کے لئے کافی نہ تھے کہ جو "درد برداشت کرنے” کو مکمل طور پر تیار ہو چکا تھا

یہ وہی "اماراتی حکمرانی کا تضاد” ہے؛

امارات نے خطے بھر میں اثر و رسوخ کا ایک انتہائی اعلی نیٹورک بنایا لیکن پھر بھی وہ اپنے جغرافیا کا قیدی باقی رہا

اس کی بندرگاہیں، ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی زد میں واقع ہیں

اس کا مال و ثروت؛ اعتماد، اتصال اور غیر منقطع بہاؤ پر انحصار کرتا ہے

اماراتی معیشت صرف اسی لئے نشانہ بنتی ہے کہ وہ کھلی، نمایاں اور عالمی سطح پر متصل ہے

امارات کو تزویراتی طور پر کمزور بنانے کے لئے ایران کو جو کچھ کرنا ہے، صرف یہی ہے کہ

وہ سرمایہ کاروں، انشورنس و شپنگ کمپنیوں اور غیر ملکیوں کو یہ باور کروا دے کہ امارات، خلیج (فارس) پر حاکم عدم تحفظ میں کوئی "استثنی” نہیں!

یہی وجہ ہے کہ اس وقت اُن (امارتیوں) کی بیان بازی انتہائی کمزور لگ رہی ہے

ابو ظہبی اپنے لئے منظم، ناقابل دسترسی، ہمسایوں سے زیادہ طاقتور اور حتمی طور پر خلیج (فارس) کے دوسرے چھوٹے ممالک کی طرح کمزور نہ ہونے پر مبنی "لٹل اسپارٹا” (کہ جو اسے چھوٹی اور فوجی و معاشی طور پر انتہائی طاقتور قدیم یونانی ریاست اسپارٹا کے ساتھ موازنے کے طور پر کہا جاتا ہے) جیسی اپنی تصویر کو باقی رکھنا چاہتا ہے

درحالیکہ اس جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ امارات کو بھی اُسی علاقائی دباؤ کا سامنا ہے

کہ جس سے خلیج (فارس) کے خطے کی دوسری چھوٹی ریاستیں دوچار ہیں

اس ملک کے "کمزور” ہونے (اور خطرات میں گھرے ہونے) کی نمائش

اس کی ہمسائیگی، آبادیاتی شرح (ڈیموگریفی) اور بیرونی سکیورٹی ضمانت سے متعلق مادی حقائق کے ساتھ متصادم ہے

امارات کے حساس قومی انفراسٹرکچر پر ایرانی حملوں کے جواب میں ایرانی سرزمین کے اندر امارات کے "پرجوش فوجی حملے”

سپاہ پاسداران کے سامنے ڈیٹرنس کی بحالی کے حوالے سے کوئی "کامیابی” قرار نہ پائیں گے

کیونکہ سپاہ پاسداران؛ خلیج (فارس) تعاون کونسل کے ممالک کی نسبت درد برداشت کرنے کی کہیں زیادہ صلاحیت رکھتی ہے!

ان حملوں کے بعد؛

ایران کیخلاف مشترکہ و فیصلہ کن فوجی مہم جوئی میں ہمسایوں کو امارات کیساتھ لا کھڑا کرنے کیلئے محمد بن زائد کی جانب سے سرتوڑ کوششیں بھی کی گئیں

ہمسایوں کی جانب سے اس مطالبے کے بابت بے رُخی کے جواب میں، ابوظہبی نے اُس وقت سے ہی

فیصلہ کن ہونے اور حکمرانی کا پیغام ارسال کرنے کے کسی ترجیحی آلے کے طور پر "تزویراتی رابطہ کاری” (میڈیا و پراپیگنڈا سفارتکاری) کو اپنا رکھا ہے

بنابرایں، اماراتی پیغامات کی ترسیل زیادہ تر اپنے عرب ہمسایوں، تعاون کونسل، عرب لیگ اور پاکستان جیسے ثالث شراکتداروں

کو دھمکانے کی قیمت پر ہی تمام ہو گئی کہ جن پر اس نے "یو اے ای کے ساتھ بطور کافی مضبوطی سے کھڑے نہ ہونے” کا الزام لگا دیا!!


You may also like

Page 1 of 2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے