ایران کے ایٹمی پروگرام پر نئی بحث، سپریم لیڈر سے ایٹم بم کی تیاری کی منظوری مانگ لی گئی
ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف مذہبی فتویٰ جاری کیا تھا
ایران کے ایک رکن پارلیمنٹ محمود نبویان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں ایٹم بم تیار کرنے کی اجازت دیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تجویز شہر قم میں ہونے والے ایک اجتماع کے دوران پیش کی، جہاں موجود افراد نے اس کی حمایت میں ردعمل دیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق محمود نبویان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں بتایا کہ انہوں نے اجتماع کے دوران ایران کی جوہری پالیسی پر نظرثانی اور ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی اجازت دینے کا معاملہ اٹھایا تھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے متعدد ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے ملک کے دیرینہ مؤقف پر نظرثانی کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف مذہبی فتویٰ جاری کیا تھا، جسے تہران اپنے جوہری مؤقف کی بنیاد قرار دیتا رہا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ستمبر میں الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اب بھی اس مذہبی فیصلے کا پابند ہے اور اس کی جوہری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تاہم انہوں نے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم نہیں جانتے کہ آگے کیا ہوگا۔‘‘
محمود نبویان کا تازہ مطالبہ ایران کے اندر جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر جاری بحث اور پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے مطالبات کو نمایاں کرتا ہے۔ تاہم ان کا بیان ایران کی جانب سے ایٹم بم بنانے کا باضابطہ فیصلہ یا اعلان نہیں ہے۔



