
وہ باتیں جو آپ نے ٹرمپ سے نقل کی ہیں..
میں ٹرمپ کے پیغام کا کوئی جواب نہیں دوں گا
میں آپ کو کچھ باتیں بتاؤں گا
لیکن اسے (ٹرمپ کو) کوئی پیغام نہیں دوں گا
کیونکہ میں ٹرمپ کو پیغامات کے تبادلے کے قابل بھی نہیں جانتا
وہ جو کہتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ ”صادقانہ” مذاکرات شروع کرنے کو تیار ہیں
ہم اس بات پر کسی صورت یقین نہیں کرتے.. (کیونکہ) صادقانہ مذاکرات ٹرمپ جیسے کسی شخص سے انجام نہیں پاتے
”صداقت” امریکی حکام میں کمیاب ہے!
ہم معتقد ہیں کہ ”امریکہ کے ساتھ مذاکرات” کے ذریعے ہماری کوئی مشکل حل نہ ہو گی
امریکیوں نے، جتنی دشمنی وہ کر سکتے تھے، کی ہے اور کر رہے ہیں
”دباؤ کے تحت مذاکرات” کو کوئی بھی آزاد قوم قبول نہیں کرتی
امریکہ کے ساتھ ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ ایران میں ”ریجیم چینج” کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں
(کیونکہ) اگر وہ ایسا ارادہ رکھتا بھی ہو، تب بھی وہ اس پر عملدرآمد کے قابل نہیں
ان 40 سالوں کے دوران امریکی صدور نے اسلامی جمہوریہ (نظام حکومت) کو ختم کرنے کی (سرتوڑ) کوششیں کیں لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے!
یہ (ٹرمپ) بھی اگر کر سکتا تو، یہ کام ضرور کرتا..
یہ جو وہ کہتا ہے کہ میں ارادہ نہیں رکھتا، وہ جھوٹ بولتا ہے!
اگر وہ کر سکتا تو ضرور کرتا.. لیکن وہ نہیں کر سکتا..!
وہ جو جوہری ہتھیاروں کے بارے بات کر رہا ہے.. اس نے کئی ہزار نیوکلیئر وارہیڈ اپنے گوداموں میں دبا رکھے ہیں
اس میں یہ بات کہنے کی صلاحیت نہیں ہے! کہ فلاں ملک جوہری ہتھیار رکھے یا نہ رکھے..
ہم.. کیوں نہیں!
کیونکہ ہم جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہیں!