امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کا فی الحال کوئي پروگرام نہیں اور اس کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے۔ تہران نہ تو ہتھیار ڈالے گا اور نہ ہی اپنے وقار اور عزتِ نفس پر سمجھوتہ کرے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (J.D. Vance) کے بھیجے گئے پیغام کا مکمل جائزہ لیا ہے اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران اس مسئلے پر غور کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کے امکان کے حوالے سے، ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے کہا کہ فی الحال ایسی کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور اس بارے میں سامنے آنے والی کوئی بھی خبر محض میڈیا کی قیاس آرائی ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید وضاحت کی کہ "ہم نے وینس کے پیغام کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اس پر اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بات چیت ہوئی ہے۔”
عراقچی نے مذاکرات اور مفاہمت کی وسیع تر راہ ہموار کرنے کی امریکی کوشش کو ایک مثبت قدم قرار دیا؛ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس پیغام کو بھیجنے کے پس پردہ تفرقہ ڈالنا یا تقسیم پیدا کرنا ہے، تو یہ ایک اور غلطی ہوگی—جو ماضی میں امریکہ کی جانب سے کی گئی غلطیوں کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ موجودہ حالات میں، تہران کو امریکہ کے ساتھ ملاقات کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی شرائط واضح ہیں، اور ثالثی کرنے والے ان شرائط کے حوالے سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آخر میں، وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات براہ راست ہوں یا بالواسطہ، اس کا فیصلہ تب ہی کیا جائے گا جب واشنگٹن تہران کی شرائط کو تسلیم کر لے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہاکہ ” فی الحال، ہمیں امریکیوں کے ساتھ ملاقات کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی؛ ہماری شرائط واضح ہیں اور ثالث ان کے بارے میں اپنی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔”
عراقچی نے مزید کہا کہ جب واشنگٹن ان شرائط پر رضامند ہو جائے گا، تب یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ مذاکرات براہ راست ہونے چاہئیں یا بالواسطہ۔
انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایک ایرانی وفد دوحہ پہنچ چکا ہے، اور ان کے معاون بھی مشاورت کی غرض اس وقت قطر میں موجود ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ ثالث کے طور پر قطر اور پاکستان بھی تہران کی شرائط کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ تجویز ہی اس سلسلے میں واحد منصوبہ ہے جو اس وقت زیرِ غور ہے۔
قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری کوششوں اور رابطوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ثالثوں نے جوہری مسئلے سے متعلق تجاویز پیش کی ہیں، جن کا تہران اس وقت مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے تناظر میں جائزہ لے رہا ہے۔
معاہدے تک پہنچنے کے لیے تہران کی شرائط کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر خارجہ نے پابندیاں ہٹانے، منجمد اثاثوں کی بحالی، خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تہران کے مطالبات میں اسلام آباد مفاہمت کے بعد عائد کی گئی پابندیوں کا خاتمہ اور خطے میں امریکی فوجی دستوں میں کمی شامل ہے۔
عراقچی نے ایران کے لیے تیل سے متعلق چھوٹ (waivers) کی بحالی اور قطر میں موجود اثاثوں سمیت ملک کے تمام منجمد اثاثوں کی واگزاری کا بھی مطالبہ کیا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے تہران کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ آبنائے میں عمان کے تعاون سے قائم کیے گئے جہاز رانی کے نئے راستے کو باضابطہ تسلیم کیا جائے، اور موجودہ راستوں کو بند کر دیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کی شرائط کے مطابق آبنائے ہرمز کا کھولا جانا ہی واشنگٹن کے ساتھ حل طلب مسائل پر مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے یہ بھی کہا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ تہران کے مطالبات میں شامل ہے۔
انٹرویو کے دوران، دوبارہ تنازعہ شروع ہونے کے امکان پر بات کرتے ہوئے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران کسی بھی صورتحال کو خارج از امکان قرار نہیں دیتا اور ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران نے اپنے ہتھیاروں کو جدید بنایا ہے، فوجی خامیوں کو دور کیا ہے، اور نئے ہتھیاروں کا تجربہ بھی کیا ہے؛ اس وقت ایرانی مسلح افواج تیاری کی اعلیٰ ترین سطح پر ہیں۔
ایران کے ’جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے‘ (NPT) کا رکن ہونے پر زور دیتے ہوئے، وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔
’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘ (IAEA) کی نگرانی میں چلنے والی ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایجنسی کے پاس ایسے حالات میں تنصیبات کے معائنے کے لیے کوئی مخصوص ضابطہ کار (پروٹوکول) موجود نہیں ہے۔
اپنی بات مکمل کرتے ہوئے، وزیر خارجہ نے ملک کو درپیش معاشی دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ تہران معاشی دباؤ سے انکار نہیں کرتا، لیکن وہ نہ تو ہتھیار ڈالے گا اور نہ ہی اپنے وقار اور عزتِ نفس پر سمجھوتہ کرے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران مزاحمت جاری رکھے گا اور ثابت قدم رہے گا، نیز اپنی داخلی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے موجودہ مشکل صورتحال پر قابو پا لے گا۔



