
جنگل میں، پیلے سر والا ایک نر، غیر متزلزل خود اعتمادی کے ساتھ قدم اٹھا رہا ہے، وہ درخت کے تنے پر پے در پے ضربات کے ذریعے اپنے جتھے کے تمام اراکین کو اپنے گرد جمع کر لیتا ہے
اس نے اپنے ریوڑ کی حکمرانی سالہاسال سے محفوظ بنا رکھی ہے
مقابلے میں متعدد حریف آئے اور چلے گئے
تاہم اس کے پیروکار، اس کے ساتھ گہری وفاداری ظاہر کرتے ہیں
جب وہ پکارتا ہے تو سب اکٹھے ہو جاتے ہیں
جب وہ پیشقدمی کرتا ہے تو وہ اس کی پیروی کرتے ہیں
حتی جب وہ انہیں خطرات میں لے کر جا گھستا ہے تب بھی وہ سفر پر اس کے شکرگزار ہوتے ہیں
اگر اس کے قدم لڑکھڑا جائیں تو وہ اسے سہارا دینے آ پہنچتے ہیں
اگر وہ انہیں بے آب و گیاہ میدان میں بھی لے جائے
تب بھی وہ یوں اچھلتے ناچتے ہیں کہ گویا کوئی نئی ضیافت مل گئی ہو
اس کے فیصلوں پر سوال اٹھانا ”تصور سے بالاتر” ہے
اس عجیب و غریب جتھے کے لئے وفاداری، کامیابی کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی
بلکہ کامیابی، مکمل طور پر اندھی وفاداری کے ذریعے حاصل ہوتی ہے
لیکن، جنگل کی گہرائیوں میں، اس جگہ سے کہیں دور کہ جہاں یہ کمال خود اعتمادی کے ساتھ حکمرانی کرتا ہے، ایک اور سلسلہ بھی موجود ہے
یہاں، ایک چھوٹا اور انتہائی خفیہ جتھہ، پیلے سر والے نر پر ایک خاص اثر و رسوخ رکھتا ہے
اور جب وہ اسے لائن حاضر کرتا ہے تو ایک انتہائی دلچسپ منظر رونما ہوتا ہے
وہ مخلوق جو اپنے پیروکاروں سے بلا چون و چرا اطاعت کی خواہاں ہے
خود اچانک ہی انتہائی فرمانبردار بن جاتی ہے
اس کا مغرورانہ انداز کافور ہو جاتا ہے
اور اس کی گرجدار آواز کمزور پڑ جاتی ہے
سب پر حاوی رہنے والا نر اب اپنا سر جھکا دیتا ہے اور
رام شدہ فرمانبرداری کی آشکار حالت میں، مطیع ماتحت کی طرح اپنے آقاؤں کے قریب پہنچتا ہے
اور پھر جنگل اپنا پراسرار راز کھول دیتا ہے
یہ کہ کبھی کبھارجتھےکی سب سے زیادہ شور شرابا مچانے والی مخلوق،ضروری نہیں کہ سرغنہ بھی ہو!
کبھی کبھار، وہ صرف وہی ہوتی ہے کہ جسے شور شرابا کرنے کی اجازت دی گئی ہوتی ہے