لی شائوشین
ماہر امور مشرق وسطی
موجودہ صورتحال کے تناظر میں..
ایرانی نظام حکومت کا خاتمہ یا اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا..
سرے سے ایک ایسا ہدف ہے کہ جس کے حصول کی کوئی امید نہیں
اور واشنگٹن بھی یہ بات بخوبی جانتا ہے
میرے خیال میں، اس وقت امریکہ جس چیز کے لئے ہاتھ پیر مار رہا ہے.. وہ اس جنگ سے "عزت کے ساتھ” باہر نکلنا ہے
لیکن امریکہ اس جنگ سے عزت کے ساتھ کیسے باہر نکل سکتا ہے؟
اس کام کی دو شرائط ہیں؛ پہلی: آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور اس میں سکیورٹی کی ضمانت
اور دوسری: ایرانی جوہری مسئلے کا حل
مزید یہ کہ واشنگٹن کو اس حوالے سے 2015 کے معاہدے (JCPOA) سے بڑی کامیابی بھی حاصل کرنا ہے
تاکہ وہ اسے "عظیم فتح” کا رنگ دے سکے!
البتہ ان دو شرائط کو ایران بھی بخوبی جانتا ہے
لہذا وہ آسانی کے ساتھ عقب نشینی نہیں کرے گا
اس دوران ایران، آبناء (ہرمز) کو کھلا رکھنے کے موضوع کا بطور ہتھیار استعمال کرے گا
لیکن وہ اس کے جواب میں کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟
ایران کسی معاملے کی فکر میں ہے تاکہ وہ اس موضوع کے جواب میں پابندیوں کا خاتمہ
اور اپنے منجمد اثاثہ جات کی امریکہ سے آزادی کو حاصل کر سکے اور اقتصادی محاصرہ ختم ہو
ساتھ ہی،اگر جوہری مسائل کے بارے بھی طے یہ ہو کہ ایران کسی متعین حد تک عقب نشینی اختیار کرے اور مراعات دے،تو بھی وہ حتمی طور پر اس کے جواب میں دوسرے مسائل یا ناقابل حل امور میں امریکہ سے مراعات ضرور طلب کریگا
ایسے امور کہ جن کے بارے امریکہ کو ذرا پیچھے ہٹنا پڑے گا
جیسا کہ ضبط شدہ بحری جہازوں اور منجمد اثاثوں کی آزادی..
لیکن ایران کی دفاعی صنعت کے بارے،
قبل ازیں امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ "کوپر” نے دعوی کیا تھا کہ ایران کی 90 فیصد دفاعی صنعت تباہ کر دی گئی ہے
لیکن دوسری جانب امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں بھی اعلان کر رہی ہیں کہ حقیقت تصورات کی نسبت بہت جلد وقوع پذیر ہو جاتی ہے اور یہ کہ ان (ایرانی دفاعی) صلاحیتوں کو صرف چند ماہ میں ہی بحال کر لیا جائے گا
آپ کے خیال میں ان دونوں میں سے کونسی بات قابل اعتماد ہے؟
میرے خیال میں
اس امریکی جنرل کے بیانات، حقیقت سے کوسوں دور ہیں
میں ایسا اس لئے کہہ رہا ہوں کہ درحقیقت، ایران کی 90 فیصد دفاعی صنعت کی تباہی سے متعلق دعوی،
اسی بیان بازی کا تکرار ہے کہ جو قبل ازیں امریکی صدر اور امریکی وزیر جنگ کی جانب سے کئی مرتبہ دہرائی جا چکی ہے
مثلا: ایران کے 80 فیصد میزائلوں کے خاتمے، 90 تا 95 فیصد ڈرون صلاحیت کی تباہی
اور ایرانی بحریہ و ایئرفورس کی مکمل تباہی.. جیسے دعوے!
اور میرا خیال ہے کہ یہ تمام کے تمام دعوے مبالغہ آمیز تھے جو میدانی حقیقت سے بہت زیادہ مختلف ہیں
ان دعووں کی وجہ کو 3 صورتوں میں بیان کیا جا سکتا ہے:
پہلی یہ کہ امریکہ نے اس جنگ کے دوران، حتما ایران میں بہت زیادہ اہداف پر حملہ کیا ہے
ان کے اپنے بیانات کے مطابق، شاید ہزاروں اہداف.. شاید دسیوں ہزار اہداف..
لیکن کسی بھی ہدف کو جزوی طور پر تباہ کرنے اور مکمل تباہ کر ڈالنے میں زمین آسمان کا فرق ہے جیسا کہ گذشتہ جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران واشنگٹن نے دعوی کیا تھا کہ اس نے 3 ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے
اور امریکی صدر کے بقول؛ اس نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کا جڑ سے خاتمہ کر دیا تھا
لیکن اب صورتحال کیا ہے؟ (کہتے ہیں کہ ایرانی جوہری تنصیبات کو صرف نقصان پہنچا ہے)
سو حقیقت یہ کہ ایران، بلند و بالا پہاڑوں اور وسیع میدانوں پر مشتمل ایک ملک ہے
اور اس کی بہت سی تزویراتی تنصیبات، زمین کی گہرائی میں اور پہاڑوں تلے موجود ہیں.. یہ پہلی صورت!
دوسری صورت یہ کہ جیسا کہ جنگ کے شروع کے ایام میں بھی سامنے آیا تھا؛
ایران نے کیموفلاج اور (جھوٹے اہداف کے ذریعے) فریب کی ٹیکنیک لڑی ہے
لیکن امریکیوں نے ان (جھوٹے اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں) کو بھی اپنی حقیقی کامیابیوں میں شمار کیا ہے..
یہ دوسری صورت
حساب کتاب کی غلطی..
جی.. اور تیسری صورت یہ کہ
میرا خیال ہے کہ خود امریکہ بھی جنگ سے قبل ایران کی حقیقی صلاحیتوں کے بارے غلط اندازے لگا رہا تھا
اس لئے کہ یہ جنگ، بلاشبہ، ایران کے حوالے سے امریکہ کے غلط تزویراتی حساب کتاب کے پورے مجموعے پر استوار ہے!
کیونکہ انہوں (امریکیوں) نے جنگ سے قبل ایران کی فوجی طاقت کو احمقانہ طور پر کم سمجھ رکھا تھا