ثالثوں کا بدلا رویہ

IMG_20260728_010645_696.jpg

IMG_20260728_010645_696.jpg

ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ کن اہداف کے حصول کے تحت شروع کیا گیا ہے؟ کیا وہ ایک وسیع تر زمینی حملے اور ممکنہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے مقدمہ چینی کی کوشش کر رہا ہے یا ایران پر دباو ڈال کر آبنائے ہرمز میں اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرنے کے درپے ہے؟ یہ وہ دو احتمال ہیں جو ایران کے خلاف امریکی حملوں کے حالیہ سلسلے کے بارے میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ اس بارے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے ممالک کے رویوں کا جائزہ لینے سے بھی ایران کے خلاف امریکہ کے ممکنہ اہداف کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی حملوں کا حالیہ دور شروع ہوتے ہی پاکستان، عمان، قطر اور حال ہی میں عراق نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی برقرار کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کا رویہ اس بار اس سے مختلف تھا جب انہوں نے گذشتہ 40 روزہ جنگ رکوانے کے لیے ایسا ہی کردار ادا کیا تھا۔ ان کی نظر میں چالیس روزہ جنگ کے آخری دنوں میں نیز ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پا جانے کے لیے پاکستان اور قطر نے اب کی نسبت بہت زیادہ فعال کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح سعودی عرب جیسے کچھ علاقائی ممالک نے بھی پس پردہ اقدامات انجام دیے تھے۔

اسی طرح پاکستان کے اعلی سطحی حکام نے بار بار ایران کا دورہ کیا تھا جبکہ قطر کے حکام نے بھی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طور پر کئی بار ایران کا دورہ کیا تھا۔ مزید برآں، گذشتہ چالیس روزہ جنگ کے دوران ثالثی کرنے والے ممالک ہر پیشرفت کا اعلان کیا کرتے تھے اور میڈیا پر اس کی خبر آتی رہتی تھی۔ لیکن اس بار نہ تو ثالثی کرنے والے حکام کی آمدورفت دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی وہ میڈیا ذرائع کو اندر کی باتوں سے آگاہ کر رہے ہیں۔ گذشتہ جنگ میں مفاہمتی یادداشت کے نکات پہلے ہی منظرعام پر آ گئے تھے جبکہ اس بار کوئی خبر میڈیا پر نہیں آ رہی۔ البتہ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار صورتحال اس لیے مختلف ہے کیونکہ حالیہ حملوں میں امریکہ کے اہداف بنیادی طور پر گذشتہ جنگ سے مختلف نوعیت کے ہیں۔ گذشتہ چالیس روزہ جنگ میں امریکہ کا سب سے بڑا مقصد رجیم چینج تھا لیکن اس بار اس کا اہم ترین مقصد آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ختم کر کے اپنا کنٹرول قائم کرنا ہے۔ لہذا اس بار ثالثی کرنے والے ممالک کا رویہ بھی مختلف ہے۔

البتہ ایک اہم اور قابل توجہ نکتہ یہ پایا جاتا ہے کہ گذشتہ جنگ میں ثالثی کرنے والے ممالک کا رویہ پوری طرح امریکہ کی مرضی سے ہم آہنگ تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ بذات خود چالیس روزہ جنگ کے آخری دنوں میں شدت سے جنگ بندی چاہتا تھا اور ایران سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کروانے کے درپے تھا۔ لہذا پاکستانی اور قطری حکام کو ثالث کے روپ میں یہ اہداف حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ لیکن اس بار کم از کم ثالثوں کے رویے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے حصول پر زیادہ زور نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ اور مارکو روبیو جیسے دیگر امریکی حکام اپنے بیانات میں دعوی کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایران سے جنگ بندی اور نئے معاہدے کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ اس بات پر امریکی فوج کی سرگرمیاں اور اقدامات بھی گواہی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ لہذا بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ وائٹ ہاوس فی الحال جنگ بندی میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔ البتہ یہ نکتہ بھی اہم اور قابل توجہ ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ کی جانب سے خارجہ سیاست میں انتہائی متزلزل اور تیزی سے بدلتے ہوئے فیصلوں نے اس کے بارے میں پیشن گوئی بہت مشکل کر دی ہے۔ البتہ ایک بات واضح ہے کہ امریکہ کے فیصلے ٹھوس اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ عارضی مفادات کے حصول کے لیے انجام پاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے