امریکہ-ایران امن معاہدہ = نئے ایران کی پیدائش

Tucker Carlson
Independent Media Host

 

جمعے کے روز (دستخط ہونیوالے) اس (معاہدے) کے ذریعے امریکہ نے سرکاری طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ ایران بھی ایک کھلاڑی ہے

اور یہ بات ہر چیز کو بدل کر رکھ دیتی ہے..

بالکل ویسے ہی کہ جیسے 1956ء میں (نہر) سویز کا بحران بنا تھا..

ایک اور بحران.. ایک اور جنگ.. ایک ایسی تنگ آبی گزرگاہ پر کہ جس سے تجارتی مال گزرتا ہے.. نے بالآخر برطانوی سلطنت کا خاتمہ کر کے رکھ دیا تھا

آپ کہہ سکتے ہیں کہ برطانوی سلطنت درحقیقت ایک لحاظ سے، پہلی جنگ عظیم کے بعد 1918ء میں دستخط ہونے والے جنگبندی معاہدے سے ختم ہوئی

البتہ یقینا آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کا خاتمہ 1945ء میں، اُن کے بقول
"ان کی جانب سے دوسری عالمی جنگ جیتنے” کے ساتھ ہوا

لیکن بہت سی مضمحل ریاستوں کی طرح یہ (برطانیہ کا زوال) واضح نہیں تھا  کیونکہ روزمرہ زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی

اور برطانیہ کی پوری دنیا پر حکومت تھی.. لہذا وہ کمزور تو ہو رہی تھی لیکن ابھی مری نہ تھی!

لیکن اس گھمبیر بحران کے بعد بہت ہی کم عرصے میں برطانیہ کا کام تمام ہو چکا تھا..

کیوں…؟؟؟

اس لئے کہ 1956ء کے (نہر) سوئز کے بحران کے نتیجے میں.. برطانیہ نے انتہائی واضح کر دیا تھا کہ، اس بات سے ہٹ کر کہ وہ کیا کہتے یا چاہتے ہیں، وہ نتائج کو کسی صورت بدل نہیں سکتے!

ان کے پاس، امور کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی طاقت ہی نہ رہی تھی!

امریکہ نے بھی ایسا ہی کیا ہے.. لہذا امریکہ.. نہ سرکاری طور پر بلکہ درحقیقت عملی طور پر،
وسطی ایشیا کا حاکم ہونے کے ناطے.. اب (زوال پذیر) برطانیہ کی جگہ لے چکا ہے!!

اس (ایران-امریکہ امن معاہدے) کے ذریعے امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ
دنیا کی بہترین اور وسیع ترین اور یقینی طور پر انتہائی بڑے بجٹ کی حامل فوج رکھنے کے باوجود

دنیا کی 34ویں بڑی معیشت (ایران) پر اپنی مرضی تھونپنے کے لئے
امریکہ کے پاس ضروری فوجی طاقت نہیں!!


You may also like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے