آبنائے ہرمز اور امریکی آرڈر کے پرخچے
رپورٹ فارن افیئرز (مارک لیونارڈ)
امریکہ کی سربراہی میں ورلڈ آرڈر محض ایک بحران سے روبرو نہیں بلکہ حقیقت میں زوال پذیر ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا آرڈر جو کئی عشروں تک حاوی رہنے کے بعد اس وقت نہ صرف چین اور روس جیسی حریف طاقتوں کی جانب سے درپیش چیلنجز کا شکار ہے بلکہ اس کا اصل حامی یعنی امریکہ بھی اس کی حفاظت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار دکھائی نہیں دے رہا۔ موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے چین میں ان عمارتوں کا تصور ذہن میں لائیں جو اس ملک میں ہاوسنگ انڈسٹری میں بحران رونما ہونے کے بعد عجیب منظر پیش کر رہی تھیں۔ ہر طرف ادھوری عمارتیں دکھائی دیتی تھیں اور کچھ شہری تو انہی نامکمل عمارتوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ چینی ان عمارتوں کو "لان وی لو” یعنی دم کٹی عمارتیں کہتے تھے۔ یہ وہ بڑے بڑے ہاوسنگ منصوبے تھے جو درمیان میں ہی ختم ہو گئے تھے۔ امریکہ کی سربراہی میں ورلڈ آرڈر بھی اس وقت یہی منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ آرڈر ہر گز چین اور روس کی جانب سے قابل قبول واقع نہیں ہوا اور درمیانی طاقتیں بھی دھیرے دھیرے اس سے ناراض ہو گئیں۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکی عوام بھی عالمی سطح پر امریکہ کے کردار کی قیمت ادا کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے اور ایسے وقت جب واشنگٹن پیچھے ہٹتا جا رہا ہے کوئی اور طاقت بھی اس کی جگہ لینے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔
لہذا اس کا نتیجہ ورلڈ آرڈر کی سربراہی کا امریکہ سے چین منتقل ہو جانا نہیں نکلے گا بلکہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو جائے گی جسے "بے نظمی” کہا جا سکتا ہے۔ ایسا مرحلہ جس میں دنیا کے ممالک کسی ایک طاقت پر بھروسہ کیے بغیر آپس میں مشترکہ اصول اور قوانین طے کر کے خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔ اگرچہ امریکہ اس وقت بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی، اقتصادی اور ٹیکنالوجی طاقت ہے لیکن اب اس میں یہ طاقت نہیں رہی کہ دنیا کے تمام تنازعات حل کروا سکے اور حتی دنیا بھر میں آزادانہ تجارت کی راہ ہموار کر سکے۔ امریکہ حتی آبنائے ہرمز کو بھی ایران کی جانب سے بند کر دینے کے بعد کھلوانے میں ناکام رہا ہے۔ وہ بھی ایسے حالات میں جب ایران فوجی لحاظ سے شدید دباو میں ہے۔ آبنائے ہرمز دراصل امریکہ کی حقیقی طاقت کا امتحان بن چکا ہے۔ ایسا ملک جو کئی عشروں سے خود کو عالمی تجارت کے راستوں کا محافظ کہلواتا تھا اور دنیا میں آزادانہ تجارت کا علمبردار تھا اس وقت انرجی کی عالمی تجارت کے ایک اہم اور اسٹریٹجک آبی راستے کو کھلوانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ آبنائے ہرمز کا مسئلہ درحقیقت ایک اور بڑی اسٹریٹجک تبدیلی کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ وہ تبدیلی طاقت کی "فوجی طاقت” سے "اسٹریٹجک آبی راستوں کے کنٹرول” کی جانب منتقلی پر مشتمل ہے۔ نئی دنیا میں طاقت کا اندازہ محض طیارہ بردار بحری بیڑوں اور جنگی طیاروں کی تعداد یا معیشت کے دائرہ کار سے نہیں لگایا جاتا بلکہ وہ ملک طاقتور کہلوانے کا حقدار ہے جو انرجی، ٹیکنالوجی، تجارت اور رصد کے اسٹریٹجک راستوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اسی تناظر میں آبنائے ہرمز کا مسئلہ امریکہ کے لیے ایک وارننگ ہے۔ اگر واشنگٹن حتی وسیع فوجی برتری کا حامل ہونے کے باوجود اس اسٹریٹجک آبی راستے میں جہازوں کی آمدورفت کنٹرول نہ کر سکا تو اس کے عالمی تجارت کے محافظ کے کردار پر بڑے سوال اٹھ کھڑے ہوں گے۔ امریکہ کے اکثر اتحادی ممالک نے ابھی تک اس حقیقت کو قبول نہیں کیا کہ امریکہ اپنے روایتی کردار سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر جولائی 2026ء میں نیٹو کے رکن ممالک کے اجلاس پر غور کریں۔ یورپی رہنماوں نے دفاعی بجٹ بڑھا کر ڈونلڈ ٹرمپ کو راضی کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ امریکہ اس اتحاد میں باقی رہے۔ اسی طرح برطانیہ نے امریکہ سے جنگی طیارے خریدنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ڈنمارک نے بھی واشنگٹن سے اسلحہ کی خریداری جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ آسٹریلیا نے بھی ایکوس معاہدے کے تحت امریکہ کے ساتھ سیکورٹی تعاون میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کا کہا ہے۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے اتحادی ممالک اب بھی ماضی کے آرڈر کے تحت فیصلہ سازی کر رہے ہیں جبکہ موجودہ حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ مختلف ممالک کے رہنماوں نے اپنی نجی محفلوں میں جس چیز پر سب سے زیادہ بات کی ہے وہ "غیر یقینی صورتحال” ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ آئندہ بحران میں کیا ہونے والا ہے، کون ان کی حمایت کرے گا اور حتی کون سی طاقت یا ادارہ اس بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو گا؟
اس صورتحال کے جنم لینے کی تین اہم اور بنیادی وجوہات ہیں: ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا، بحرانوں کا پھیل جانا اور گلا گھونٹ دینا۔ ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا مطلب ایکدوسرے سے دور ہو جانا اور اتحادوں، منڈیوں اور حتی ممالک کے مشترکہ موقف کا ختم ہو جانا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ جنگ ایسی ہی صورتحال کا واضح مصداق ہے کیونکہ ان دونوں میں جنگ بندی، دباو ڈالنے کی حد اور فاتح اور شکست خوردہ فریق کے بارے میں بھی مشترکہ نقطہ نظر نہیں پایا جاتا۔ دوسری طرف وہ مشکلات جو کسی زمانے میں مختلف شعبوں میں باقی رہتی تھیں اب دوسرے شعبوں میں بھی پھیلتی جا رہی ہیں۔ سیکورٹی اختلاف تجارتی اختلاف میں تبدیل ہو رہا ہے اور ایک علاقائی بحران تمام عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ تیسرا سبب گلا گھونٹ دینا ہے۔ ممالک اسٹریٹجک راستوں کو طاقت کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انرجی کے راستے، آبنائے، رصد کا سلسلہ، حساس ٹیکنالوجیز اور حتی دوائیوں کا خام مال بھی اس وقت سیاسی دباو کے ہتھکنڈے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس کی ایک بہترین مثال آبنائے ہرمز ہے۔ اس وقت دنیا میں دو طرح کے ملک ہیں۔ بعض ممالک ایسے ہیں جو عالمی قوانین وضع کرنے اور مختلف ادارے تشکیل دے کر جامع آرڈر کی تشکیل کے درپے ہیں۔ چین ایک ایسا ہی ملک ہے جس نے شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس پلس جیسے ادارے تشکیل دیے ہیں۔ دنیا ایک ایسے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سے نہ تو پرانے آرڈر کی جانب واپسی ممکن ہے اور نہ ہی فی الفور ایک نیا ورلڈ آرڈر تشکیل پا سکتا ہے۔ لہذا آئندہ چند عشروں میں مسلسل بحرانوں، قدرتی ذخائر اور اسٹریٹجک راستوں پر کنٹرول کے لیے مقابلہ بازی، درمیانی طاقتوں کی خودمختاری میں اضافے اور بڑی طاقتوں پر بھروسے میں کمی کا سامنا رہے گا۔ ایسی دنیا میں وہ ممالک کامیاب رہیں گے جو ماضی کے آرڈر کی واپسی یا ایک نجات بخش طاقت ظاہر ہونے کا انتظار کرنے کی بجائے اپنی اندرونی صلاحیتوں پر تکیہ کرتے ہوئے لچک کا مظاہرہ کریں گے اور خارجہ پالیسی میں زیادہ سے زیادہ تعلقات بنا کر اس بے نظمی میں اپنا راستہ تلاش کریں گے۔
