کیا ایران پلازما بم بنا چکا ہے؟؟؟

ایرانی وزارت دفاع کے استاد کی جانب سے حیرت انگیز انکشافات!!

محمد علی قاسم زادہ نداف

لیکچرر و ماہر سیاسی امور

سابق نائب سربراہ سیاسی امور، قدس فورس، ایران

سوال: پلازما میزائل کہ جس کا ذکر شہید محسن فخری زادہ نے کیا تھا، کے بارے بتائیں کہ کیا وہ ابھی تک استعمال ہوا ہے یا نہیں؟؟

دیکھیں.. یہ پلازما میزائل.. اس کے بارے مَیں شہید فخری زادہ سے متعلق ایک واقعہ عرض کرتا ہوں..

یہاں مشہد میں.. وزارت دفاع کا ایک ہوٹل ہے.. ہوٹل گلشن.. گلشن رضوی.. کہ جسے دوست جانتے ہیں

ان (وزارت دفاع) کے تعلیمی کورسز یہاں منعقد ہوتے ہیں.. اور میں وہاں مستقل استاد ہوں

اور ہم جو کہتے ہیں کہ اسرائیل کا خاتمہ کر دیں گے، تو شاید ایک صورت یہی ہو گی..

ہم نے تو کوئی "ہولوکاسٹ” نہیں کرنا.. انسانوں کو قتل نہیں کرنا.. لیکن ہم ایسا کام کر سکتے ہیں کہ وہ سب وہاں سے نکل جائیں

..اسرائیل کی "علت مبقیہ” کا خاتمہ ہو جائے!!

فلاسفہ کے بقول صرف دو ہی علتیں ہیں؛ محدثہ و مبقیہ

اس کے وجود میں آنے کی علت امریکی و برطانوی قراردادیں اور 1948ء کی جنگ وغیرہ تھی..

اسرائیل کی بقاء کی علت کیا ہے.. یہی 6 یا 7 ملین گندے یہودی کہ جو وہاں موجود ہیں.. جن میں سے ہر ایک جانتا ہے کہ وہ غاصب ہیں.. ہر ایک جانتا ہے کہ جس گھر میں وہ رہ رہے ہیں جس زمین میں وہ ہیں، وہ ان کی نہیں اور وہ مختلف ممالک سے آئے ہیں!

وہاں صرف 16 ہزار ایرانی یہودی خاندان موجود ہیں..

وہ خود جانتے ہیں کہ وہ ان کی سرزمین نہیں.. اور وہ خود کو ایرانی بھی سمجھتے ہیں!

بنابرایں.. وہ ٹیکنالوجی کہ جسے آج ہم نے حاصل کیا ہے.. الیکٹرومیگنیٹک اسلحے کی صورت میں..

ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ جو نوید بخش ہے کہ ان شاء الله اگر اس کے استعمال کا موقع مل گیا تو.. (اسرائیل کا خاتمہ ہو جائے گا!)

اُس کانفرنس میں بہت سےکمانڈروں نےشہید(جنرل)حاجی زادہ(ایرواسپیس فورس)سے پوچھاتھاکہ کیا واقعا ہمارےپاس کوئی ایسا اسلحہ موجودہے؟جس پراُنکا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا اسلحہ ہےکہ جسکی ان شاء الله "اسرائیل کیساتھ براہ راست جنگ” میں نقاب کشائی کی جائیگی!

ایک روز معمول کے مطابق مَیں جیسے ہی کلاس میں داخل ہوا، سب لوگ کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے..

پھر میں نے دیکھا کہ طلاب میں سے 2 لوگ، جن کا ڈیل ڈول مضبوط تھا اور بڑے بڑے بازو.. اُن کا حلیہ مشخص تھا..

کلاس کے درمیان کھڑے ہیں

میں نے انہیں کہا، جناب بیٹھ جائیں.. آرام کریں.. میں اُنہیں نہیں جانتا تھا

پھر میں نے دیکھا کہ ان دونوں نے ایک طرف بیٹھے ایک بوڑھے شخص کی جانب دیکھا.. اس نے اشارہ کیا اور یہ لوگ بیٹھ گئے..

مَیں نے اپنی کلاس پڑھائی اور پھر ایک مرتبہ، جلسہ مینیجر نے مجھے ایک پرچی تھما دی، جس پر لکھا تھا:

جناب استاد! ایٹمی سائنسدان جناب ڈاکٹر (محسن) فخری زادہ بھی دوستوں کے درمیان موجود ہیں!

یوں مجھے معلوم ہوا کہ عجب.. وہ شخص محسن فخری زادہ ہیں کہ جو وہاں (میری کلاس میں) موجود تھے

جب کلاس ختم ہو گئی تو میں اساتذہ کے کمرے میں گیا..

وہاں ہوٹل کا مینیجر، یہاں کی کمانڈ کا انچارج اور وہ (محسن فخری زادہ) اندر آئے..

میں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں نے اس سے پہلے آپ کے ساتھ ملاقات نہیں کی اور میں آپ کو نہیں جانتا تھا..

معاف کیجئے گا جسارت ہوئی.. کہنے لگے نہیں.. ہم نے آپ کی کلاس سے استفادہ کیا

دلچسپ بات یہ ہے کہ کلاس کے دوران بھی وہ تواضع کے ساتھ میری باتوں کو مسلسل لکھتے جا رہے تھے..

یہ اُن کے ساتھ میری ملاقات تھی.. جو ختم ہو گئی.. اور پھر

پھر اُن کی شہادت کے کچھ ماہ کے بعد.. شاید 1 سال گزر چکا تھا.. تہران میں ایک کانفرنس کے دوران کسی نے مجھے کہا: جانتے ہو وہ جوان کون ہے؟ میں نے کہا: نہیں، وہ کہنے لگا: وہ فخری زادہ کا بیٹا ہے.. میں نے کہا: واقعا؟ کہنے لگا: جی ہاں! میں نے کہا کہ اس کے ساتھ مجھے کام ہے!

میں آگے بڑھا اور میں نے کہا: آپ کا کیا حال ہے جناب فخری زادہ؟ میں نے کہا کہ آپ کے والد صاحب کے ساتھ میری ایک یادگار ہے جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں.. اور پھر میں نے یہی واقعہ اُسے سنایا

کہنے لگا: بہت دلچسپ بات ہے.. اس سفر کے دوران میں اور میری والدہ بھی ان کے ساتھ ہوٹل میں موجود تھے.. مردوں کی کلاس تھی اور میں اپنی والدہ کے ساتھ رہا.. کلاس میں نہ آیا.. مجھے وہ کورس یاد ہے..

پھر میں نے کہا کہ کیا میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟

میں نے کہا کہ آپ ایران کے سب سے بڑے جوہری سائنسدان شہید فخری زادہ کے بیٹے ہیں..

کیا آپ نے بچپن میں کبھی اپنے والد سے پوچھا..

وہ تہران یونیورسٹی کے طلاب میں سے تھا..

میں نے کہا کبھی آپ نے پوچھا کہ بابا! یہ جوہری بم کی کیا صورتحال ہے.. کیا ہمارے پاس جوہری بم ہے یا نہیں؟

مسکرایا اور کہنے لگا کہ آپ کو یہ توقع تو نہیں کہ جو سوال بھی میں نے پوچھا ہو گا، بابا نے اس کا جواب دے دیا ہو گا؟

میں نے کہا نہیں..

لیکن بہرحال آپ اس گھر میں تھے اور اپنے والد صاحب کے ساتھ مانوس تھے اور والد صاحب بھی آپ کو عزیز رکھتے تھے.. وغیرہ

کہنے لگا: درحقیقت، ایک مرتبہ جب نیتن یاہو نے کنیسٹ میں جا کر ایک خاکہ دکھاتے ہوئے یہ دعوی کیا تھا

کہ ایران جوہری صنعت میں، 2 ہفتوں کے بعد جوہری بم.. جوہری وارہیڈ تک دسترسی حاصل کر لے گا..

دو ہفتوں میں..

کہتا ہے کہ اسی رات جب میں گھر پہنچا تو میں اپنے شہید والد کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور میں نے عرض کیا: بابا جان! یہ گھٹیا شخص کیا کہتا ہے؟؟ کیا واقعا ہمارے پاس ایٹم بم ہے؟ کیا آپ بم بنائیں گے یا بن چکا ہے؟؟

کہتا ہے کہ شہید فخری زادہ ایسے موضوعات پر گھر کے اندر انتہائی کم بات کیا کرتے تھے..

لیکن جب اُنہوں نے دیکھا کہ میں اس انداز میں اُن سے پوچھ رہا ہوں تو وہ کہنے لگے:

بیٹے! وہ چیز کہ جسے ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں.. جوہری بم سے کہیں زیادہ عظیم ہے اور ہمیں جوہری بم کی ضرورت نہیں!!

وہ چیز جو ہم بنا رہے ہیں پلازما (بم) ہے!

اب یہ پلازما کیا ہے؟ پلازما.. لیزر اور الیکٹرومیگنیٹک، میگنیٹک فیلڈ کا مجموعہ ہے.. لیزر اور میگنیٹک فیلڈ کا مجموعہ..

..ہم نے ابھی تک پلازما ہتھیار کی نقاب کشائی نہیں کی..

یعنی اس بارے تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، پروڈکشن کا کوئی مسئلہ نہیں البتہ اس بارے مجھے کوئی اطلاع نہیں!!

لیکن اس کی ٹیکنالوجی مکمل طور پر ہمارے پاس ہے.. روس نے بھی کہا ہے کہ یہ ایران کے پاس ہے!

دیکھیں پلازما اور لیزر.. جب کسی پلازما ہتھیار میں اس کا کام انجام پاتا ہے تو یہ ہوتا ہے کہ.. جب پلازما بم یا میزائل لگتا ہے تو..

کوئی دیوار ٹوٹتی ہے اور نہ ہی کوئی عمارت گرتی ہے.. کوئی انسان بھی مارا نہیں جاتا.. کوئی نہیں!

صرف زندگی”پتھر کے دور”میں چلی جاتی ہے.. آپ سمجھ رہےہیں کہ میں کیاکہہ رہاہوں؟ یعنی(وہ جگہ رہنے کے)قابل نہیں رہتی!

لہذا اگر ان میں سے کچھ اسرائیل میں گرانا طے پا جائے کہ جس کی چوڑائی 120 کلومیٹر ہے..

بعض چوڑے ترین علاقوں میں 120 کلومیٹر ہے.. تو ان یہودیوں کو دُم دبا کر وہاں سے بھاگنا پڑے گا..

وہ جگہ زندگی کے قابل نہیں رہے گی.. وہ وہاں رہ ہی نہیں سکتے..


You may also like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے