۔ وجودی خطرہ!
وزیراعظم انتہائی عجلت میں واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں کیونکہ ایک وجودی خطرہ لاحق ہے!!
۔وزیراعظم صدر ٹرمپ کے ساتھ اس ملاقات میں پہنچنا چاہتے ہیں
تاکہ (ایران- امریکہ) مذاکرات پر ”اثرانداز” ہو سکیں!
اور خاص طور پر ایک متعین موضوع پر: ”ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام”
کیونکہ یہ وہی چیز ہے کہ جس نے اسرائیل کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے!
۔ بیلسٹک میزائلوں کے خطرے تلے زندگی نہیں گزاری جا سکتی
اسرائیل کو اس خطرے سے جان چھڑانا ہو گی!
۔ بالکل! جوہری پروگرام کو چھوڑیں.. موصولہ علامات کے مطابق، صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں نیتن یاہو نے تمام توجہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں پر مرکوز کی
ذرا ٹھہریں!
لیکن پہلے بھی ہم یہی نہیں کہتے تھے؟
سچی.. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات..
ایک وجودی خطرہ ہے کہ جسے برطرف ہونا چاہیئے!
۔(ایران کیخلاف)
رائزنگ لائن آپریشن (Operation Rising Lion) شروع ہو چکا ہے
اس بیمثال کارروائی کا مقصد
ایرانی جوہری تنصیبات اور ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے کارخانوں کو نقصان پہنچانا ہے
وہ ”وجودی خطرہ” جسے ایران ہمارے خلاف توسیع دے رہا ہے، یہ ہے کہ
ایران، بیلسٹک میزائلوں کے ایک عظیم زرادخانے کو تشکیل دے رہا ہے!
ہم نے اس کارروائی کا آغاز کیا ہے، تاکہ
ہم اپنی موجودیت کو لاحق دو واضح خطرات کا خاتمہ کر سکیں!
جوہری خطرہ
اور بیلسٹک میزائلوں کا خطرہ
ہم ان اہداف کی تکمیل کے ”بہت بہت” قریب ہیں!
۔ ہم نے کوئی غلطی نہیں کی!
جون کے ”رائزنگ لائن آپریشن” کا مقصد؛ جوہری خطرے کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ بھی تھا کہ جنہیں ایران نے توسیع دے رکھی تھی
اور جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے:
ہدف حاصل کر لیا گیا ہے!!
۔ یہ فتح نسلوں تک باقی رہے گی
ہم نے دو فوری وجودی خطرات کا خاتمہ کیا ہے
جوہری بم کے ساتھ تباہ ہونے کا وجودی خطرہ
اور 20 ہزار بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ختم ہو جانے کا وجودی خطرہ
ہم نے ایران کی میزائل انڈسٹری کو تباہ کر دیا ہے
چند سالوں میں دسیوں ہزار بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ اسرائیل کو وجودی خطرہ لاحق کرنے کی منحوس ایرانی نیت؛ یہ خطرہ بھی برطرف ہو گیا ہے!
۔ میزائل خطرہ برطرف ہو گیا.. میزائل انڈسٹری تباہ ہو گئی..
(یہ فتح) نسلوں کے لئے باقی رہے گی.. اس نے اپنی سرکاری تقریر میں کہا: نسلوں کے لئے!
ہمیں یہاں سے شک ہوا..
۔ رائزنگ لائن آپریشن سے قبل
ایرانیوں کے پاس تقریبا دو ہزار بیلسٹک میزائل موجود تھے
اسرائیل میں آج یہ تخمینہ لگایا جا رہا ہے کہ
ایرانیوں کے پاس موجود بیلسٹک میزائلوں کی تعداد 1 ہزار 800 ہے!
یعنی آج ہم، کم و بیش، جنگ سے قبل کے اعداد و شمار پر واپس پہنچ چکے ہیں
اسرائیل کا تخمینہ ہے کہ ایرانیوں کے پاس سینکڑوں لانچنگ سائٹس ہیں
بشمول ان کے جنہیں نقصان نہیں پہنچا اور وہ کہ جنہیں تعمیر کر لیا گیا ہے!
جن میں سے ”آدھے سے زائد” کو اسرائیلی حملوں کے دوران نقصان پہنچا..
لیکن اب بھی..
۔ جنگ سے قبل ایران کے پاس تقریبا 500 لانچر تھے
۔ اس بات کے کہنے کا کوئی آسان طریقہ موجود نہیں؛ میزائل بھی اور لانچر بھی..
صرف آدھےسال کےبعد ہی، ایران پرحملےسےقبل کے اعدادوشمار پر واپس پہنچ چکے ہیں!
اور یہ سب کچھ ہمارے اپنے سکیورٹی سسٹم کے تخمینوں کے مطابق ہے، صرف ہم ہی نہیں ہیں کہ جو اتنی مایوسانہ باتیں کر رہے ہیں.. یہ دیکھئے، اسی ماہ اکتوبر میں..
۔ ایران ”اس وقت” بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے،
جو بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ہیں اور ان کی رینج 8 ہزار کلومیٹر ہے!
۔ ایران نے جون سے لے کر اب تک، کتنی
جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کی اپنی صلاحیت کو بحال کیا ہے؟
۔ جی، وہ کوشش کر رہا ہے اور ساتھ ہی وہ
بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی اپنی تنصیبات کو بھی بحال کرنے کی کوشش میں ہے!
آپ جانتے ہیں کہ ایسا نہیں!
ہم نے انہیں دونوں میدانوں میں قابل قدر طور پر پیچھے دھکیلا ہے!
وہ اپنی پروڈکشن کو دوبارہ بحال کرنے والے ہیں!!
۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل، 《جادوگر کے شاگرد》کی کہانی میں،
ٹوٹے ہوئے جھاڑو کے مانند ہیں (جنہیں کسی طور روکا ہی نہیں جا سکتا)
معاف کیجئے گا، یہ ایک قدیمی لطیفہ تھا..
آپ نے ہمیں کیوں کہا کہ یہ کام نسلوں کے لئے تمام ہو چکا ہے؟!
۔ اگر ان کی صلاحیتوں کی بحالی میں صرف 2 ہفتوں کا وقت لگا ہو..
درحالیکہ پہلے ہمیں یہی کہا جا رہا تھا کہ مقصد؛
زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کا خاتمہ ہے!
ہم نے انہیں کہا: ”مسیح کا ظہور (عجیب معجزہ ہے)”!! ہم نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کی انکی تنصیبات کو سالہا پیچھے دھکیل دیا ہے!
۔ بیلسٹک میزائلوں کے خطرے تلے زندگی نہیں گزاری جا سکتی
اسرائیل کو اس خطرے کا خاتمہ کرنا ہو گا
۔ سالہا.. آدھا سال..
میٹر تو نہیں لگاتا ناں کوئی بھی!