۔ ایران نے ”خرمشهر-4”
کہ جو اس کے پیشرفتہ ترین بیلسٹک میزائلوں میں سے ایک ہے، کی آزمائش کی ہے
2 ہزار کلومیٹر رینج کا حامل یہ میزائل
1 ہزار 500 کلوگرام وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے
آئیے فوٹیج دیکھتے ہیں
۔ يوں کہنا چاہیئے:
ایرانی اپنے پیشرفتہ ترین میزائلوں کو منظر عام پر لا رہے ہیں
اس سے پہلا میزائل ”قیام” تھا، ہے ناں!
اے گنگور، اس سے پہلے میزائل قیام تھے؟
ایسا ہی کوئی نام تھا، جو مزید لانگ رینج میزائل تھے
وہی جن کے ذریعے انہوں نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا
ان کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر آپ ان میں سے 100 کو ایک ساتھ فائر کریں تو
اس بات کا کوئی امکان ہی نہیں کہ طیارہ بردار امریکی بحری بیڑا اپنا دفاع کر سکے!
وہ کسی صورت اپنی حفاظت نہیں کر سکتا
امریکی بھی یہ بات جانتے ہیں
یعنی آپ اس کشتی، طیارہ بردار بحری بیڑے پر جتنی بھی دفاعی ڈھالیں بنا لیں
جب ایک ہی وقت میں 100 میزائل آئیں، یا سینکڑوں میزائلوں کو پے در پے فائر کیا جائے
تو آپ کیسے انہیں روک سکتے ہیں؟
ایران نے اچانک ہی ہمیں یہ میزائل دکھائے ہیں
ہم ہمیشہ اسے اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہی جانتے تھے
ہم تو یہی جانتے تھے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام میں کسی اہم مقام تک پہنچ گیا ہے
پہلے تو مغرب میں یہ سوال اور خوف موجود تھا کہ کیا انہوں نے جوہری ہتھیار بنائے ہیں یا نہیں؟ لیکن درحقیقت ان کی توجہ کو اس جانب مرکوز رکھا گیا تھا!
دوسری طرف انہوں(ایرانیوں) نے اپنے میزائل پروگرام کو اتنی توسیع دی..
اپنے ڈرون پروگرام کو اتنی توسیع دی کہ اس مرتبہ..
گویا وہ دائیں دکھا کر (توجہ تقسیم کرتے ہوئے) بائیں مارنے کے درپے ہیں
لیکن آپ کی توجہ کسی اور جانب ہے!
اس صورتحال میں کہ جب سبھی کی نظریں جوہری پروگرام کی جانب تھیں
ناگہاں انہوں نے مڑ کر دیکھا:
او مائی گاڈ! ایران کے ہاتھ میں تو ایک اور اسلحہ آ چکا ہے
جس سے وہ اپنا دفاع کر سکتا اور ہمیں نشانہ بنا سکتا ہے!
لہذا، ایران ایسی فوٹیجز کیوں مسلسل نشر کر رہا ہے؟۔۔ کیونکہ
وہ کہنا چاہتا ہے کہ تم اس جانب سرگرم تھے، تم نے پوری توجہ اس جانب مرکوز کر رکھی تھی..
لیکن ہم اس دوران یہ کام انجام دے رہے تھے..
ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ایران ہمیشہ مشغول رکھنے کی حکمت عملی اپناتا ہے، یعنی وقت کا حصول!
۔ وقت خریدنا
۔ یہ صرف سفارتکاری میں ہی نہیں..
یہاں بھی یہ اہم ہے.. کہ اس نے کیسے توجہ تقسیم کی
مثلا دائیں دکھا کر بائیں مارنے والی تکنیک.. جس کے ذریعے انہوں نے کیا کچھ کام نہیں کئے!
خوب، ڈیٹرنس کے حوالے سے جوہری ہتھیار اہم ہیں
لیکن جب جنگ کا طبل بج رہا ہو تو پھر روایتی ہتھیار ضروری ہوتے ہیں
ایران نے بھی 30 سالوں سے بڑی عقلمندانہ حکمت عملی اپنا رکھی ہے
۔ یعنی امریکہ کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ اپنے ان میزائلوں کو ایک طرف رکھ دو!!
۔ وہ کہتا ہے کہ انہیں استعمال نہ کرو؟
نہیں وہ جو آپ کہہ رہی ہیں، وہ بات نہیں ہے.. وہ یہ نہیں کہتا کہ استعمال نہ کرو!
بلکہ وہ کہتا ہے کہ اسرائیل کو اپنے میزائل رینج سے باہر نکالو..
یہ، یعنی کیا؟
یعنی وہ میزائل پروگرامز کہ جن کا رینج اسرائیل تک پہنچتا ہے، یا اس سے بھی آگے تک ہے،
بشمول ”خرمشھر” کو بند کرو.. بلکہ انہیں ہماری تحویل میں دو!
اس بات کا کیا مطلب ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی میزائل، جی ہاں بیشک شام، یا اس طرف پاکستان تک چلے جائیں
لیکن اس سے آگے (اسرائیل تک) نہ جائیں!
درحالیکہ
وہ ملک جسے ایران نے اپنا اسٹریٹجک دشمن قرار دیا ہے، اسرائیل ہے!
یعنی یہ چیزیں اس کی موجودیت کے مترادف ہیں
میزائل پروگرام اہم ہے.. دیکھیں یہ انتہائی ضروری ہے!
اس وقت جو کچھ کہا جا رہا ہے، یہ ہے کہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی
تقریبا روس کے قریب پہنچ چکی ہے.. اور یہ ایک انتہائی پیشرفتہ صورتحال ہے!
(اسرائیل کی) 12 روزہ جنگ میں بھی، درحقیقت انہی میزائلوں نے پانسہ پلٹا تھا
۔ امریکہ بھی چونکہ یہ بات جانتا ہے…
۔ دیکھیں، اصلی نکتہ بالکل یہیں ہے، ”میزائل ٹیکنالوجی”..
میں ”میزائل رکھنے” کے بارے بات نہیں کر رہا!
میں ”میزائل ٹیکنالوجی رکھنے” کے بارے بات کر رہا ہوں
کیونکہ میزائل رکھنا ایسا ہوتا ہے کہ آپ 5 میزائل
یا 10 یا 100 یا 1000 میزائل رکھتے ہیں
لیکن اگر آپ کے پاس ان کی ٹیکنالوجی موجود ہو
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر لمحے میزائل بنا رہے ہیں!
اس وقت اندازے یوں لگائے جا رہے ہیں
ایک اندازے کے مطابق، کم ترین اندازے کے مطابق (ایران کے پاس) 30 ہزار میزائل ہیں
بڑے اندازوں کے مطابق
کہا جاتا ہے کہ ایران کے پاس 3 لاکھ میزائل ہیں
چلیں فرض کریں دونوں اندازے مبالغہ آمیز (نادرست) ہیں
ایک درمیانی عدد کا انتخاب کرتے ہیں، مثلا 1لاکھ..
آخر 1 لاکھ میزائل، یعنی کیا؟
یعنی اسرائیل کے لئے ایک ”خوفناک منظر”!