ایران کی گوریلا وار کا امریکہ کے پاس کوئی جواب نہیں، امریکی ماہرین
Kelly A. Grieco
Senior Fellow with the Reimagining US Grand Strategy Program at the Stimson Center
Max Boot
historian, author and foreign-policy analyst
senior fellow for national security studies
and a contributor to The Washington Post
البتہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ جنگ، وہ ہوائی جنگ کہ جو حقیقت میں فیصلہ کن ہے،
یہ نہیں بلکہ کوئی اور جنگ ہے
وہ "خلل” کی جنگ ہے جبکہ یہ جنگ، ہوائی جنگ، سطح زمین کے بہت قریب لڑی جا رہی ہے
ایک ایسی جگہ کہ جسے میں "ضمنی ہوائی میدان” کہتی ہوں
لہذا کم اونچائی پر، سطح زمین کے قریب،
ایران خاص طور پر شاہد ڈرون طیاروں اور میزائلوں جیسی چیزوں پر انحصار کر رہا ہے
امریکہ نے درست عمل نہیں کیا!!
خاص طور پر ایران "ہوائی ممانعت” حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے
ایران آبنائے ہرمز اور اس کے دوسرے حصوں پر ہوائی برتری حاصل نہیں کر پایا
لیکن وہ امریکہ سے یہی ہوائی برتری چھیننے میں کامیاب رہا ہے!!
اور اسی بات کا نتیجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک جاری نہیں!
اور یہی پوائنٹ، اس جنگ میں "فیصلہ کن” رہا ہے!!
بنابرایں، حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ
ایران نے وہ ہوائی جنگ جیت لی ہے کہ جو اس تصادم میں سب سے زیادہ "فیصلہ کن” ہے!!
میکس (بوٹ)
اب آپ کی نظر سنیں گے!
میں بین اور کیلی کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہوں!
میرا خیال ہے کہ یہ جنگ، ہوائی طاقت کی محدودیتوں کے بارے ایک اور انتباہ ہے
حتی امریکہ اور اسرائیل کی ایئرفورس کے جیسی اعلی درجے کی ہوائی طاقت کے لئے بھی..
یاد کریں کہ وہ اہداف کہ جو صدر ٹرمپ نے
اس جنگ کے آغاز میں، ماہ فروری میں مقرر کئے تھے..
ان میں سے دو اہداف؛ ایران میں ریجیم چینج اور ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ
نہ صرف ابھی تک حاصل نہیں کئے گئے
بلکہ قریب قریب ان اہداف کو حاصل کئے جانے کے کوئی شواہد بھی موجود نہیں!
دوسرے اہداف کے بارے؛ میرا خیال ہے کہ ہمیں ایران کی نیوی، روایتی افواج اور انکی میزائل فورسز، میزائل فیکٹریوں اور اس طرح کی چیزوں کو کمزور بنانے میں تو قابل قدر کامیابی ملی ہے
..ظاہر ہے کہ جیسا کہ کیلی نے کہا ہے، اگر آپ کو ہوائی برتری حاصل ہو تو آپ ان کی فیکٹریوں اور ان کی نیول کشتیوں پر بمباری کر سکتے ہیں
لیکن یہ کام، ان سیاسی اہداف کو حاصل نہیں کر سکتے کہ جو ٹرمپ نے مقرر کئے ہیں
درحالیکہ یہ سیاسی اہداف ہی ہیں کہ جنہیں گنا جاتا ہے
ایک ایسے انداز میں کہ جب گذشتہ 50 یا 60 سال کے دوران امریکی فوجی طاقت کے بارے کلی حقیقت یہ رہی ہے کہ ٹیکٹیکل فوجی آپریشنز میں ہماری کارکردگی انتہائی بہتر رہی ہے
ہم ٹیکٹیکل فوجی سطح پر تو ہمیشہ کامیاب رہے ہیں لیکن ان کو
آپریشنل و اسٹریٹجک کامیابیوں میں بدلنے کے حوالے سے انتہائی انتہائی ناکام رہے ہیں!
ہم اس حوالے سے ویتنام کے بعد سے ناکام ہوتے آ رہے ہیں
حال ہی میں عراق و افغانستان اور اب ایران میں بھی!
اور میرا خیال ہے کہ وہ چیز کہ جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں، جنگ ایران کا ایک اور سبق ہے اور وہ وہی چیز ہے کہ جو ہم 1960 کے بعد سے دیکھتے آ رہے ہیں
کیونکہ ہم ایک مرتبہ پھر ایک ایسے بہت کمزور دشمن کے ساتھ روبرو ہوئے ہیں کہ جو نہ صرف غیر روایتی جنگ میں انتہائی مہارت رکھتا ہے بلکہ امریکی فوجی طاقت کی کمزوریوں کو تلاش کرنے میں بھی ماہر ہے
ماضی میں ہم نے غیر روایتی جنگ کی مختلف شکلیں دیکھی تھیں
آپ نے ویتنام میں روایتی گوریلا جنگ دیکھی
آپ نے عراق اور افغانستان میں بھی کچھ گوریلا ٹیکٹیکس دیکھیں؛
آئی ای ڈیز، سڑک کنارے بموں کا استعمال
ڈرون طیاروں، تیز رفتار کشتیوں اور سمندری سرنگوں کو استعمال کرتے ہوئے، ٹیکنالوجی کے اعتبار سے زیادہ پیشرفتہ گوریلا وار کا نیول اور ہوائی ورژن!
درحالیکہ امریکہ اور خلیج فارس می٘ں موجود اس کے اتحادی؛ ایرانی ڈرون طیاروں، خصوصا شاہد کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے، دھچکہ آور انداز میں سرے سے تیار ہی نہ تھے!
وہ بھی ایک ایسے وقت میں کہ جب
ہم نے اس (شاہد) کو یوکرین میں آپریٹ ہوتے ہوئے سالہا سال دیکھا ہے
لیکن اس کے باوجود ابھی تک ہم بعض اوقات 35 ہزار کے شاہد ڈرون کو گرانے کے لئے 35 لاکھ ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل فائر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں!
جبکہ اس چیز کا حساب کتاب کسی صورت اطمینان بخش نہیں
ایرانی نہ صرف انرجی انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں بلکہ
وہ خطے بھر میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی سنگین نقصانات پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں
البتہ دوسری جانب، باوجود اس کے کہ پیٹ ہیگسٹھ (امریکی وزیر جنگ) پریس کانفرنس میں سینہ پھلا کر یہ کہنے کا عاشق ہے کہ ہم نے تمام اہداف اڑا دیئے ہیں!
اگر آپ امریکی میڈیا کمیونٹی کی لیک شدہ اطلاعات پڑھیں، کہ جو بتاتی ہیں کہ ایران کے پاس اب بھی نہ صرف تقریبا آدھے میزائل اور تقریبا آدھی تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں
بلکہ قابل قدر فوجی طاقت بھی موجود ہے
جبکہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور عالمی تیل کے 20 فیصد کو منقطع کرنے کیلئے زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں.. اور یہی وہ کام ہے کہ جو وہ اسوقت کر رہے ہیں!!