ڈاکٹر سید مصطفی خوش چشم
ماہر تجزیہ کار تزویراتی امور
۔ گزشتہ پروگرام میں آپ نے کہا تھا کہ جنگ نہیں ہو گی، اور ہم نے دیکھا کہ نہیں ہوئی..
۔ اور وہ ڈیڈلائن کہ جس کا ان تمام معاند میڈیا نے اعلان کیا تھا، آئی اور گزر گئی اور کچھ بھی نہ ہوا..
۔ لیکن اب، جیسا کہ رھبر انقلاب آیت اللہ خامنهای نے بھی فرمایا ہے کہ اگر اب جنگ ہوئی تو وہ ”خطے کی جنگ” ہو گی..
۔ اور اسی طرح وہ موقف کہ جس کا اعلان آرمی چیف جنرل موسوی نے کیا ہے..
۔ اب اگر جنگ ہوتی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ خاص طور پر ہماری صلاحیتیں کیا ہیں اور ہم کیا کریں گے؟؟
۔ دیکھیں وہ جو رھبر معظم نے فرمایا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو خطے کی جنگ ہو گی؛ کے دو معنی ہیں..
ایک معنی یہ ہے کہ خطے کی ہماری متحد طاقتیں، ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ آ ملیں گے..
ابھی اسی وقت، قبل ازیں کہ کچھ بھی ہو، انصاراللہ نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی کشتی کہ جو
خطے میں آپریشن کے لئے آئے، قطع نظر اس بات سے کہ اس کا تعلق کس ملک سے ہے.. ہم اسے نشانہ بنائیں گے..
نیز ہم باب المندب کو بھی بند کر دیں گے کہ جو انتہائی درست اور اچھا اقدام ہے
جس کی جانب شاید میں نے قبل ازیں بھی اشارہ کیا تھا..
رھبر معظم کی اس بات کا ایک اور معنی یہ ہے کہ
پورے خطے میں، امریکہ اور اسکے شراکتداروں و اتحادیوں کے لئے انتہائی برے حوادث وقوع پذیر ہوں گے
اس کے بعد کا محاذ؛ آئل ٹینکروں کی جنگ ہے..
اور اس کے بعد کا محاذ..
آئل ٹینکروں کی جنگ پر میں روشنی ڈالوں گا..
اس کے بعد کا محاذ ”شدید نفسیاتی جنگ” ہے کہ جو گذشتہ ایک سال سے ملک کے اندر شدت کے ساتھ جاری ہے
آئل ٹینکروں کی جنگ میں وہ کیا کرے گا..
وہ دور کھڑا ہو جائے گا.. خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں جرأت نہیں کرے گا
بحیرہ عرب یا کسی دور دراز جگہ پر جاکر کھڑا ہو جائے گا.. مثلا جیسا کہ وہ ونزویلا کے ساتھ کرنا چاہتا ہے..
پھر وہ ہمارے آئل ٹینکروں کو پکڑنے یا انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا..
ہم کیا کریں گے؟.. قطعی طور پر اسکورٹ بھیجیں گے
اگر اس نے حملہ کیا.. کسی بھی صورت میں.. چاہے براہ راست یا ٹیکنالوجی کے ذریعے سے..
ٹیکنالوجی کے ذریعے یوں کہ
ممکن ہے کہ وہ خود کشتی کو تو نشانہ نہ بنائے لیکن ٹیکنالوجی کے ذریعے مثلا کشتی کے انجن کو ناکارہ بنا دے
پہلے وہ ایک مرتبہ یہ کام کر چکا ہے.. بحیرہ احمر میں اس نے یہ کام ایک مرتبہ کیا ہے اور اس کا نتیجہ بھی دیکھا ہے!
ٹرمپ کا پہلا دور تھا.. امریکیوں اور اسرائیلیوں نے ہماری 14 کشتیوں کو نشانہ بنایا یا پکڑا
ہم نے بھی ان کی 12 کشتیوں کو نشانہ بنایا.. دنیا کے مختلف مقامات پر..
نیتن یاہو کے جرنیلوں نے.. اس وقت بھی نیتن یاہو تھا میرے خیال میں.. مجھے اچھی طرح سے یاد ہے
اس کے جرنیلوں نے میڈیا میں لکھا کہ ہائبرڈ وار میں.. اس ایک محاذ سے ہاتھ اٹھا لو.. یہ ہمارے نقصان میں ہے
کیونکہ ایرانی (پوری دنیا میں) بہت سی جگہوں پر ہمیں نشانہ بنا سکتے ہیں
سوال یہ ہے کہ جرنیل بالآخر کیوں میڈیا میں ہی لکھیں..؟
وہ آہستگی سے نیتن یاہو کو کہہ سکتے تھے.. خفیہ طور پر.. خفیہ رپورٹ میں..
انہوں نے یہ بات میڈیا میں اس لئے لکھی کہ ہم دیکھ سکیں! اس کے بعد ہاتھ اٹھا لیا انہوں نے.. ہاتھ اٹھا لیا انہوں نے!
طریقہ کار بدل گیا.. طریقہ کار مکمل طور پر بدل گیا!
اس کے بعد، یعنی ٹرمپ کے پہلے دور کے خاتمے کے بعد یہ آپریشن ناکام ہو گیا
کیونکہ اس کے سیکرٹری قومی سلامتی نے، جو ہمارے ساتھ سخت دشمنی رکھتا تھا، اعلان کیا تھا کہ ایرانی آئل ٹینکروں کو امن و امان حاصل نہیں ہونا چاہیئے، جس کے بعد انہوں نے یہ آپریشن شروع کیا تھا اور ہم نے جواب دیا
پھر انہوں نے ہاتھ اٹھا لیا اور جب بائیڈن آیا تو انہوں نے طریقہ کار بدل لیا!
مجھے اچھی طرح سے یاد ہے، یعنی جب آیت اللہ رئیسی کے دور میں موسم بہار میں مذاکرات ہو رہے تھے،
انہوں نے طریقہ کار بدل لیا.. اب وہ کیا کرتے تھے..؟
میرا خیال ہے کہ سال 1401 یا 1402 (ہجری شمسی) تھا کہ
جب انہوں نے(ایرانی آئل ٹینکروں)کو نشانہ بنانےکےبجائے انہیں رشوت کی پیشکش شروع کی، کپتانوں کو.. ملاحوں کو..
اور یہ واقعا.. سوچیں کہ آپ مثلا سامان لے کر وینزویلا جا رہے ہیں، جو امریکہ کی ناک تلے واقع ہے
اور آپ کو اسکورٹ بھی میسر نہیں.. پھر بھی ان میں سےکسی ایک شخص نےبھی اس(کشتی)کا مقام کسی کو(نہ بتایا)..
وہ ”اچھے” پیسے دیتے تھے.. کہتے تھے کہ ہم آپ کی فیملی کو (ایران سے) باہر نکال لائیں گے.. آپ کو گرین کارڈ دیں گے!
ان میں سے ایک شخص بھی انہیں معلومات دینے کو تیار نہ ہوا.. ایرانی کشتیاں.. ایرانی سامان..
جی ممکن ہے کہ باہر کی کوئی کشتی کہ جو سامان خرید کر گئی ہو.. اور اس نے ہمیں ادائیگی بھی کر دی ہو..
مثلا یونانی.. جس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں.. نے ممکن ہے کہ ایسا کوئی کام کیا ہو..!
کوئی ایک بھی ایرانی کشتی، ایرانی کیپٹن یا ایرانی ملاح، بھاری رقوم کے بدلے بھی (اطلاعات دینے کو تیار نہیں ہوا)،
اور کس چیز کے بدلے..! وہ کہتے تھے کہ کشتی اور سامان کو صرف دو تین روز سمندر میں معطل رکھو..
کوئی پیچ ڈھیلا یا سخت کر دو.. تاکہ اس سے غیر یقینی صورتحال بن جائے.. جو خوف و ہراس کا باعث بنے
نہیں کیا کسی نے!
ہمارے لوگ ہر میدان میں ایسے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک پر فلم بننی چاہیئے.. واقعا.. تاکہ عوام کو پتہ چلے..
صحیح، اس کا نتیجہ کیا نکلا..؟
کچھ بھی نہیں.. تم نے حملہ کیا تو جواب بھی پا لیا..!
دیکھیں.. اب بھی ایسا ہی ہے!
اگر اس مسئلے نے طول پکڑا.. اور انہوں نے زیادہ تنگ کیا تو آبنائے ہرمز بھی بند کیا جا سکتا ہے..!
۔ وہی جنگ کے نتائج ہیں.. جیسا آپ نے کہا کہ جنگ نہیں ہو گی جس کی ایک وجہ تیل کا بحران ہے..
لیکن اگر جنگ ہوئی تو اس کا انجام یہی ہے..!
جی اس (جنگ) کا نتیجہ یہی ہے.. آبنائے ہرمز (کی بندش)، خطہ (بھر کی جنگ)، آگ اور تباہی..
۔ رھبر معظم نے گذشتہ روزاعلان کیا تھا کہ جنگ نہیں ہو گی اور اگر جنگ ہوئی تو وہ خطے کی جنگ ہو گی جبکہ آج آرمی چیف جنرل موسوی نے بھی ”پیشگی حملے” پر مبنی ملکی دفاعی ڈاکٹرائن کے بارے بات کی ہے، یہ سب کچھ، یعنی کیا؟
اس سب کچھ کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم، اپنے پانی، مٹی اور اثاثوں کی نسبت کسی بھی خطرے کو،
”وجودی خطرہ” گردانتے ہیں اور ہمارا جواب بھی ”وجودی خطرے” کے ساتھ مناسب ہو گا!
یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ ہم صرف کنٹرول شدہ جواب ہی دیں
ہمارے فوجی ڈاکٹرائن میں ”ڈیفنس” سے ”اوفنس” کی جانب تبدیلی کا مقصد بھی یہی تھا
یعنی یہ کہ اب ہم بہت سی چیزوں کو تحمل نہیں کریں گے!
یعنی ایسا نہیں کہ ٹرمپ یہ سوچے کہ وہ کچھ جو اس نے ونزویلا کے ساتھ کیا ہے، کر سکتاہے، محاصرہ کرے
یا بحیرہ عرب میں آ کھڑا ہو جائے تاکہ وہاں سے گزرنے والی ہماری کشتیوں کو پکڑ سکے!
میں نے اس سے قبل بھی وضاحت دی ہے.. ہم حتما اسکورٹ کریں گے،
اگر وہ حملہ کرے گا تو ہم بھی حملہ کریں گے.. حتی اس سے بھی بڑھکر..
یعنی اب جب ڈیفنس ڈاکٹرائن اوفنسو ہو گیا ہے تو ہم بھی پہلے سے کہیں زیادہ آگے جائیں گے..
اب ایسا نہیں ہو گا کہ اگر وہ کشتی پکڑ لے تو ہم بھی صرف کشتی پکڑیں گے یا حملہ کریں گے.. نہ..!
ہم ایسی بھی کسی صورتحال کو برداشت نہیں کریں گے کیونکہ وہ ہمارے خطے میں موجود ہے..
یعنی اب صورتحال ایسی ہے کہ امریکیوں کو سمجھ لینا چاہیئے کہ انہیں خطے سے نکلنا ہے..
اور اگر انہوں نے خطے کو ترک نہ کیا تو کسی بھی کشیدگی يا مشکل کی صورت میں ذمہ داری انہی پر عائد ہو گی!
ہم انہیں یہ بات سمجھانے کو پرعزم ہیں کہ وہ اب مذاکرات میں آ کر دوبارہ ایسی حرکت نہیں کر سکتے..
پھر دوبارہ مذاکرات میں لمبے چوڑے مطالبات کریں.. ہم سے سب کچھ طلب کریں اور ہم سے ضمانتیں مانگیں..!
ہمارے سامنے اب اس کھیل کی قلعی کھل چکی ہے.. ہم مکمل خود مختاری اور طاقت کی حالت میں ہیں
اب تک ہمیں بلیک میل کرتے تھے کہ ہم حملہ کریں گے.. نہیں کریں گے..
اب ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس بات کے منتظر نہیں کہ تم حملہ کرو گے یا نہیں..
تمہیں اس خطے سے حتمی طور پر جانا ہو گا!