تل ابیب، بے سرحد مجرم

800x445.jpg

800x445.jpg

 

اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے چند دن پہلے غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی فلاحی تنظیم "ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز” کی جانب سے اپنے فلسطینی عملے کی فہرست فراہم کرنے سے انکار کا بہانہ بنا کر اس کی انسانی ہمدردی پر مبنی سرگرمیوں کو معطل کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ صیہونی رژیم کی وزارت برائے انسدادِ یہود دشمنی نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نامی تنظیم کی سرگرمیاں ختم کر دینے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور یہ فیصلہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں کو محدود کر دینے کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں صیہونی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹرز ودآوٹ بارڈرز یا ایم ایس ایف کے عملے میں ایسے افراد شامل تھے جن کے کے دو فلسطینی تحریکوں، حماس اور اسلامک جہاد سے تعلقات تھے۔ اس دعوے کو بین الاقوامی طبی تنظیم نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے اور اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ کے خلاف گزشتہ دو سالوں میں تل ابیب کی تباہ کن جنگ کے دوران ایم ایس ایف کے عملے کے 15 ارکان اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ایم ایس ایف کے علاقائی میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنان سعد نے بتاہا لپ صہپونی رژیم نے تنظیم کی سرگرمیوں کو لائسنس کی تجدید سے متعلق انتظامی امور تک محدود کر دینے کی درخواست بھی قبول نہیں کی اور یوں مذاکرات بے نتیجہ رہے۔

 

فلسطین کے حامیوں سے کینہ

ڈاکٹرز ودآوٹ بارڈرز یا طبیبان بے سرحد ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہے جس کی بنیاد 1971ء میں فرانسیسی ڈاکٹروں اور صحافیوں کے ایک گروپ نے رکھی تھی۔ اس کا مقصد دنیا کے جنگ زدہ، بحران زدہ اور محروم خطوں میں ہنگامی طبی اور انسانی امداد فراہم کرنا ہے۔ یہ تنظیم امداد فراہم کرنے میں غیر جانبداری اور غیر امتیازی سلوک پر زور دیتی ہے اور نسل، مذہب یا سیاسی وابستگی سے قطع نظر ضرورت مندوں کو طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے حکومت یا فوجی اداروں سے آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔ تنظیم کے مالی وسائل زیادہ تر عوامی عطیات، فاؤنڈیشنز، اور مختلف ممالک میں نجی عطیہ دہندگان سے آتے ہیں اور کچھ حکومتی تعاون اور عالمی غیر منافع بخش تنظیموں سے آتے ہیں۔ 2026ء میں غزہ کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تنظیم نے تقریباً 100 سے 120 ملین یورو دینے کا عہد کیا تھا۔ اس بجٹ کا استعمال اسپتالوں، طبی مراکز، طبی ٹیموں، اور مختلف سہولیات جیسے پانی کی فراہمی اور بنیادی دیکھ بھال کے لیے کیا جاتا ہے جو کہ صحت کے نظام کی تباہی کی وجہ سے غزہ کے بہت سے حصوں میں کہیں اور دستیاب نہیں ہیں۔ غزہ کی پٹی میں اس تنظیم کی سرگرمیاں گزشتہ طویل سالوں سے جاری ہیں۔

 

جرائم کا اعتراف

صیہونی حکام کی جانب سے ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے خلاف یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب تل ابیب اس سے قبل غزہ کی پٹی میں جنگ کے دوران انسانی سرگرمیوں میں مصروف دیگر فلسطینی اداروں کے خلاف بھی اسی طرح کا مکروہ رویہ اپنا چکا ہے۔ غاصب صیہونی رژیم نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے شہداء اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں فراہم کیے جانے والے اعدادوشمار عام طور پر "قابل اعتماد” تصور کیے جاتے ہیں۔ غاصب صیہونی فوج کی جانب سے ان اعدادوشمار کو قبول کرنا تل ابیب کے سرکاری موقف میں ایک اہم تبدیلی ہے جو پچھلے سالوں کے دوران ہمیشہ غزہ میں عام شہریوں کے جانی نقصان پر مبنی اعدادوشمار کو حماس کا پروپیگنڈہ قرار دے کر انہیں ناقابل اعتماد قرار دیتا آیا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیل کے سینئر سیکورٹی اہلکار نے عبرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اکتوبر 2023 میں غزہ کی پٹی پر جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک غاصب صیہونی فوج کے حملوں میں تقریباً 70 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی جارحیت میں براہ راست شہید ہونے والوں کی تعداد 71,600 سے تجاوز کر گئی ہے اور کم از کم 10 ہزار لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

 

امن کے راستے میں رکاوٹیں

فلسطینیوں پر بہتان تراشی، انسانی حقوق کی تنظیموں سے دشمنی پر مبنی طرزعمل اپنانا اور جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی، غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینی عوام بالخصوص اہل غزہ کے جائز مطالبات پامال کرنے کی غرض سے انجام پانے والی کوششوں کا ایک چھوٹا سا حصہ جانے جاتے ہیں۔ جنوری 2025ء میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کی مدد سے تل ابیب اور حماس کے درمیان انجام پانے والی جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں غاصب صیہونی فوج جن امور کی پابند تھی ان میں وسیع پیمانے پر حملے بند کر دینا، غزہ کی پٹی سے اپنی افواج کا کچھ حصہ باہر نکال لینا، قیدیوں کا تبادلہ اور انسانی امداد غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینا شامل تھا۔ تاہم، موصولہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی رژیم نے ان امور کی پابندی نہیں کی اور اس سلسلے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرنے میں مصروف ہے۔ اس میں انسانی امداد کی فراہمی محدود کرنا، غزہ میں ضرورت کے آلات اور ادویات کے داخلے میں رکاوٹیں پیدا کرنا اور شمالی غزہ کے تارکین کی اپنے گھروں کو واپسی میں روڑے اٹکانا شامل ہے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جو جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی شرائط میں شامل تھے۔

 

رفح کراسنگ کی بحالی

شرم الشیخ جنگ بندی معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کے دباؤ میں آ کر غاصب صیہونی رژیم غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار رفح کراسنگ کھولنے پر مجبور ہو گئی تھی۔ اگرچہ صیہونی کابینہ کے شدت پسند وزیروں نے رفح کراسنگ کھولنے کی شدید مخالفت کی تھی لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ غاصب صیہونی رژیم کے چینل 12 نے ایک سیکورٹی ذریعے کے بقول خبر دی ہے کہ رفح کراسنگ کو کھول دیا گیا ہے اور آزمائشی بنیادوں پر اس کی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے اعلان کیا کہ یورپی یونین اور مصر کے نمائندوں کی موجودگی میں رفح کراسنگ ایک تجرباتی ماڈل کے تحت کھل گئی ہے اور اس کے ابتدائی آپریشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذریعے نے مزید کہا کہ رفح کراسنگ سے بہت سے لوگوں کو گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے لیکن ان کی تعداد 150 سے زیادہ نہیں ہو گی۔ صہیونی ذریعے نے زور دیا کہ اس مرحلے پر ٹریفک کو سختی سے محدود اور کنٹرول کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے