لاوروف: خلیج فارس کے لیے روس کا سیکوریٹی نظریہ ایران، عراق اور 6عرب ممالک کے درمیان اعتماد سازی پر مبنی ہے
روس کے وزیر خارجہ نے تہران میں اپنی ایرانی منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں علاقائی حالات پر روس کا موقف بیان کیا۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خطے کے استحکام کے لیے روس کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہمارا مجوزہ نظریہ، جس کا عنوان "خلیج فارس کے علاقے میں سلامتی ” ہے، خاص طور پر اس سمندر کے تمام تمام ساحلی ممالک یعنی آٹھ ممالک کے درمیان کہ جن میں اسلامی جمہوریہ ایران، عراق اور خلیج فارس کے چھ ساحلی عرب ممالک شامل ہیں ہمہ جہت تعاون پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا: ہم نے نہ صرف حالیہ مہینوں میں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مسلسل اس مرکزی خیال پر کام کیا ہے اور اس علاقے میں پائیدار سلامتی و استحکام کی راہوں پر غور کرنے کے لئے متعدد اجلاس و کانفرنسس کا انعقاد کیا گيا ہے۔
انہوں نے اس منصوبے کے عملی اہداف کے بارے میں مزید کہا: اس اقدام کا حتمی مقصد ان ساحلی ممالک کے طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر حقیقی اور باہمی اعتماد سازی ہے۔
روس کے وزیر خارجہ نے اس سلامتی منصوبے کی کثیر الجہتی ساخت کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا: ہمارا نظریہ کے مطابق یہ میکانزم صرف خلیج فارس کے ساحلی ممالک تک محدود نہ رہے، بلکہ دیگر وہ فریق بھی اس میں شامل ہوں جو تعاون کے حالات بہتر بنانے کے لیے "سہولت کار ممالک” کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
لاوروف نے خطے میں تعاون کے دیگر رجحانات کے بارے میں واضح کیا: ہم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے شدہ مکہ معاہدے کا بھی استقبال کیا ہے؛ اگرچہ وہ اقدام ایک مختلف پس منظر میں آگے بڑھایا جا رہا ہے، لیکن چونکہ اس کی بنیاد اور مقصد امن، تعاون اور ہم آہنگی میں فروغ پر رکھا گیا ہے، اس لیے اسے روسی فیڈریشن کی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے آخر میں زور دیا: ہمیں معلوم ہے کہ کچھ دیگر ممالک نے بھی اس سہ فریقی معاہدے میں شامل ہونے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے اس دوران، اگر اسلامی جمہوریہ ایران بھی جائزوں کے بعد ایسے میکانزم میں شرکت کو اپنے مفادات کے لیے مناسب سمجھے، تو ہم ایرانی دوستوں کے آزاد فیصلے اور انتخاب کا مکمل احترام کریں گے۔



