ترجمان وزارت خارجہ: ایران نے بغداد بیانیہ میں یمن کے بارے میں دو تفرقہ انگیز شقیں شامل نہیں ہونے دیں
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ایران کی وجہ سے بغداد بیانیہ میں یمن کے بارے میں دو تفرقہ انگیز شقیں شامل نہیں ہونے پائيں
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج منگل 20 اکتوبر کو اپنی پریس کانفرنس میں،مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔
انھوں نے آج اپنی پریس کانفرنس کا آغاز صوبہ سیستان وبلوچستان میں میں شہید ہونے والی دوخواتین کے ذکر سے کیا۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ گزشتہ دنوں سیستان وبلوچستان میں دہشت گردانہ حملے میں ایران کی دو فعال خواتین، ڈاکٹر نصرت افتخاری اور افسانہ عقیلہ شہید ہوگئيں۔ انھوں نے کہا کہ ان دونوں خواتین نے اپنی زندگی معاشرے کی پیشرفت کے لئے وقف کردی تھی۔
ترجمان وزارت خارجہ نے امریکا کے بارے میں کہا کہ اس کی عہد شکنی کے واقعات بہت ہیں۔ گزشتہ دو برس میں اس نے مسلسل عہدشکنی کی ہے۔
انھوں نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کے دورہ تہران کے تعلق سے اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس سفر کا تعلق ایران امریکا مذاکرات سے تھا اور کیا ایران نے یورینیئم کی افزودگی کے بارے میں اپنے موقف سے عدول کیا ہے؟ کہا کہ ہم نے اپنے موقف سے ہرگز عدول نہیں کیا ہے اور مسٹر لاؤروف کے دورہ تہران کا تعلق دونوں ملکوں کی باہمی مشاورتوں سے ہے جو مستقل طور پر جاری ہیں اور اس دورے کا پروگرام بہت پہلے طے پاچکا تھا۔
ترجمان وزارت خارجہ نے او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس کی قرار داد میں یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کے ساتھ یک جہتی کے اعلان کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قرار داد کو بغدا اعلامیہ سے الگ کرکے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ او آئی سی وزارتی کونسل کے بغداد اجلاس کا اختتامی بیان زیادہ اہم ہے اس لئے کہ اختتامی بیان معمولاؑ اجماع سے پاس ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس بیان میں ہم نے یمن کے تعلق سے دو تفرقہ انگیز شقیں شامل نہیں ہونے دیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ یمن کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہئے۔ یمن کے عوام دس برس سے زائد عرصے سے غیر قانونی اور غیر انسانی محاصرے میں ہیں۔ طاقت کے استعمال اور زور زبردستی سے یمن کا مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا۔
انھوں نے کہا کہ جس قرار داد کا ذکر کیا گیا ہم نے کھل کے اس کی مخالفت کی اور واضح کیا کہ یہ امت اسلامیہ کے مفاد میں نہیں ہے اور اس کی مںظوری ميں تنظیم کے طریقہ کار کی پابندی بھی نہیں کی گئی۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ اس قرار داد کو اجماع سے پاس کرانا چاہتے تھے لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ ہم نے مخالفت کی اور ہماری نظر میں اس کو او آئی سی کی منظور کردہ قرار داد نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ اس کی منظوری میں اس کے طریقہ کار کی پابندی نہیں کی گئی ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے ایرانی حملوں کے اہداف کے بارے میں قطر کے موقف کو دوبارہ نشر کئے جانے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قطر کے ساتھ ہمارے روابط اچھے ہیں، اور ہم نے اس کے اس موقف کو جو اس نے صداقت کے ساتھ بیان کیا تھا، دوبارہ نشر کرکے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ قطر کے حکام نے ایک سرکاری دستاویز جاری کی تھی جس میں اعلان کیا تھا کہ ایران نے قطر میں، صرف امریکی فوجی اڈوں اور فوجی مراکز پر حملے کئے ہیں۔ ہم نے ان کے اسی موقف کو بیان کیا ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے خلیج فارس تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے منامہ اجلاس کے اختتامی بیان میں ایران کے تعلق سے جو باتیں کی گئی ہیں ان کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں خلیج فارس کے ملکوں کے حکام سے یہ توقع ہے کہ وہ اپنی باتوں پر غور کریں گے۔ انھوں نے جو باتیں کی ہیں وہ خلوص نیت سے عاری اور اچھی ہمسائگی کے اصولوں کے منافی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم بھی جانتے ہیں اور یہ ممالک بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف جارحیت میں ان کی قلمرو استعمال ہوئی ہے۔ خود امریکا کے اعلی عہدیداروں نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے اور امریکی نیز صیہونی حکام نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت میں ان کی مدد اور معاونت کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم نے ایران پر حملوں کے جواب میں، ان فوجی اڈوں اور مراکز پر حملے کئے ہیں جہاں سے ہم پر حملے ہوئے تھے، ایران کے ان دفاعی حملوں کو فوجی جارحیت کہنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے بارہا کہا ہے اور ایک بار پھر کہتے ہیں کہ خلیج فارس کے ملکوں کے ساتھ اچھی ہمسائگی چاہتے ہیں اور ان سے ہمارا واضح مطالبہ یہ ہے کہ اپنی قلمرو اور وسائل، ہمارے خلاف جارحیت میں استعمال نہ ہونے دیں۔
ترجمان وزارت خارجہ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں روسی تجویز کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ روس نے چند برس قبل خلیج فارس اور مجموعی طور پر مغربی ایشیا کی اجتماعی سلامتی کے تعلق سے بعض تجاویز پیش کی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ان تجاویز میں بنیاد یہ ہے کہ علاقے کے ممالک، اپنی سلامتی کے لئے ان طاقتوں کے بجائے جنھوں نے ثابت کیا ہے کہ اس علاقے کے ملکوں کی سلامتی میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے،خود اسی علاقے کے ملکوں پر اعتماد کریں۔ کیونکہ بیرونی طاقتیں اس خطے کے ملکوں کی سلامتی کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں اور وہ صرف جارحیت اور تسلط پسندی کی فکر میں ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ روس نے چند برس قبل، خلیج فارس اور مجموعی طورپر پورے مغربی ایشیا میں اجتماعی سلامتی کی تقویت کے لئے جو تجاویز پیش کی تھیں، ہم بھی ان کی تائید کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس ہدف کے لئے ضروری ہے کہ علاقے کے ممالک باہمی اعتمادی سازی کا آغاز کریں اور بیرونی دباؤ اور امریکا نیز ان حکومتوں کےاثرورسوخ سے آزاد رہتے ہوئے،جو اس علاقے کے ملکوں کی سلامتی کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں، باہمی مشارکت سے قابل اعتماد سیکورٹی نظام تشکیل دیں۔
ترجمان وزارت خارجہ نے اس سوال کے جواب میں کہ امریکی وزارت جنگ نے میناب پرائمری اسکول پر حملے کے بارے میں رپورٹ ملتوی کردی ہے اور ایک طرح سے ان جرائم کو پاک کرنے کی فکر میں ہے، اس بارے میں وہ کیا کہیں گے؟کہا کہ اس کو زیادہ اہمیت نہ دیں، وہ تحقیق کریں، نہ کریں، رپورٹ جاری کریں، نہ کریں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ کیا کسی جرم کو پرکھنے کا معیار اس مجرم کا بیان اور رپورٹ ہے جس نے جرم کا ارتکاب کیا ہے؟
انھوں نے کہا کہ امریکا نے صرف میناب، لامر اور سیریک میں ہی جرائم کا ارتکاب نہیں کیا ہے۔ ایران کے ہی نقطہ نگاہ سے نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے، اس کے سارے فوجی اقدامات اور حملے جو اس نے 40 روزہ جنگ کے دوران اور اس کے بعد انجام دیئے ہیں، جنگی جرائم ہیں۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ خود یہ بات کہ امریکا ایک کھلے جرم کو جس کا ارتکاب اس نے، منصوبہ بندی کے ساتھ، جارحیت کے آغاز میں ہی، ایرانیوں پر خوف ووحشت طاری کرنے کے لئے کیا تھا، زبانی طور پر تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہيں ہے، خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا واسطہ ایسے قانون شکن سے ہےجو بین الاقوامی قوانین کے بنیادی ترین اصول وضوابط کو بھی اہمیت نہیں دیتا۔
اسماعیل بقائی نےاس سوال کے جواب میں کہ بعض عبرانی ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی حکام نے علاقے کے بعض ملکوں کے حکام سے ملاقت میں، ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کا جائزہ لیا ہے، اس بارے میں ایران کا موقف کیا ہے؟ کہا کہ ہم نے اس امکان کو اپنے سامنے رکھا ہے، کبھی فراموش نہیں کیا ہے، ابھی اس وقت بھی جب آپ سے گفتگو ہورہی ہے، ہم صلح کی حالت میں نہيں ہیں۔ سمندری محاصرہ جاری ہے اور ایرانی قوم کو مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں، تو فطری طور پر ہمیں چوکنا رہنا چاہئے اور ہر لمحہ یہ امکان سامنے رکھنا چاہئے ۔
انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود ہمیں مدافعین ایران پر اعتماد ہے ۔ ان کی وجہ سے ہم مطمئن ہیں۔
انھوں نے فرانسیسی صدر کے اس بیان کے بارے میں کہ فرانس میں جاری احتجاجی مظاہروں کا تعلق ایران کےخلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سے ہے،پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کی بات میں ایک حقیقت موجود ہے کہ جو کام خود انھوں نے کیا ہے اور اس میں وہ خود بھی قصور وار ہیں، اس کے نتائج بھی انہیں قبول کرنا ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ بعض یورپی ملکوں نے کھل کے اور بعض نے بالواسطہ طورپر اشارتاؑ امریکا اور صیہونی حکومت کی جارحیت کی حمایت کی ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم نے فراموش نہیں کیا ہے کہ امریکا اور فرانس کے صدور کے درمیان ایک پیغام کا تبادلہ ہوا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہم ایران کے تعلق سے بڑا کام کرسکتے ہیں، اسی وقت ہمارے اس خیال کی تقویت ہوگئی تھی کہ ایران پر حملے کے لئے امریکا اور صیہونی حکومت کی منصوبہ بندی میں فرانس بھی شریک ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر میکرون اپنی اس بات میں سچے ہیں کہ فرانس اور دیگر یورپی ملکوں کی اندرونی مشکلات تیل کی قیمت بڑھنے کا نتیجہ ہیں اور تیل کی قیمت میں اضافہ،خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے بحران کا نتیجہ ہے تواس مسئلے کے بنیادی حل کے لئے اقدام کریں۔
انھوں نے کہا کہ تمام مشکلات کی جڑ ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت اور ایران کے بحری محاصرے کا دوام ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ ظلم اور بے انصافی پر خاموش رہیں، اور اس کی حمایت کریں اوریہ توقع رکھیں کہ اس کے نتائج سے محفوظ رہیں گے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔
انھوں نے ایران – مذاکرات کی صورتحال اورایران کے سات روزہ فارمولے کے جواب میں امریکا کے متضاد بیانات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی کی تضاد بیانی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمارے لئے صرف یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ ہمارے اپنے عوام اور دنیا والوں نے دیکھ لیا کہ ہم نے خلوص نیت کے ساتھ جو بھی ضرورتھا قطری ثالث کے توسط سے امریکا کے سامنے بیان کردیا۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ہمارا موقف اور مطالبہ بالکل واضح ہے۔ امریکا نے جو جواب دیا ہے وہ ناکافی اور ناقص ہے۔ ہم اپنے سات مطالبات پر بدستور باقی ہیں۔ ہمارے ان سات مطالبات کو ہی سات شرائط کے عنوان سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔ ہمارے یہ مطالبات برحق اور قانونی ہیں۔
انھوں نے آخر میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جس طرح سفارت کاری میں سنجیدہ ہے اسی طرح ایران کے دفاع میں بھی ثابت قدم اور پائیدار ہے۔



