انصاراللہ یمن کی جانب سے سعودی عرب کی جارحیت اور ظالمانہ محاصرے ختم کرنے کے لیے جوابی کاروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے یہ سوال جنم دیا ہے کہ کیا مکہ دفاعی معاہدے پر عملدرآمد ہو سکتا ہے اور پاکستان یا ترکی اس کے تحت یمن کے خلاف جنگ میں کود سکتے ہیں یا نہیں۔ یاد رہے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے 7 اگست 2026ء کے دن مکہ مکرمہ میں ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جو مکہ دفاعی معاہدے کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاہدے میں دفاعی اور سیکورٹی امور میں تعاون پر زور دیے جانے کے ساتھ ساتھ اجتماعی ڈیٹرنس ایجاد کرنے پر بھی تاکید کی گئی تھی۔ اسی طرح یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترکی کے مختلف ذرائع ابلاغ جن میں صباح، حریت اور ینی شفق شامل ہیں نے مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت اور افادیت کا بہت پرچار کیا ہے۔ دوسری طرف انصاراللہ یمن نے ترک حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے سے باز رہیں۔ اب یہ سوال پیدا ہو چکا ہے کہ اگر یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو کیا ترکی اس میں شامل ہو جائے گا یا نہیں؟ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے باوجود ترکی نے اب تک یمن کے خلاف براہ راست جنگ میں شریک ہونے سے گریز کیوں کیا ہے؟ ان سوالات کا جواب پانے کے لیے درج ذیل تین نکات پر غور ضروری ہے:
1)۔ مکہ دفاعی معاہدہ اب تک ترکی کی پارلیمنٹ میں منظور ہونے کے لیے پیش نہیں کیا گیا ہے۔ لہذا ترکی کے اندر فی الحال اس معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اگرچہ اس معاہدے پر 7 اگست کے دن دستخط ہو گئے تھے لیکن اب تک اسے اگلے مراحل کے لیے ترکی کی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ ترکی کے آئین کی رو سے تمام ایسے بین الاقوامی معاہدے جن میں مسلح افواج کی تعیناتی شامل ہو پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ہی قابل عمل ہو سکتے ہیں۔ ترکی کے آئین کی شق 90 میں بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری کا طریقہ کار واضح کیا گیا ہے جبکہ شق 92 میں بھی اعلان جنگ اور بیرون ملک مسلح افواج تعینات کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو سونپا گیا ہے۔ یوں اس دفاعی معاہدے پر ترک صدر کے دستخط کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اسے مکمل قانونی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور اب ترکی کی مسلح افواج اس معاہدے کی رو سے بیرون ملک تعینات کی جا سکتی ہیں۔ اس کا انحصار پوری طرح پارلیمنٹ میں اس معاہدے کی منظوری یا عدم منظوری پر ہوتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو فی الحال مکہ دفاعی معاہدہ صرف سیاسی حد تک ہے اور فوجی اقدامات انجام پانے کا امکان یا عدم امکان اس معاہدے کی ترکی کی پارلیمنٹ میں منظوری یا عدم منظوری پر منحصر ہو گا۔
2)۔ ان سوالات کا جواب دینے میں موثر دوسرا اہم عنصر ترکی کی رائے عامہ ہے۔ شام کے برعکس یمن کی جنگ ترکی کی نظر میں اس کی قومی سلامتی اور سرحدوں سے براہ راست مربوط نہیں ہے۔ ترک حکام شام میں اپنی فوجی موجودگی بیان کرتے وقت زیادہ تر یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ وہ دہشت گرد کرد تنظیم پی کے کے کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اسے ترکی کی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ تصور کرتے ہیں۔ لیکن یمن کی جنگ اور انصاراللہ یمن کی جانب سے ترکی کو کوئی ایسا خطرہ درپیش نہیں ہے۔ لہذا اگر ترکی کی فوج سعودی عرب کے دفاع میں یمن کے خلاف براہ راست جنگ میں شامل ہوتی ہے تو اسے ترک رائے عامہ کی اکثریت کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حتی حکمران جماعت انصاف و ترقی پارٹی میں بھی ترک فوج کو ایسی جنگ میں دھکیلنے کی شدید مخالفت پائی جاتی ہے جس کا ترکی کی قومی سلامتی سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ دوسری طرف مکہ دفاعی معاہدے کی تمام تر تفصیلات اب تک ترک عوام کے لیے واضح نہیں کی گئیں جس کے باعث اس معاہدے کی بنیاد پر انہیں قانع کرنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ مکہ دفاعی معاہدے میں ایک شق ایسی ہے جو نیٹو کی شق 5 سے مشابہت رکھتی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک پر فوجی حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور ہو گا۔ لیکن محض اس شق کی موجودگی ترکی کے لیے سعودی عرب کی ہر جنگ میں شرکت لازمی قرار نہیں دے سکتی۔
3)۔ 2028ء میں ترکی میں نئے صدارتی الیکشن ہونے والے ہیں اور ترک صدر ہر گز نہیں چاہیں گے کہ ایک ایسی جنگ میں داخل ہوں جس کی ممکن ہے انہیں بھاری قیمت چکانی پڑ جائے۔ رجب طیب اردگان کو آئندہ الیکشن کے لیے اپنا ووٹ بینک اور عوامی حمایت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں اگر ترکی یمن کے خلاف براہ راست جنگ میں شریک ہوتا ہے تو انہیں اس اقدام کی بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑ جائے گی۔ انہوں نے اپنی عوام کو شام میں فوجی مداخلت پر یہ جواز پیش کر کے قانع کیا ہے کہ سرحدوں کی سلامتی کے لیے یہ ایک ضروری اقدام تھا اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ترکی کی سرحدوں کو براہ راست خطرہ درپیش تھا۔ لیکن یمن سے متعلق وہ یہ دلیل پیش نہیں کر سکتے کیونکہ ترک عوام کی اکثریت اسے ترکی کے مفادات کی روشنی میں نہیں بلکہ سعودی عرب کی حمایت کے لیے تصور کرتی ہے۔ لہذا ترکی کے صدر یمن کے خلاف جنگ میں براہ راست شرکت کی بجائے سعودی عرب کو فوجی، تکنیکی اور دفاعی امداد فراہم کرنے کو ترجیح دیں گے۔ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے 19 ستمبر کے دن اس بارے میں بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ترکی سعودی عرب کی ہر ممکنہ مدد کرنے کو تیار ہے۔ یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ انہوں نے صرف سعودی عرب کی مدد کی بات کی ہے اور مسلح افواج بھیجنے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ لہذا قوی امکان یہی ہے کہ فی الحال ترکی یمن کے خلاف براہ راست جنگ میں شریک نہیں ہو گا۔




