عراقچی: امید ہے کہ او آئی سی اجلاس کے بیان میں انصاف کا خیال رکھا جائے گا
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ او آئی سی وزارتی کونسل کے اجلاس کے اختتامی بیان میں، انصاف اور توازان کا خیال رکھا جانا چاہئے
وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے بغداد میں او آئی سی وزارتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر اتوار 18 اکتوبر کو ارنا کے نامہ نگارکے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اجلاس کے اختتامی بیان میں انصاف اور توازن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
نیوز ایجنسی کے خبر نگار نے ان سے اجلاس میں پاس ہونی والی قرار دادوں اور اختتامی بیان کے بارے میں سوال کیا کہ کیا اس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات اور اسلامی دنیا نیز یمن کے بارے میں اس کے موقف کا خیال رکھا گیا ہے ؟
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت جب میں آپ سے گفتگو کررہا ہوں، قراردادیں پاس نہیں ہوئی ہیں اور اختتامی بیان لکھے جانے کا کام بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ گزشتہ ہمارے ساتھیوں نے کوشش کی ہے کہ قرار دادوں میں ایران کے نظریات بھی بیان کئے جائيں۔
ان کا کہنا تھا کہ سبھی قراردادیں، بعض کوچھوڑ کر، گزشتہ برس کی قراردادوں کی ہی تکرار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اجلاس میں یمن کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کی گئی ۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ سعودی فریق نے اپنے نظریات بیان کئے اور ہم نے بھی اپنے موقف صراحت کے ساتھ پیش کئے۔
انھوں نے بتایا کہ دیگر ممالک نے بھبی اپنے نظریات بیان کئے اور کہا کہ اس سلسلے میں قرار داد پاس کی جائے جس کو ابھی آخری شکل نہیں دی گئی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اختتامی قرار داد میں، انصاف اورتوازن کا خیال رکھا جائے گا۔ اگر یہ نہ ہوا تو ایران اس قرار داد میں شامل نہیں ہوسکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس صورت میں ہم قرار داد کے بارے میں اپنے تحفظات کا اعلان کریں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ صراحت کے ساتھ اعلان کردیں کہ ہم یہ قرار داد تسلیم نہیں کرتے۔ البتہ اس کا انحصار قرار داد کے متن پر ہے۔
جاری



