ایران گفتگو کے لئے تیار ہے لیکن زورزبردستی قبول نہیں کرے گا
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے او آئی سی کے بغداد اجلاس سے خطاب میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران گفتگو کے لئے تیار ہے لیکن زورزبرستی ہرگز تحمل نہیں کرے گا
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بغداد میں منعقدہ او آئی سی وزارتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ اس خطے میں، ہم علاقے کے ساتھ ہی مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے شریک ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے سامنے بہت آسان انتخاب ہے، یا ہم مل کر باہمی سلامتی قائم کریں گے یہ سب مل کر بدامنی تحمل کریں گے۔
ایران کے وزیرخارجہ نے اسلامی ملکوں کے درمیان، گفتگو اور وحدت ویک جہتی کی تقویت پر زور دیا اور کہا کہ گفتگو کا دروازہ کھلا رکھنا کمزوری نہیں بلکہ احساس ذمہ داری کی علامت ہے۔
سید عباس عراقچی نے او آئی سی کے اصول وضوابط اور اقوام متحدہ کے منشورکی بنیاد پر، سبھی ملکوں کے اقتداری اعلیٰ اور ارضی سالمیت کے مساوی احترام، ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور اختلافات کے پر امن حل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس اصول کا امتیازی انتخاب، اس کا اعتبارختم کررہا ہے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تہران بین الاقوامی قوانین اور سفارت کاری کا پابند ہے، کہا کہ ایران نے گزشتہ دو برس کے دوران، مذاکرات کا راستہ اختیار کیا لیکن امریکا نے سفارت کاری کو نظرانداز کیا اور جارحیت، دھمکیوں، دہشت گردی اور اقتصادی جنگ کا راستہ اختیار کیا۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت میں، عورتوں اور بچوں سمیت، تقریبا 5 ہزارایرانی شہید ہوئے اور رہبر انقلاب اسلامی نیز ایران کے اعلی سیاسی اور فوجی عہدیداروں کو دہشت گردی کا نشانہ بناکر شہید کیا گیا جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی پامالی ہے۔
انھوں نے کہا کہ غیر فوجی مراکز پر حملہ، میناب پرائمری اسکول پر حملے میں، 160 سے زائد اسکولی بچوں اور معلمین کی شہادت، لامرد اسپورٹس کمپلیکس پر کلسٹر میزائلوں سے حملہ، قشم میں پانی میٹھا کرنے کے کارخانے پر بمباری اور سیریک میں شادی کی تقریب پر فضائی حملہ، ایران کے خلاف جارحیت میں امریکا اور صیہونی حکومت کے جنگی جرائم کے چند نمونے ہیں۔
سید عباس عراقچی نے اسلامی تعاون کی تنظیم، او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ ایران کی ارضی سالمیت اور قومی اقتدار اعلی کے خلاف جارحیت کے سلسلے میں ٹھوس موقف اختیار کرے۔
انھوں نے اسی کے ساتھ ان ملکوں کی قدردانی کی جنھوں نے امریکا اور صیہونی حکومت کی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔
ایران کے وزیرخارجہ نے کہا کہ ملک اور اس کے قانونی مفادات اور حقوق کے دفاع اور امن کی کوششوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی خصوصی اقدام کا خواہشمند نہیں ہے بلکہ اس کا مطالبہ ہے کہ قانون اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کیا جائے۔
ایران کے وزیرخارجہ نے کہا کہ اختلافات جنگ سے حل نہیں کئے جاسکتے اور تباہی ونابود سے امن قائم نہیں ہوسکتا۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے توانائی اور عالمی تجارت کے تعلق سے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ 28 فروری 2026 سے تک یہ اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ پوری طرح کھلی ہوئی تھی اور اس کے بعد یہاں سے آمدورفت میں خلل اور بدامنی، ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کا براہ راست نتیجہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ملک پر بمباری کی جائے، اس کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کی دھمکی دی جائے اور اسی کے ساتھ اس سے جہازرانی کی سلامتی اور سیکورٹی معمول پر لانے کی توقع کی جائے ۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے 17 جون کو ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کئے جانے کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں اور قطر کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے کہا کہ اس مفاہمتی یاد داشت کی شق نمبر پانچ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے آبنائے ہرمز میں پر امن جہازرانی کی سہولت بحال کرنے کے لئے عمان کے ساتھ تکنیکی مذاکرات شروع کئے اور دو ہفتے میں، جنگ شروع ہونے سے پہلے کی صورتحال، تقریبا 60 فیصد تک بحال ہوگئی لیکن امریکا کے یک جانبہ اقدامات اور فوجی جارحیت اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے نفاذ اور اختلافات کے حل کے عمل میں رکاوٹ بن گئی۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے گزشتہ دو برس میں خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات کئے لیکن ہر بار اس کو فوجی حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ ان فوجی حملوں نے مذاکرات کے تعلق سے تہران میں بہت گہری بے اعتمادی پیدا کردی اور اس بات کی قابل اعتماد اور معتبر ضمانت کے بغیر کہ دوبارہ ان حملوں کی تکرار نہیں ہوگی، اس کے اندر مذاکرات پر اعتماد بحال نہيں ہوسکتا۔
وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے اسی کے ساتھ کہا کہ ایران نے سفارت کاری کا را ستہ بدستوراب بھی کھلا رکھا ہے اور قطر کے توسط سے واضح اور شفاف تجویز پیش کی ہے کہ ضروری حالات فراہم ہونے کی صورت میں، سات دن کے اندر آبنائے ہرمز میں آمدورفت معمول پر واپس آسکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب ایران کی اس تجویز کے بارے میں امریکا کو فیصلہ کرنا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے او آئی سی وزارتی کونسل کے بغداد اجلاس سے خطاب میں، فلسطین کو عالم اسلام کا مرکزی مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ غزہ، نسل کشی روکنے میں بین الاقوامی نظام کی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرزمین فلسطین پر ناجائز قبضہ، مظلوم فلسطینی عوام کا قتل عام اور قدس شریف نیز دیگر مقدس مقامات کی توہین اور ان کے تعلق سے دھمکیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی اور رکن ملکوں سے مطالبہ کیا کہ مظلوم فلسطینی عوام کا قتل عام اور ان کا محاصرہ رکوانے کے لئے، ضروری اقدام کریں اور اپنے ہم آہنگ عملی اقدامات کے ذریعے، فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع کو ترجیحات میں رکھیں ۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تقریبا ایک عشرے سے یمن کے خلاف جنگ، محاصرے اور زندگی کے لئے ضروری بنیادی ڈھانچوں کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔
انھوں نے یمنی عوام کے رنج والم میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے یمن میں انسانی حالات کو انتہائی المناک قرار دیا۔
انھوں نے ایران کی جانب سے یمن اور سعودی عرب، دونوں ملکوں کی ارضی سالمیت، خودمختاری اور اقتدار اعلیٰ کی حمایت کا اعلان کیا اوربحران یمن کے پائیدار حل کے لئے، جامع اور ہمہ گیر سیاسی عمل پر زور دیا۔
سید عباس عراقچی نے سیاسی راہ حل کو نظرانداز کرنے اور فوجی اقدامات میں شدت لانے کے نتائج کی جانب سے خبردار کیا اور کہا کہ ایران، قیام امن کے متفقہ نقشہ راہ کی بنیاد پر یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لئے تیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ یمنی عوام کو کسی دباؤ، پابندیوں اور محاصرے کے بغیر زندگی گزارنے کا حق ملنا چاہئے اور کوئی بھی دوسروں کے لئے بدامنی پیدا کرکے اپنے لئے امن وسلامتی فراہم نہیں کرسکتا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں، کہا کہ علاقے کے مسائل، خود علاقے کے ملکوں کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقے کے مسائل کو اس بات کا بہانہ نہیں بننے دینا چاہئے کہ بیرونی طاقتیں اس علاقے کو جنگ اور غارتگری کے میدان میں تبدیل کردیں۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ اس علاقے کے کسی بھی ملک کی زمینی اور فضائی حدود اور بنیادی تنصیبات کا استعمال دوسرے ملکوں پر جارحیت کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔
انھوں نے کہا کہ پائیدار سلامتی، صرف باہمی تعاون اور دو طرفہ احترام کے ساتھ قائم کی جاسکتی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے اپنے خطاب کے آخرمیں، مشترکہ سلامتی کے لئے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعاون کے لئے ایران کی آمادگی کا اعلان کیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، زورزبردستی، دھمکی اور مرعوب کرنے کے اقدامات کو ہرگز قبول نہیں کرسکتا اور کوئی بھی دباؤ اس کو اپنی رٹ اور اقتدار اعلی کے حقوق سے منصرف نہیں کرسکتا لیکن وہ معتبر ضمانتوں اور باہمی احترام کی بنیاد پر گفتگو کے لئے تیار ہے۔
انھوں نے او آئی سی وزارتی کونسل کے اجلاس کے لئے عراق کی میزبانی کی قدردانی کی اور امت اسلامیہ کی وحدت، امن وآشتی ، رفاہ و آسائش اور کامیابی کی آرزو پر اپنا خطاب ختم کیا۔



