برطانوی وزیر خارجہ نے اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم عالمی ضمیر پر ایک بدنما داغ ہیں، مغربی کنارے میں نسلی صفائی اور غزہ میں جنگی جرائم کی مذمت کی۔
پیر کے روز لیورپول میں لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈ ملی بینڈ نے غزہ اور مغربی کنارے کے عوام پر نیتن یاہو کابینہ کی جانب سے مسلط کردہ تکالیف کا ذکر کیا اور کہا کہ "یہ تکالیف عالمی ضمیر پر ایک بدنما داغ ہیں۔”
برطانیہ اور دیگر ممالک میں ان لاکھوں لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے جنہوں نے فلسطینیوں پر مسلط کردہ صورتحال کے خلاف احتجاج کیا ہے، انہوں نے مزید کہا: "میں اپنے ملک اور دنیا بھر کے ان لاکھوں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں جو فلسطینی عوام کی حالتِ زار سے متاثر اور غمگین ہوئے ہیں کہ ہم آپ کی آوازیں سن رہے ہیں۔ آپ حق بجانب تھے۔”
برطانوی وزیر خارجہ نے حکومت کے نقطہ نظر میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم مغربی کنارے میں”دہشت گرد آباد کاروں” کی جانب سے نسلی صفائی کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم غزہ میں جنگی جرائم کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم فلسطین پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کی مذمت کرتے ہیں، اور ہم اپنے الفاظ کو عملی اقدامات بھی بدل رہے ہیں۔”
لندن کی جانب سے اٹھائے جانے والے ممکنہ اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے ملی بینڈ نے کہا کہ برطانوی حکومت غیر قانونی بستیوں سے سامان کی درآمد پر پابندی عائد کرے گی اور برطانیہ سے ان بستیوں کے لیے فائناس، تعمیراتی سرگرمیوں اور خدمات کی فراہمی کو بھی روکے گی۔



