اسلامی جمہوریہ ایران نے ٹرمپ کی گستاخانہ دھمکیوں اور نفرت انگیز ہرزہ سرائی پر اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ناظم الامور اور سفیر غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کے نام خط میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کی تازہ گستاخانہ دھمکیاں اور نفرت انگیزہرزہ سرائی صرف سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔
انھوں نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 22 ستمبر 2026 کو جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں اپنی تقریر میں، اس پلیٹ فارم سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے، جو بین الاقوامی امن و تعاون پر اقوام کو جمع کرنے کے لئے بنایا گیا ہے، اقوام متحدہ کے ایک بانی رکن، ایران کو مٹادینے کی دھمکی دی۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے اپنے اس مکتوب میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کی یہ نفرت انگیز تقریر اور ہرزہ سرائی، کوئی نئي اور مبہم بات نہیں ہے، ایران کے خلاف اس ملک کی کھلی دھمکیوں کا تسلسل ہے جو سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے جس کی بنیادی ذمہ داری بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ ہے۔
انھوں نے لکھا ہے کہ جنرل اسمبلی اہم ترین عالمی پلیٹ فارم ہے جس کے بنیادی اہداف میں، بین الاقوامی امن وسلامتی کی حفاظت، اقوام کے درمیان دوستانہ روابط کا فروغ اور بین الاقوامی تعاون کا حصول شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور نے اس عالمی تنظیم اور اس کے بنیادی اداروں پر ایسی ذمہ داریاں عائد کی ہیں، جو اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہیں کہ کوئی رکن دوسرے رکن کو مٹادینے کی دھمکی دے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے اپنے اس مکتوب میں لکھا ہے کہ جب اقوام متحدہ کے ایک اہم پلیٹ فارم،جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران، ایک ملک، اس کے عوام اور اس کی تہذیب وتمدن کو مٹادینے کی نفرت انگیز دھمکی دی جائے تو، خطرات سنگین تر ہوجاتے ہیں کیونکہ اس سے اس سے بین الاقوامی امن وسلامتی کو لاحق خطرات دور کرنے پر مبنی اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری اور منشور کمزور ہوتا ہے۔
انھوں نے اپنے اس مکتوب میں وضاحت کی ہے کہ قطع نظر اس سے کہ یہ دھمکیاں بے بنیاد خام خیالی پر مبنی ہوں یا نہ ہوں، ایران کی مسلح افواج اور عوام کا عزم جزم نیز استقامت شاہد ہے کہ امریکا اپنی ان کھوکھلی دھمکیوں پر ہرگز عمل نہیں کرسکے گا۔
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ناظم الامور اور سفیر غلام حسین درزی نے اپنے مکتوب کے آخر میں لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ہر جارحیت کے مقابلے میں اپنے محکم دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔



