ایران کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی حکام کے دعوے مسترد کردیئے ہیں
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے ایک بار پھر امریکی حکام کے ان دعووں کو مسترد کردیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے۔
انھوں نے امریکی حکام کے اس دعوے کے جواب میں سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کرکے لکھا ہے کہ "یا تیل کی منڈی احمق ہے یا امریکا جھوٹا ہے؛ سب جانتے ہیں کہ پہلی بات صحیح نہیں ہے۔”
ڈاکٹر قالیباف نے اپنے اس پیغام میں لکھا ہے کہ "امریکا کی دھوکے باز پروپیگنڈہ ایجنسی کہتی ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں نہیں ہے، لیکن تیل کی قیمت میں ایک بھاری اضافہ ہوا ہے؛ حملے سے پہلے کے مقابلے میں تیل کی قیمت 35 ڈالر فی بیرل بڑھ گئی اور تیل کی فزیکل قیمت (یعنی جو قیمت لی جارہی ہے، وہ) پچاس ڈالر فی بیرل زیادہ ہے۔”
ایران کے اسپیکر نے اپنی اس پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ ” بنابریں، منڈی احق ہے جو اتنی اونچی قیمت پر تیل خرید رہی ہے یا امریکی پروپیگنڈہ ایجنسی جھوٹ پھیلا رہی ہے۔”
انھوں نے لکھا ہے کہ ” جن لوگوں کو امریکا کی بات پر یقین ہے ، ان کے لئے، آبنائے ہرمز میں ڈالر چھاپنے والی ایک مشین، مفت میں رکھی ہے، آئيں اور اٹھا کر لے جائيں۔”



