◷

شہید نصر اللہ ایک ماہرِ حکمتِ عملی اور فیلڈ کمانڈر :قالیباف

28 ستمبر 2026

شہید نصر اللہ نے مزاحمت کو ایک گوریلا گروپ سے ڈیٹرنس ڈاکٹرائن میں تبدیل کر دیا

 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہید نصر اللہ مزاحمت کے ایک ایسے ماہرِ حکمتِ عملی اور فیلڈ کمانڈر تھے جنہوں نے حزب اللہ گوریلا گروپ سے ’ ڈیٹرنس ڈاکٹرائن ‘ میں تبدیل کر دیا۔

محمد باقر قالیباف نے پیر کے روز ایک پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ "عزیز سید حسن نصر اللہ (رضوان اللہ علیہ) کی شہادت کی دوسری برسی اس شخصیت کے نام، اصولوں اور ورثے کو یاد کرنے کا موقع ہے جنہوں نے مزاحمت کو ایک غیر روایتی تحریک اور گوریلا گروپ سے ’ ڈیٹرنس ڈاکٹرائن ‘ میں تبدیل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں، شہید نصر اللہ محض ایک سیاسی و مذہبی رہنما نہیں تھے؛ وہ مزاحمت کے ایک ایسے ماہرِ حکمتِ عملی اور فیلڈ کمانڈر تھے جنہوں نے علاقائی جغرافیائی سیاست کی درست سوچ  کے ذریعے لبنان کی حزب اللہ کو اس مقام تک پہنچایا کہ اس نے صیہونی حکومت کے سیکورٹی کے حساب کتاب کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔”

پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مزید کہا کہ  "سید حسن نصر اللہ ایک ایسے کمانڈر تھے جنہوں نے میدانِ جنگ اور عوام، ایمان اور سیاست، اور نظریات اور عمل کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ قائم کیا اور ’میدانِ جنگ‘ کو پائیدار سلامتی کو یقینی بنانے کا ذریعہ بنایا۔

ان کی نظر میں لبنان، ایران، فلسطین اور مزاحمت کے دیگر میدان الگ الگ اور غیر مربوط وجود نہیں تھے… بلکہ ان میں سے ہر ایک کو قبضے اور جارحیت کے خلاف ایک تاریخی ذمہ داری کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔  نتیجتاً، مزاحمت کی یادداشت میں ان کا نام محض حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کے طور پر ان کے کردار سے وابستہ نہیں ہے؛ بلکہ اس کی پہچان برسوں کی استقامت، دانشمندی اور اس عہد سے وفاداری ہے جسے انہوں نے اپنی آخری سانس تک نبھایا۔”

انہوں نے پیغام میں مزید کہا کہ دشمن کا خیال تھا کہ کمانڈر کو ختم کرنے سے مزاحمت کا عمل رک جائے گا؛ لیکن وہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ شہید نصر اللہ نے ایک تنظیم کا ڈھانچہ ایسا بنا دیا جو کسی ایک فرد پر منحصر نہیں تھا—ایک ایسا مربوط اور مستحکم نظام جو آج بھی اپنی ’ڈیٹرنس‘ (دشمن کو باز رکھنے کی) صلاحیت کو بھرپور انداز میں برقرار رکھے ہوئے ہے۔

قالیباف نے کہا کہ شہید سید حسن نصر اللہ کے افکار و نظریات محض کوئی نام یا یادگار نہیں ہیں؛ بلکہ یہ ایک ایسا انسانی اور فکری اثاثہ ہیں جو ’مزاحمت‘ (Resistance) کی نسلوں کے تجربات، مجاہدین کے ایمان اور وقار و آزادی کی خواہاں اقوام کے عزم کے ذریعے زندہ و جاوید رہے گا۔

ایران کے اسپیکر نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں جب ہم ’شہیدانِ مزاحمت کے سالار‘ (سید المقاومہ)، سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی دوسری برسی منا رہے ہیں، میں اس عظیم مجاہد اور مزاحمتی محاذ کے تمام شہداء—بالخصوص اپنے شہید امام—کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ میں بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہوں کہ وہ اس عزیز شہید کو بلند ترین مقام اور اپنی خاص رحمت سے نوازے، اور لبنان کے باوقار عوام، مزاحمت کے مجاہدین اور تمام آزاد و حریت پسند اقوام کو عزت، قوت اور سربلندی عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے