◷

برطانیہ ،ڈیزل کی قیمتوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

29 ستمبر 2026

برطانیہ میں ڈیزل کی قیمتوں نے ریکارڈ توڑ دیا، بلند ترین سطح پر پہنچ گئيں

ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت اور توانائی کی نقل و حمل کے عالمی راستوں پر کشیدگی کے بعد برطانیہ میں ڈیزل کی قیمتیں اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

آر اے سی  موٹر سروسز انسٹی ٹیوٹ نے پیر کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ برطانیہ کے گیس اسٹیشنوں پر ڈیزل کی اوسط قیمت 199.18 پنس فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جس جون 2022 میں 199.09 پنس کے پچھلے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال مارچ میں ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد سے ڈیزل 39.9 فیصد مہنگا ہو چکا ہے اور فیملی کار بھرنے کی لاگت تقریباً 110 پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے جو جارحیت شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 31 پاؤنڈ زیادہ ہے۔

رائل آٹومیشن کلب آر اے سی  کے پالیسی ڈائریکٹر سائمن ولیمز، ، نے خبردار کیا کہ اس قیمت میں اضافے کے نتائج صرف ڈرائیوروں تک محدود نہیں ہوں گے، اور ڈیزل ٹرکوں اور وینوں میں سامان کی نقل و حمل کی لاگت صارفین پر بھی اپنا اثر ڈالی گی۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایندھن کے ٹیکس یا VAT کو کم کر کے گاڑی چلانے والوں پر دباؤ کم کرے۔ آر اے سی نے یہ بھی کہا کہ پیٹرول کی اوسط قیمت مارچ سے 31.1 فیصد بڑھ کر 174.13 پنس فی لیٹر ہوگئی ہے۔

دریں اثنا، اسکائی نیوز نے رپورٹ کیا کہ مغربی ایشیا میں تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور نقل و حمل میں آنے والی رکاوٹوں نے ایندھن مارکیٹ پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ دنیا میں ریفائننگ کی محدود صلاحیت کی وجہ سے دوسرے پیداوار کنندگان بھی ڈیزل کی سپلائی میں کمی کو فوری طور پر پورا کرنے سے قاصر ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اپنی ڈیزل کی ضروریات کا صرف نصف پیدا کرتا ہے اور باقی کو پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ ریفائنریوں کی بندش اور ذخائر میں کمی بیرونی سطح پر آنے والا خلل برطانیہ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔  

امریکہ اس وقت برطانیہ کی ڈیزل کی درآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ سپلائی کرتا ہے، اور واشنگٹن کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندیوں نے مارکیٹ کے لیے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔

آر ایس ایم کے چیف اکانومسٹ تھامس پیو نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے فیصلے سے قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے اور برطانوی سٹیشنوں پر ایندھن کی قلت کا امکان ہے۔ تاہم برطانوی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایندھن کی فراہمی کافی ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مغربی ایشیا سے اس تیل کی مصنوعات کی برآمدات مارچ اور اگست کے درمیان پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں آدھی رہ گئیں اور اسی لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں۔

مغربی ایشیا نے 2025 میں یورپ کی ڈیزل کی درآمدات کا تقریباً 41% فراہم کیا۔ اس وقت، روسی ریفائنریوں پر یوکرین کے ڈرون حملوں نے ملک کی پیداوار میں کمی واقع ہوئي تھی اور ماسکو نے جولائی میں ڈیزل کی برآمدات پر پابندی لگا دی۔

موسم سرما سے پہلے ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سال کے آخر میں خریداری کے سیزن نے اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کی نئی لہر کا خطرہ  پیدا ہے اور برطانوی خاندانوں کی روزی روٹی پر توانائی کا بحران اپنا دباؤ تیزی سے بڑھا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے