یورپ، امریکا کے بعد کی دنیا کے لیے تیار ہو رہا ہے: امریکی دانشور
امریکا کی شکاگو یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے شعبے کے ایک پروفیسر نے کہا ہے کہ یورپ خود کو امریکا کے بعد کی دنیا کے لیے تیار کر رہا ہے۔
امریکا کے ایک استاد سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ نیٹو عملی طور پر اپنی پچھلی سرگرمیوں سے دوری اختیار کر چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جارحیت نے امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے اور یورپی ممالک کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ امریکا کے بعد کے عالمی نظام اور زیادہ خودمختار دفاعی و خارجہ پالیسی اپنانے کے لیے خود کو تیار کریں۔
شکاگو یونیورسٹی کے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر رابرٹ پیپ نے نیٹو کے مستقبل کے بارے میں کہا کہ نیٹو کو وہ تنظیم بنانے والی چیز، جسے ہم پہلے جانتے تھے، شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کی پانچویں شق تھی۔ اس شق کے مطابق اگر کسی رکن ملک پر حملہ ہو اور یہ شق فعال کر دی جائے تو ایک امریکی کمانڈر نیٹو کی تمام فوجوں کی کمان سنبھال لیتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس نظام کا مطلب یہ ہے کہ امریکی، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی افواج کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں اور یہاں تک کہ برطانیہ کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں بھی فیصلہ کرتے ہیں لیکن ایران کی جنگ کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی یورپی ملک دوبارہ اس طرح کے انتظام کو قبول کرے گا۔
پیپ نے خطے کی صورت حال کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانوں کے بارے میں کہا کہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن اپنے جنگی بحری جہاز خلیج فارس میں نہیں بھیجنا چاہتا اور وہ انھیں بحیرۂ عمان میں تعینات رکھنے کو ترجیح دیتا ہے لیکن اس کے برخلاف وہ چاہتا ہے کہ یورپی ممالک کے جنگی بحری جہاز خلیج فارس میں موجود ہوں۔
اس تجزیہ نگار نے کہا کہ یورپ کو اس جنگ کے ایسے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں جسے شروع میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یورپی سب سے زیادہ قیمت چکا رہے ہیں حالانکہ نہ تو اس جنگ میں ان کا کوئی کردار تھا، نہ ہی اس کے بارے میں ان سے مشورہ لیا گیا اور اب بھی کوئی انھیں زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ دوسری جانب ایسی جنگوں میں شرکت کے لیے یورپ کی فوجی صلاحیت محدود ہے۔
پیپ نے کہا کہ یورپ کے سامنے انتخاب یہ ہے کہ استحکام کے حصول کے لیے ہم آہنگ یا متحد خارجہ پالیسی کا راستہ اختیار کرے یا دوبارہ 1930 کی دہائی کے حالات کی طرف لوٹ جائے۔ لہٰذا جب میں کہتا ہوں کہ نیٹو مر چکا ہے تو میرا مطلب یہ نہیں کہ یہ تنظیم باضابطہ طور پر تحلیل ہو چکی ہے، بلکہ نیٹو عملی طور پر پہلے ہی اپنے سابقہ ڈھانچے اور کردار سے آگے نکل چکا ہے۔



