فلسطینی مبصر: الخلیل پر حملہ، امریکی حمایت سے انجام پانی والی ایک سازش کا حصہ
ایک فلسطینی مبصر نے الخلیل پر حملے کو عوام کو کوچ پر مجبور کرنے کی ایک سازش قرار دیا ہے
فلسطینی مبصر عادل شدید نے کہا ہے کہ ان دنوں الخلیل میں صیہونی جو کررہے ہیں، وہ امریکی حمایت سے، تیار ہونے والے ایک منصوبے کا حصہ جس کا مقصد، شمالی غرب اردن اور غزہ کے ساکنین کو ان علاقوں کو خالی کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
اس فلسطینی مبصر کا کہنا ہے کہ غاصب صیہونی یہ سلسلہ جاری رکھیں گے الّا یہ کہ عرب ممالک ٹھوس موقف اختیار کریں۔
عادل شدید نے کہا کہ اگرچہ اس وقت فلسطینی قوم اس سازشی منصوبے کو ناکام بنانے پر قادر نہیں ہے لیکن، اس کو ہرگز تسلیم نہیں کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ سیکورٹی کی بات تو صرف بہانہ ہے، جس کا سہارا اس سرزمین کو فلسطینیوں سے خالی کرانے کے لئے، لیا جارہا ہے، لیکن غاصبوں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اس سے انہیں کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔
اس سے پہلے حماس نے ایک بیان کرکے، الخلیل میں انجام پانے والی مسلحانہ کارروائی کو مقاومت کا دوام قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ سرزمین فلسطین سے قبضہ ختم ہونے تک مقاومت جاری رہے گی۔
جہاد اسلامی فلسطین نے بھی ایک بیان جاری کرکے، دو فلسطینی نوجوانوں کی فائرنگ کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اس کاروائی کا پیغام یہ ہے کہ صیہونی فوجیوں اور آبادکاروں کے جرائم کے جواب میں، مقاومتی کارروائیاں جاری رہیں گی۔



