◷

اسلامی جمہوریہ ایران کے تسدیدی منصوبے

23 اکتوبر 2026

خطے میں توانایی کے شعبے میں ایران کا اپڈیٹڈ ٹارگٹ بینک – 1

تیل کی قیمت میں دوبارہ اضافے نے عالمی توجہ سعودی عرب، امارات، قطر، کویت اور بحرین میں موجود ان بنیادی ڈھانچوں کی طرف مبذول کرائی ہے جو دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور جن میں خلل کے اثرات عالمگیر ہونگے۔

ایران پر امریکہ اور صہیونی رجیم کی مسلط کردہ جنگ کو صرف ایک مہینہ گذرا تھا کہ تیل کی قیمت 113 ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور خطے میں تیل کی 40 تنصیبات متاثر ہوئی تھیں، جب بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول (Fatih Birol) نے کہا تھا کہ "دنیا تاریخ میں توانائی کی سلامتی کے سب سے بڑے خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔”

پہلی قسط:

ٹرمپ نے جنگ کے آغاز سے بار بار ذخائر اور تشہیری ہتھکنڈوں کے ذریعے تیل کی قیمت کو حتیٰ کہ 90 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے لایا۔ لیکن اب جبکہ یمن – سعودی جنگ شدت سے جاری ہے ـ مگر ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست جنگ نہیں چل رہی اور خلیج فارس کی ریاستوں کی تنصیبات بھی نشانے پر نہیں ہیں، ـ تیل کی قیمت ایک بار پھر 113 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی معیشت کے لئے خلیج فارس کے تیل کی اہمیت کو عیاں کرتی ہے اور اگر اس خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہؤا تو یہ تیل کی عالمی منڈی کے لئے دھماکہ خیز ہوگا۔

عالمی منڈیوں کی توانائی کی ضروریات کا ایک اہم حصہ خلیج فارس کی پانچ عرب ریاستوں ‘سعودی عرب، امارات، قطر، کویت اور بحرین’ میں مرکوز ہے۔

فجیرہ ٹرمینل اور حبشان پائپ لائن

بحیرہ عمان کے ساحل پر اور آبنائے ہرمز سے باہر واقع فجیرہ تیل ٹرمینل خطے میں تیل ذخیرہ کرنے، برآمدات اور جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کا ایک اہم مرکز ہے۔

فجیرہ ٹرمینل حبشان-فجیرہ پائپ لائن کے ذریعے ابوظہبی سے منسلک ہے اور امارات اپنے خام تیل کا بڑا حصہ اسی راستے عالمی منڈیوں کو برآمد کرتا ہے؛ اس میں متعدد اور بڑے ٹینکر برتھ ہیں اور یہ خلیج فارس میں ایندھن کی فراہمی کا  سب سے بڑا مرکز ہے۔

اسٹریٹجک حبشان-فجیرہ پائپ لائن (یا ابوظہبی کروڈ آئل پائپ لائن [ADCOP]) روزانہ 1.5 سے 1.8 ملین بیرل تیل منتقل کرتی ہے اور اس کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرکے امارات کی تیل کی برآمدات کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

امارات کے آئل فیلڈز

ابوظہبی کے حبشان علاقے میں واقع آئل فیلڈز اس ریاست کی تیل کی پیداوار میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے