◷

یمن پر سعودی جارحیت

23 اکتوبر 2026

الازہر کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہیں، سعودیوں کے ساتھ جنگ شروع کرنے والے ہم نہیں ہیں، انصاراللہ

یمن کی انصاراللہ تحریک کے ترجمان اور قومی نجات حکومت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ نے بدھ کے روز الازہر کے شیخ احمد محمد الطیب کی جانب سے خطے میں جنگوں کے خاتمے کی دعوت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سعودیوں کے ساتھ جنگ شروع کرنے والے یمنی قوم نہیں ہے۔

یمن کی انصاراللہ تحریک کے ترجمان اور قومی نجات حکومت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے الازہر کی جانب سے خطے میں جنگوں کے خاتمے کی "ذمہ دارانہ اور دانشمندانہ” دعوت کا خیرمقدم کیا اور 2015 سے یمن کے خلاف سعودی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ یمنی قوم کبھی سعودی عرب کے لئے خطرہ نہیں رہی اور نہ ہی اس قوم نے سعودیوں کے خلاف کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا۔

المیادین کی رپورٹ کے مطابق، محمد عبدالسلام نے شیخ الازہر سے مخاطب ہوکر کہا: "یمن اور سعودی عرب کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب سے زیادہ ہنگامہ خیز بحران ہے اور ہم آپ کو جارحیت کے ان حقائق سے آگاہ کرتے ہیں جن کا ہماری قوم کو 2015 سے سامنا ہے۔”

انصاراللہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی قوم کبھی کسی بھی شکل میں ہمسایہ ملک سعودی عرب کے لئے خطرہ نہیں رہی۔

انھوں نے کہا: "ہماری قوم نے کبھی بھی اس ملک کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی۔”

انھوں نے مزید کہا: "ہم نے پہلے ہی یمن کے اندرونی حالات کی نوعیت واضح کی تھی تاکہ سعودی عرب یہ نہ سمجھے کہ یمن کا انقلاب اس ملک کے خلاف چیلنج ہے۔”

محمد عبدالسلام نے یہ بھی یاد دلایا کہ انصاراللہ تحریک کسی بھی سیاسی اختلاف کو بات چیت کے ذریعے حل کے لئے اپنی تیاری کا اعلان کرتی آئی ہے۔ یہی وہ پیغام تھا جو انصار اللہ کے رہنما عبدالملک الحوثی نے سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے دور میں ریاض بھیجا تھا۔

انھوں نے مزید کہا: "یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت سے پہلے یمن کے اندر اختلافات پائے جاتے تھے، چنانچہ ہمارے قائد سید عبدالملک الحوثی نے 2015 کے اوائل میں مجھے سعودی عرب بھیجا تاکہ میں اس ملک کو اطمینان بخش پیغام پہنچا دوں۔”

الازہر کے شیخ احمد الطیب نے اس سے پہلے تمام عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھائی چارے کی روح اور دینی، خونی اور لسانی رشتوں کو مضبوط کریں، عقل اور حکمت کی آواز بلند کریں اور عقل اور مکالمے کی منطق کی طرف آئیں۔

انھوں نے ان تمام جنگی کارروائیوں، تنازعات اور تباہی اور بربادی کو فوری اور مکمل طور پر روکنے کا بھی مطالبہ کیا تھا جو قوموں کے وسائل کو برباد کرتی ہے اور معصوم انسانوں کی جانیں لیتی ہیں۔

شیخ الازہر نے خبردار کیا کہ تفرقہ اور باہمی تصادم امت مسلمہ کی کمزوری، اس کی حرمت کی پامالی، اس پر دوسروں کی دست درازی کا راستہ ہموار کرنے، اس کی کامیابیوں اور حصول یابیوں کی تباہی اور اثاثوں کی بربادی کی اصل وجہ ہے؛ وہ بھی ایسے وقت میں جب امت کو ہر وقت سے زیادہ اپنی صفوں میں اتحاد، ہم آہنگی، انسانی جانوں کے تحفظ اور اپنے وسائل اور دولت میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، نہ کہ مسلمان اپنے وسائل کو جنگوں اور تنازعات میں ضائع کر دے۔

شیخ الازہر نے فوری طور پر مختلف دھاروں کے نمائندوں کی شراکت سے، ثالثی، اور کشیدگی کم کرنے، کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا اور اس کمیٹی کی کوششوں کی حمایت میں الازہر کی جانب سے اپنی زیادہ سے زیادہ صلاحیت استعمال کرنے کی استعداد کا اعلان کیا۔

شیخ الطیب نے اطمینان کا اظہار کیا کہ تمام فریقوں کے پاس اختلافات سے گذرنے اور ماضی کا صفحہ بند کرنے کے لئے ضروری عقل اور صلاحیت موجود ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے