◷

جنگ کی صورت میں انٹرنیٹ کیبلز نشانے پر

22 اکتوبر 2026

جنگ چھڑنے کی صورت میں انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور آئی اے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے: محسن رضائی

ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ مذاکرات رک گئے ہیں اور اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو خطے میں انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور آئی اے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

تہبریگیڈیر جنرل محسن رضائی نے ایران کے خلاف دھمکیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ سبھی کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے خلاف اقدام کی قیمت چکانا پڑے گی۔ اگر سفارت کاری یہ احساس پیدا کرسکے تو ہم سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اگر جنگ چھڑتی ہے تو ایران کے پاس جواب دینے کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں۔

"ڈراپ سائٹ” کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے گزشتہ مراحل میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال نہیں کیں۔ جنگ کی شدت کے مطابق ہم نے مزید صلاحیتیں کارروائیوں میں شامل کی ہیں اور اگلے مرحلے کے لیے بھی تیار ہیں۔ رضائی نے کہا کہ موجودہ صورت حال کا جاری رہنا اسٹریٹجک نتائج کا باعث بنے گا، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ آئندہ تین سال تک توانائی کی منڈیاں پرسکون نہیں ہوسکیں گی۔ انھوں نے کہا کہ اس جنگ کے جاری رہنے سے تعلقات کی صورت حال ایران کے حق میں بدل گئی ہے کیونکہ خلیج فارس کے ساحلی ممالک تیزی سے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ ان ممالک کو یقین ہوگیا ہے کہ امریکی فوج اپنے اڈوں کا دفاع کرنے کے بھی قابل نہیں جبکہ ان ممالک کو توقع تھی کہ امریکا ان کا دفاع کرے گا۔

رضائی نے اس انٹرویو میں کہا کہ خطے میں امریکا کے قیمتی اثاثے موجود ہیں۔ جنگ چھڑنے کی صورت میں انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات بھی نشانے پر آسکتی ہیں۔ اگر دوبارہ جھڑپیں شروع ہوئیں تو ہمارے پاس زیادہ وسیع اسٹریٹجی ہوگی۔ اگر ایران کے خلاف ایک اور جنگ شروع کی گئی تو خطے کے ممالک میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے طریقوں کے بارے میں ہماری معلومات کے پیش نظر ان کی ہلاکتوں کی تعداد دس گنا زیادہ ہوگی۔

بریگیڈیر جنرل رضائی نے کہا کہ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کی ایران کی تجویز کو التوا میں ڈال دیا ہے اور مذاکرات رک گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے جو تماشا کھڑا کر رکھا ہے، اس کے برخلاف ان کے پاس ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا کوئی واضح اور عملی منصوبہ نہیں اور اسی مسئلے نے سفارتی تعطل پیدا کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے