ناروے میں ایران کے سفیر: جنگ تہران کی خواہش نہیں لیکن ہم اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں
ناروے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تہران جنگ کا خواہاں نہیں، واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی نئی فوجی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور جنگ شروع کرنے والوں کو دوبارہ اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
ناروے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر علیرضا جہانگیری نے اس ملک کے ٹی وی چینل این آر کے (NRK) سے گفتگو میں امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں زور دیا: "ہم ایسی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ جنگ ہمارا انتخاب نہیں ہے، لیکن اگر وہ کوئی اور جنگ شروع کرنا چاہیں تو انہیں اس کی قیمت بھی چکانی پڑے گی۔”
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی آمادگی کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہماری فوجیں گزشتہ جنگ میں اپنی تیاری کا مظاہرہ کر چکی ہیں اور اب وہ آئندہ کسی بھی ممکنہ جنگ کے ردعمل اور جواب کے لیے ماضی سے زیادہ تیار ہیں۔
جہانگیری نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایران اس صورت میں جواب دے گا جب امریکا ہمسایہ ممالک کی سرزمین استعمال کر کے ایران کی شہری تنصیبات پر حملہ کرے، واضح کیا کہ اگر حملے ان ہمسایہ ممالک کی سرزمین سے ہوں گے، تو ہم یقیناً جواب دیں گے۔
جہانگیری نے اس انٹرویو کے ایک اور حصے میں جنگ کے خاتمے کی شرائط کے بارے میں کہا کہ گزشتہ مہینوں کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی فریق فوجی کارروائی کے ذریعے مکمل فتح حاصل نہیں کر سکتا اور تنازعے کا جاری رہنا نہ صرف ایران بلکہ خطے کے ممالک اور عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا: ہمیں جنگ کے خاتمے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے، نہ کہ محض ایک عارضی جنگ بندی۔ پہلا قدم جنگ کا خاتمہ اور ایسی ضمانتیں فراہم کرنا ہے کہ ایسی جنگ دوبارہ نہ ہو۔
ناروے میں ایران کے سفیر جہانگیری نے آبنائے ہرمز کی صورتحال اور بعض ممالک کی اسے دوبارہ کھولنے کی درخواست کے بارے میں میزبان کے سوالات کے جواب میں بھی زور دیا کہ ایران سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے حقوق سے محروم رہتے ہوئے بحری آمدورفت کے معمول کے حالات قائم کرے، جبکہ وہ اب بھی پابندیوں کے دباؤ میں ہے۔
انہوں نے واضح کیا: یہ منصفانہ نہیں ہے کہ دیگر ممالک آبنائے ہرمز کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کریں، لیکن ایران اپنے مفادات اور حقوق سے محروم رہے۔



