پاکستانی سینیٹر کا حکومت کو انتباہ: یمن کی جنگ میں شامل نہ ہوں
پاکستان کی سینیٹ کے رکن علامہ ناصر عباس جعفری نے سعودی عرب اور یمن کے تنازعے کے حل کے لیے ڈپلومیسی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسلام آباد کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی جنگ میں داخل ہوئے بغیر، فریقین کے درمیان ثالثی کے ذریعے اپنی نیک نیتی کا مظاہرہ کرے۔
= مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ اور پاکستان کی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس عام سے خطاب میں خبردار کیا ہے کہ یمنیوں پر مسلط کی گئی جنگ عالم اسلام میں وحدت کے ماحول کو تباہ کرنے کی ایک سازش ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یمنی مذاکرات کے حامی ہیں لیکن زور زبردستی کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔
پاکستان کی مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ نے اس ملک کی حکومت سے خطاب کرتے ہوئے کہا:2015 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں یمن کی جنگ میں پاکستان کی شرکت کی مخالفت کی گئی تھی اس لیے حکومت کو اس کی پابند رہنا چاہیے اور ملک کو نئی جنگ میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔
سینیٹر جعفری نے زور دیا: یمن کی انصاراللہ تحریک اس ملک کے عوام اور سرزمین کی محافظ ہے، وہ یمن کے دفاع میں پیچھے نہیں ہٹیں گے لیکن وہ مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اس لیے پاکستان کی حکومت کو نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاض اور صنعا کے درمیان ثالثی کرنا چاہیے۔
پاکستان کی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کے خلاف جنگ کے دوران سعودی عرب کی سرزمین پر پاکستانی افواج کی موجودگی کی وجہ کے بارے میں ایک اجلاس منعقد کر کے وضاحت دے۔
واضح رہے پاکستان میں بہت سے سیاسی تجزیہ نگار اور خارجہ تعلقات کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ فوجی تعاون کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے ، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خطے کے دیگر محاذوں میں خود کو نہیں پھنسانا چاہیے۔



