جعلی تاریخ بیان کرنے کا مقصد، امریکی جنگ پسندی کا جواز پیش کرنا ہے
ایک روسی تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے تاریخی اور سیاسی حقائق کے منافی بات کی ہے
روسی تجزیہ نگار الیکسی یاروشنکو نے منگل کو ماسکو میں ارنا کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے ایتھنز میں امریکا اور یونانی تمدن میں تعلق پیدا کرنے کے لئے تاریخ میں اس طرح تحریف کی ہے کہ اگر یونان قدیم کے لوگ زندہ ہوتے تو وہ بھی حیرت زدہ ہوجاتے۔
انھوں نے کہا کہ روبیو نے درحقیقت اس تحریف کے ذریعے امریکی جنگ پسندی اور اقوام کی دولت وثروت کی لوٹ مار کا جوازپیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس روسی تجزیہ نگار نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ تہذیبوں کے ٹکراؤ اور جنگ پر امریکا کیوں اتنا مصر ہے اور دیگر مغربی ممالک اس کی پیروی کیوں کررہے ہيں۔
الیکسی یاروشنکو نے کہا کہ اس کا جواب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ اس کے ذریعے وہ لوٹ مار اور غارتگری پر مبنی اپنے اہداف کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب بھی امریکی تہذیبوں کے اختلاف اور ٹکراؤ کی بات کرتے ہيں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں کسی دوسرے ملک کے تیل کے ذخائر پر ہیں۔ ان کی یہ روش ماضی سے اب تک جاری ہے۔
روسی تجزیہ نگار یاروشنکو نے آخر میں کہا کہ ہم تسلط پسندی کے مقابلے میں ایرانیوں کی استقامت و پائیداری کی قدردانی اور ان کی کامیابی کی آرزو کرتے ہیں۔



