◷

آبنائے ہرمز ،امریکی صدر کا دعویٰ مسترد

12 اکتوبر 2026

 ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی معمول پر واپسی کا دعویٰ زمینی حقائق کے خلاف ہے

 اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج پیر 12 اکتوبر کو  اپنی ہفتے وار پریس کانفرنس میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی سمندری محاصرہ اوراقتصادی جنگ جاری ہے، آبنائے ہرمز معمول پر واپس نہیں آسکتی۔

   اسماعیل بقائی نے آج اپنی پریس کانفرنس میں، پہلے صوبہ سیستان وبلوچستان کی پولیس کی ڈپٹی چیف کی شہادت کی تعزیت پیش کی ۔

    انھوں نے کہا کہ وہ سیستان بلوچستان پولیس کے ثقافتی امور کی انچارج تھیں اور انھوں نے آئی ٹی میں ڈاکٹریٹ کی تھی اور ایران کی قابل فخر خواتین میں سے ایک تھیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کے دعوؤں کے بارے میں کہا کہ امریکیوں کے دعوے زمینی حقائق سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی کوئی تاثیر نہیں ہے اور ایران دباؤ ڈالنے کے اس حربے سے محروم ہوگیا ہے، لیکن ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔  

انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس قسم کے دعووں کا بازار پر کوئی اثر پڑسکتا ہے کیونکہ بازار کے اپنے قوانین اور اصول وضوابط ہیں اور بین الاقوامی حالات نیزاپنی ایندھن کی ضرورت پوری کرنے کے لئے دوسرے ملکوں سے ان کا التماس بھی حقیقت برملا کررہا ہے۔

   ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم ایک بار پھر واضح کردیں کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کا مقصد،اس کو دباؤ کے حربے میں تبدیل کرنا ہے۔ 28 فروری کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ میں جو بھی تبدیلی آئی ہے، وہ ایران پر امریکا اور صیہونی حکومت کے حملوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا بڑا حصہ ایران کے ساحل سے ملا ہوا ہے اور ہمارے خلاف حملوں کے لئے اس اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ سے استفادہ کیا گیا جس کے بعد ہم نے بین الاقوامی اصول و ضوابط کے مطابق ضروری تدابیر اختیار کی ہیں۔

  اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں امریکی وزیرخارجہ کے دعووں کے بارے میں کہا کہ ایرانیوں نے ہمیشہ مقابلہ کیا ہے اور رقابت اور افہام و تفہیم دونوں راستے اختیار کئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ  ہم نے دوسروں کی نفی اور نابودی میں اپنی طاقت اور زندگی تلاش نہیں کی ہے بلکہ ہم نے اپنے حریفوں سے سمجھوتے بھی کئے ہیں۔

 اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر قرون وسطیٰ  کے تاریک دور میں ایرانی اور مسلمان سائنسدانوں اور دانشوروں نے یونانی افکار کے ترجمے اور تشریح نہ کی ہوتی تو آج مغرب کے پاس فکر نام کی کوئی چیز نہ ہوتی۔

 انھوں نے کہا کہ آج کے امریکا کا یونان سے کیا تعلق ہے؟ یونان نے صرف جنگیں نہیں کی ہیں، یونانی صرف جنگجو نہیں تھے بلکہ ان کے پاس فلسفہ اور ثقافت بھی تھی۔

ترجمان وزارت خارجہ نے ایرانی تمدن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی تہذیب و تمدن جوڑنے اور تعمیر پر استوار اور جاری رہا ہے۔ حافظ ایرانی تمدن کی قابل فخر ہستیوں میں سے ایک ہیں۔

 انھوں نے کہا کہ میں مسٹر روبیوکے مشیروں سے درخواست کروں گا کہ ہسپانوی اور کیوبا کی زبان میں بھی دیوان حافظ کا ترجمہ موجود ہوگا، انہیں دیوان حافظ پیش کریں تا کہ وہ ایرانی تہذیب و ثقافت کی لطافت سے واقف ہوسکیں۔ امیدہے کہ اس کے بعد، ہم ان سے اس قسم کی باتیں نہيں سنیں گے۔  

 اسماعیل بقائی نے اپنی پریس کانفرس میں جزیرہ نمائے عربستان کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ  ہم نے بارہا اعلان کیا ہے کہ دونوں فریقوں( سعودی عرب اور یمن) کے درمیان گفتگو میں مدد کے لئے مساعی جمیلہ کے لئے تیار ہیں۔

 انھوں نے کہا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ علاقے میں کشیدگی میں شدت اور اس کے دوام سے صرف صیہونی حکومت کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ بنابریں ہم پسند نہیں کرتے کہ  دو اسلامی ملکوں کے درمیان جنگ وخونریزی جاری رہے۔ علاقے میں، امریکا اور صیہونی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے یونہی کافی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

 ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنا یہ موقف بیان کیا ہے کہ یمنی عوام کو دباؤ، پابندیوں اور محاصرے کے بغیر باشرف زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان دس بارہ برسوں میں ہم نے جو دیکھا ہے وہ نہ اسلامی لحاظ سے قابل توجیہ ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین کے لحاظ سے۔

اسماعیل بقائی نے اسی کے ساتھ بتایا کہ ایران نے گزشتہ رات ایک بار پھر بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرنے میں  مدد کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ نے اس سوال کے جواب میں کہ بعض ملکوں میں ایران کے این پی ٹی سے نکل جانے کے امکان اور اس سلسلے میں ایران میں جو باتیں کی جارہی ہیں، ان پر تشویش پائی جاتی ہے، اس بارے میں کیا کہیں گے؟ کہا کہ یہ تشویش خود ان کی پیدا کردہ ہے۔ خود کردہ را علاجے نیست۔خود اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں ہے۔

 انھوں نے کہا کہ  ایران کے دانشوروں، عوام اور اراکین پارلیمان میں  یہ منطقی سوال پایا جاتا ہے کہ اس معاہدے  کی رکنیت کا فائدہ کیا ہے؟ کوئی اس کا جواب دے۔ خود انھوں نے این پی ٹی کے کمزور ہونے کے اسباب فراہم کئے ہیں۔ صرف ایران میں ہی نہیں بلکہ پورے  علاقے اور دنیا میں۔

  بحث یہ کی جارہی ہے کہ کیا ایٹمی عدم پھیلاؤ کا معاہدہ این پی ٹی، ایٹمی عدم پھیلاؤ کا ضامن ہے؟

  اسماعیل بقائی نے کہا کہ  این پی ٹی کے تین اہداف تھے، ایٹمی ترک اسلحہ، ایٹمی اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنا اور پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی توانائی سے ملکوں کے بہرہ مند ہونے کی ضمانت ۔ یہ وہ موضوع ہے جو ہمارے لئے اہمیت رکھتا ہے۔

 انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں اہداف میں ناکامی اور رکاوٹ سے دوچار ہوا ہے۔ یہ رکاوٹیں ہم نے نہیں کھڑی کی ہیں بلکہ ان ملکوں  اور حکومتوں کی جانب سے ہیں جو اس ادارے کو چلاتی ہیں۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ آپ فرانسیسی صدر اور اس ملک کے دیگر حکام کی باتوں پر توجہ دیں، فخر کے ساتھ نئے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی آزادی محفوظ رہے تو خوفناک بنیے۔  دوسرے ملکوں پر اپنا خوف بٹھائیے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک طرف تو آپ دنیا کو یہ پیغام دیں اور دوسری طرف ایران میں جاری اس بحث پر تشویش ظاہر کریں کہ این پی ٹی کی رکنیت باقی رکھنے کی ضرورت اور افادیت کیا ہے۔   

انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں مختلف اوازیں پائی جاتی ہیں، اخبارات آزاد ہیں اور عوام بصیرت اور ہوشیاری کے ساتھ گزشتہ دوبرس کے تغیرات کا جائزہ لے رہے ہیں، ایک ایسے ملک میں ان موضوعات پر اس قسم کی بحث فطری ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ان کے سامنے وہ جرائم رکھنے کی ضرورت ہے جو کئے گئے ہیں۔ ہمارے رہبر نے ایٹمی اسلحہ بنانے اور رکھنے کے حرام ہونے کا فتویٰ صادر کیا تھا۔ یہ فتویٰ صرف ایک سیاسی عہدار کا فتویٰ نہیں تھا، بلکہ یہ اعلی ترین مذہبی ہستی کا فتویٰ تھا۔ تم نے اس ہستی کو دہشت گردی کا نشانہ بناکر شہید کردیا اور اس کے بعد کہتے ہو کہ ہمیں ایران میں ایٹمی اسلحے  کی بات کئے  جانے پر تشویش ہے۔ تمھاری تشویش بے جا ہے۔ کیونکہ اس صورتحال کے اسباب تم نے خود فراہم کئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے