تہذیبوں کی مقابلہ آرائی کے شعلے بھڑکانے والے اس کے نتائج سے محفوظ نہیں رہیں گے
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے کہا ہے کہ تہذیبوں کی مقابلہ آرائی کے شعلے بھڑکانے والے اس کے خطرناک نتائج سے محفوظ نہیں رہیں گے
اسلامی جمہوریہ ایران کے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر ابن الرضا نے وزارت دفاع کے صنعتی اداروں کے سربراہوں کی نشست میں کہا ہے کہ ایرانی قوم، ایسی تاریخ اور تمدن کی مالک ہے جس کی جڑیں بہت محکم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ علم، تہذیب وتمدن، افکار اور حکمرانی کے نظام کے مالک یہ سرزمین، معاصر سیاسی ڈھانچوں اور حکومتوں کی عمر سے بہت ماورا ہے۔ لیکن آج جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ صرف ماضی پر افتخار نہیں ہے بلکہ ہمیں اپنی سائنسی، صنعتی اور دفاعی توانائیوں نیز ملک کی تاریخی میراث اور ملت ایران کے حق خود ارادیت کا تحفظ اور دفاع کرنا ہے۔
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے ایران اور ایرانی تمدن کے بارے میں امریکی حکام کی عقل و خرد سے عاری باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج جو لوگ ایران اور ملت ایران کے تہذیبی تشخص کے بارے میں معاندانہ اور کینے سے بھری باتیں کررہے ہیں، وہ تاریخ نہیں جانتے، اپنی غلط اور ناقص فہم کے ساتھ آگ سے کھیل رہے ہیں اور یہ ان کی بہت بڑی اور خطرناک غلطی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایرانی تمدن آج اور کل کی دین نہیں ہے کہ کینہ توزی اور جہالت کی باتوں سے مخدوش ہوجائے اور اس کو نظرانداز کردیا جائے۔
بریگیڈیئر ابن الرضا نے کہا کہ دشمن کی جسارت سے زیادہ خطرناک تا ریخی اور ثقافتی اختلافات کو سیاسی اور فوجی مقابلہ آرائی کی بنیاد میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
انھوں نے کہا کہ تہذیبی مقابلہ آرائی آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے اور یہ ایسی آگ ہے کہ جس کو شروع کرنے والے، اس کی وسعت اور خاتمے کے لئے حدود کا تعین نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس کے نتائج دوسروں تک محدود رکھ سکتے ہیں۔
بریگیڈیئر ابن الرضا نے کہا کہ جو لوگ تہذیبوں کے ٹکراؤ کی بات کرتے ہیں، انہیں صراحت کے ساتھ بتا دینے کی ضرورت ہے کہ ایران نے اپنا تشخص کسی سے ادھار نہیں لیا ہے اور نہ ہی اس کی حفاظت کے لئے اس کو کسی کی اجازت کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا وہ اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ تہذیبی یلغار سے ایرانی قوم کو پسپائی پر مجبور کرسکتے ہیں تو انھوں نے ایران کی تاریخ اور اس قوم کے عزم و ارادے کو نہیں پہچانا ہے۔ البتہ ان کی اس طرح کی باتیں ان کی لاچاری اور شکست کا نتیجہ ہیں۔



