ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ پڑوسیوں کو اپنی قلمرو جارحین کے اختیار میں نہیں دینی چاہئے
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ سبھی پڑوسیوں بالخصوص خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ساتھ تعمیری اور اچھے روابط، ہماری مستقل پالیسی کا حصہ ہے۔
انھوں نے اسی کے ساتھ کہا کہ خطے میں امریکی فوجیوں کا وجود بد امنی کا عامل ہے اور ہمارے پڑوسی ملکوں کو اپنی قلمرو جارحین کے اختیار میں نہیں دینا چاہئے۔
کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ علاقے میں امن وثبات علاقائی ملکوں کے ذریعے ہی قائم ہوسکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 40 روزہ جنگ نے ثابت کردیا کہ امریکی فوجیوں کا وجودہ حتی ان ملکوں کے لئے بھی بدامنی کا عامل ہے، جن کی قلمرو میں امریکا نے اپنے فوجی اڈے بنا رکھے ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ کوئی بھی پڑوسی ملک اپنی قلمرو، ایران کے خلاف جارحیت کے لئے،جارحین کے اختیار میں نہیں دے گا ورنہ دوسری صورت میں ایران اپنے دفاع میں ضروری تدابیر اپنائے گا۔
انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ پڑوسی ملکوں نے 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں سے سبق حاصل کیا ہوگا اور امن و سلامتی کے لئے، بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے، باہمی تعاون کا راستہ اختیار کریں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ اغیار کے جنگی جہازوں اور بیڑوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے اور انہیں ایران کی آبی حدود سے میلوں دور رہنا چاہئے۔
انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی رفت وآمد کے راستوں کے بارے میں ایران اور عمان کا دو جانبہ سمجھوتہ انصاف پر مبنی ایک اہم قانونی اور تکنیکی اقدام ہے اور ہم جہازرانی کی بین الاقوامی تنظیم میں اس کو رجسٹر کرانا چاہتے ہیں۔
کاظم غریب آبادی نے اسی کے ساتھ وضاحت کی کہ اس سمجھوتے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کے کھلنے کا انحصار امریکا کی جانب سے اپنے عہدوپیمان کی پابندی پر ہے۔



