◷

امریکی حمایت سےجاری غزہ نسل کشی

12 اکتوبر 2026

صدرپزشکیان:غزہ میں امریکا کی حمایت سے نسل کشی جاری ہے

 صدر ایران نے کہا ہے کہ آج غزہ میں امریکا کی حمایت سے جو ہورہا ہے وہ نسل کشی ہے

 صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پیر 12 اکتوبرکوڈاک کے عالمی دن کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران، کہا کہ جنگ کرنے والے کو اس سے مقابلہ کرنا چاہئے جو میدان جنگ میں ہے۔

 انھوں نے کہا کہ غزہ میں عورتوں، بچوں، اسپتالوں میں زیر علاج بیماروں اور سن رسیدہ افراد کا کیا گناہ ہے کہ جو ان کی جان لی جارہی ہے؟

  انھوں نے کہا کہ غزہ میں روٹی اور پانی تک لوگوں کی دسترسی روک دی گئی ہے اور زندگی کی بنیادی ترین ضرورت کی اشیا سے بھی محروم کرکے انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

صدر ایران نے کہا کہ اس وقت امریکا کی حمایت سے جو ہورہا ہے، وہ در حقیقت نسل کشی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دنیا والے دیکھ رہے ہیں، حتی انسانیت اور انسانی حقوق کے دفاع کے دعویدار بھی ان المناک واقعات کو دیکھ رہے ہیں اور نہ صرف یہ کہ بہت آسانی سے نظرانداز کرر ہے ہیں بلکہ اسلحے فراہم کرکے ان جرائم  میں مدد کررہے ہیں، یہ واقعی شرمناک ہے۔

صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہمارے ملک میں یا دنیا میں کہیں بھی اگر کسی وجہ سے کچھ ہوجاتا ہے تو وہ ہنگامہ کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

انھوں  نے کہا کہ اگر تمھارا دعویٰ صحیح ہو تب  بھی ہم نے ایک فرد کے انسانی حقوق کو نظرانداز کیا ہے، تم سبھی انسانوں کے انسانی حقوق پامال کررہے ہو۔ تم اپنے علاوہ کسی بھی انسان کو اہمیت نہیں دیتے۔

صدرایران نے کہا کہ وہ اس سرزمین پر، اس کی مٹی اور پانی پر قبضہ کرنا چاہتےہیں اور اس حقیقت کو بیان کرنے میں انہیں کوئی عار نہیں ہے۔ وہ صاف کہتے ہیں کہ ہم ان علاقوں کا تیل اور اس کے ذخائر اپنی ملکیت میں لینا چاہتے ہیں۔

 صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ وہ اپنے اہداف کے لئے بے گناہ انسانوں کا قتل عام کرتے ہیں اور کتنے شرم کی بات ہے کہ وہی لوگ اقوام متحدہ میں انسانیت اور علم و دانش کی بات کرتے ہیں۔ وہ دانش جو بے گناہ انسانوں کے قتل عام کا وسیلہ ہو، باعث ننگ وعار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے